النور آية ۴۱
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّيْرُ صٰٓـفّٰتٍۗ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗۗ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ
طاہر القادری:
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ (سب) اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے (بھی فضاؤں میں) پر پھیلائے ہوئے (اسی کی تسبیح کرتے ہیں)، ہر ایک (اللہ کے حضور) اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جانتا ہے، اور اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو وہ انجام دیتے ہیں،
English Sahih:
Do you not see that Allah is exalted by whomever is within the heavens and the earth and [by] the birds with wings spread [in flight]? Each [of them] has known his [means of] prayer and exalting [Him], and Allah is Knowing of what they do.
1 Abul A'ala Maududi
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلا ئے اڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے
2 Ahmed Raza Khan
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے سب نے جان رکھی ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح، اور اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے،
3 Ahmed Ali
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے اور پرند جو پر پھیلائے اڑتے ہیں سب الله ہی کی تسبیح کرتے ہیں ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح سمجھ رکھی ہے اور الله جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں
4 Ahsanul Bayan
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے (١)۔
٤١۔١ یعنی اہل زمین و اہل آسمان، جس طرح اللہ کی اطاعت اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، سب اس کے علم میں ہے، یہ گویا انسانوں اور جنوں کو تنبیہ ہے کہ تمہیں اللہ نے شعور اور ارادے کی آزادی دی ہے تو تمہیں تو دوسری مخلوقات سے زیادہ اللہ کی تسبیح و تحمید اور اس کی اطاعت کرنی چاہیئے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ دیگر مخلوقات تو تسبیح الٰہی میں مصروف ہیں۔ لیکن شعور اور ارادہ سے بہرہ ور مخلوق اس میں کوتاہی کا ارتکاب کرتی ہے۔ جس پر یقینا وہ اللہ کی گرفت کی مستحق ہوگی۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
6 Muhammad Junagarhi
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے، لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے پرندے بھی ہر ایک اپنی اپنی (مخصوص) نماز و تسبیح کو جانتا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے لئے زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اور فضا کے صف بستہ طائر سب تسبیح کررہے ہیں اور سب اپنی اپنی نماز اور تسبیح سے باخبر ہیں اور اللہ بھی ان کے اعمال سے خوب باخبر ہے
9 Tafsir Jalalayn
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سب پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تسبیح (پاکی) میں نماز بھی داخل ہے اور پرندے (بھی) آسمان اور زمین کے درمیان حال یہ ہے کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں طیر طائر کی جمع ہے، صَافَّاتٍ حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ اپنے بازو کھولے ہویئے ہیں سب کو اپنی دعاء اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے، اس میں ذوالعقول کو (غیر ذوالعقول پر) غلبہ ہے اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی ملک ہیں بارش اور رزق اور نباتات کے خزانے اور اللہ ہی کی طرف مرجع ہے کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے یعنی نرمی سے چلاتا ہے پھر ان بادلوں کو باہم ملا دیتا ہے یعنی بعض کو بعض کے ساتھ ملا دیتا ہے چناچہ متفرق ٹکڑوں کو (ملا کر) ایک ٹکڑا کردیتا ہے پھر ان کو تہہ بہ تہہ کردیتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے اس کے درمیان سو راخوں سے نکلتی ہے اور بادل سے یعنی بادل کے پہاڑ جیسے (بڑے بڑے) ٹکڑوں سے کچھ اولے برساتا ہے فیھا ای فی السماء، فیھا اعادۂ جار کے ساتھ السماء سے بدل ہے اور مِنَ السَّماءِ میں من زائد ہے پھر ان کو جن پر چاہتا ہے گر اتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس کو ہٹا دیتا ہے اس بادل کی بجلی کی چمک سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی سلب کرلے گی چمک کو دیکھنے والی آنکھوں کی روشنی کو، یعنی اچک لے گی اور اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے یعنی ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کے بدلے میں لاتا ہے بلاشبہ اس ادل بدل میں اصحاب علم و دانش کیلئے اللہ کی قدرت پر دلالت ہے اور اللہ نے ہر چلنے والے یعنی جا ندار کو پانی یعنی نطفہ سے پیدا کیا تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیٹ کے بل سرکتے ہیں جیسا کہ سانپ اور حشرات الارض اور بعض ان میں سے چار پیروں پر چلتے ہیں جیسا کہ مویشی اور چوپائے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر شئ پر قادر ہے اور بلاشبہ ہم نے واضح کرنے والی آیات نازل کیں وہ قرآن ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے راہ مستقیم یعنی دین اسلام کی طرف ہدایت فرماتا ہے اور یہ منافقین دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر یعنی اس کی توحید اور اس کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے، یعنی (دل سے) تصدیق کی اور ان دونوں نے جو حکم کیا اس کی ہم نے اطاعت کی پھر اس کے بعد ان میں کی ایک جماعت اس (حکم) سے اعراض کرتی ہے اور یہ اعراض کرنے والے بالکل مومن نہیں ہیں یعنی ایسا عہد کرنے والے نہیں ہیں کہ جس میں ان کے قلب و لسان میں مطابقت ہو اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلاتا ہے وہ رسول جو خدا کی طرف سے مبلغ ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں کا ایک گروہ آپ کے پاس آنے سے اعراض کرتا ہے اور اگر ان کا (کسی پر) حق ہو تو فوراً سر تسلیم خم کئے ہوئے چلے آتے ہیں آیا ان کے دلوں میں مرض کفر ہے ؟ یا یہ آپ کی نبوت کے بارے میں شک میں پڑے ہیں، یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول فیصلے میں ان پر ظلم کرے گا ؟ یعنی ان پر فیصلے میں ظلم کیا جائے گا ؟ نہیں یہ بات نہیں بلکہ یہی ظالم ہوئے ہیں حکم سے اعراض کرکے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
قولہ : اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السّمٰواتِ وَالَارضِ ہمزہ تقریر کیلئے ہے اور رویت سے رویت قلبی مراد ہے اس لئے کہ تسبیح کا تعلق بصر و نظر سے نہیں ہے بلکہ قلب و بصیرت سے ہے، مطلب یہ ہے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ آسمانوں اور زمین کی مخلوق اللہ کی تسبیح و تقدیر بیان کرتی ہے اور پرند بھی فضاء میں پر پھیلائے ہوئے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں مَنْ کا استعمال ذوالعقول کو غیر ذوالعقول پر غلبہ دینے کے اعتبار سے ہے ورنہ تو مخلوق میں دس حصوں میں سے ایک حصہ ذوالعقول ہیں جن میں انسان، جن، و ملائکہ سب داخل ہیں اور باقی غیر ذو العقول ہیں۔ قولہ : ومِن التَّسبیح صلوٰۃ کے اضافہ کا مقصد یہ ہے کہ تسبیح سے مراد انقیاد و خضوع ہے اور صلوٰۃ بھی منجملہ انقیاد و خضوع کے افراد سے ایک فرد ہے، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے قول کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاتَہٗ وتسبیحہٗ کیلئے تو طیہ و تمہید بھی ہے طَیْرٌ طائرٌ کی جمع ہے، جیسے رَکْبٌ رَاکِبٌ کی جمع ہے الطیرُ کا عطف مَنْ فی السَّمٰوٰتِ ومَن فی الارض پر ہے
سوال : اس عطف سے عطف الشئ علیٰ نفسہٖ لازم آتا ہے، اس لئے کہ مَن فی السَّمٰوٰتِ ومَن فی الارض میں طیر بھی داخل ہیں، لہٰذا معطوف اور معطوف علیہ ایک ہی ہوئے بَینَ السَّمَاءِ والارضِ سے مذکورہ اعتراض کا جواب دینا مقصد ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ ایک نہیں ہیں بلکہ ان میں مغایرت ہے اسلئے کہ معطوف علیہ سے آسمانوں اور زمین کی مخلوق مراد ہے اور پرندے جب پر پھیلائے فضاء میں پرواز کرتے ہوئے ہوتے ہیں تو اس وقت وہ نہ زمین میں ہوتے ہیں اور نہ آسمان میں، لہٰذا عطف الشئ علیٰ نفسہٖ کا شبہ ختم ہوگیا۔ قولہ : صافَّاتٍ طیرٌ سے حال ہے، الطیرُ مَنْ پر عطف کی وجہ سے مرفوع ہے اور صافاتٍ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (اس میں اور ترکیبیں بھی ہوسکتی ہیں مگر سہل ترین اور راجح یہی قول ہے) کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صلاتَہٗ وتسبیحہٗ ، عَلِمَ صلاَتَہ اور تسبیحہٗ تینوں کی ضمیروں میں اقوال مختلف ہیں، ایک قول یہ ہے کہ تینوں ضمیروں کا مرجع کلٌ ہے ای کُلٌّ عَلِمَ صلاتَہٗ وتسبیحَہٗ یہ صورت توافق ضمائر کی وجہ سے سب سے بہتر ہے، دوسرا قول عَلِمَ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہو اور صلاتہٗ و تسبیحَہٗ کی ضمیریں کلٌّ کی طرف راجع ہوں (جمل) ۔
قولہ : ثُمَّ یُؤَلِّفُ بینَہٗ یہاں یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ بَینَ متعدد کے درمیان استعمال ہوتا ہے، اور یہاں سحاب کے لئے استعمال ہوا ہے، حالانکہ سحاب واحد ہے مفسر علام نے اپنے قول یضم بعضہ الی بعض کا اضافہ کرکے مذکورہ اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کردیا، ای قِطَعَ سَحَابٍ یعنی مضاف محذوف ہے (قِطَعَ جمع قطعۃٍ ) خیال رہے کہ مذکورہ جواب کی ضرورت اس وقت پیش آئے گی جب سحاب کو مفرد مانا جائے اور اگر سحابٌ کو سَحَابَۃٌ کی جمع یا اسم جنس مان لیا جائے تو نہ کوئی اعتراض واقع ہوگا اور نہ کسی جواب کی ضرورت پڑے گی۔
قولہ : یُزْجِیْ ازجاءً سے مضارع واحد مذکر غائب ہے وہ نرمی کے ساتھ چلاتا ہے۔ قولہ : رُکامًا یہ اسم ہے بمعنی تہہ بہ تہہ یَخْرُجُ مِنْ خِلاَلِہٖ یہ جملہ الوَدَقُ سے حال ہے۔ قولہ : خِلاَلٌ کو بعض حضرات نے مفرد کہا ہے بروزن حِجَابٌ اور بعض حضرات نے جمع کہا ہے خلال جمع خلل بروزن جِبَالٌ جمع جبلٍ ، بمعنی سوراخ۔ قولہ : یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنَ الجِبَالِ فِیْھَا مِنْ بَرْدٍ مِنَ السَّمَاءِ مِن ابتدائیہ ہے ای مبتَدأ منَ السَّحابِ فَاِنَ کُلَّ مَا عَلَاکَ فَھُوَ سماءٌ۔ قولہ : مِنَ الجِبَالِ ای قِطَع عِظَامٍ تُشْبِہُ الجِبَالَ فی العَظْمِ ۔
قولہ : فِیھا ای فی السَّمآء والجاروالمجرور فی موضع الصفۃ۔ قولہ : مِنْ بردٍ میں من تبعیضیہ ہے، ای یُنَزِّلُ مُبتدَأ مِنَ السَّحابِ من جِبالٍ کائِنَۃٍ فیھا بعض بردٍ (او) بردًا۔
ترجمہ : پہاڑ جیسے بادلوں کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے اولے برساتا ہے جو کہ بادلوں میں ہوتے ہیں ای وینزل من السحاب الذی ھو کا مثال الجبال بردًا، مذکور آیت میں مِن تین مرتبہ استعمال ہوا ہے، پہلا یعنی من السماء میں یہ باتفاق مفسرین ابتدائیہ ہے، اور دوسرا مِنَ الجبال میں کہا گیا ہے زائدہ، کہا گیا ہے تبعیضیہ، کہا گیا ہے ابتدائیہ اور الجبالِ من السماء سے اعادۂ جار کے ساتھ بدل ہے اور تیسرا مِنْ برْدٍ میں، مذکور تینوں اقوال کے علاوہ ایک چوتھا قول بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ من بیانیہ ہے، یعنی بیان جنس کے لئے ہے، ای من جنس البرد کما یقال ھٰذا خاتمٌ فی یدی من حدیدٍ ای خاتم حدید فی یدی۔ قولہ : منھم مَنْ یَّمْشِیْ ھم ضمیر کل کی طرف راجع ہے باعتبار معنی کے، پیٹ کے بل سرکنے والے کو مشاکلت کے طور ماشی سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے کہ حقیقتاً ماشی کا ذکر بعد میں آرہا ہے، ورنہ تو پیٹ کے بل سرکنے والے کو زاحفٌ کہتے ہیں، قولہ : وَلَقَدْ انزلنا میں لام قسمیہ ہے، قسم محذوف ہے ای واللہِ لقَدْ انزلنا اَطَعْنَا کے بعد ھما ضمیر کا اضافہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اَطَعْنَا کا مفعول محذوف ہے، قولہ : عنہ ای عن القول۔
قولہ : المُبَلِّغُ عنہ یہ اس سوال مقدر کا جواب ہے کہ لِیَحْکُمَ میں ضمیر کو مفرد کیوں لائے ؟ جبکہ ماقبل میں اللہ اور رسول دو کا ذکر ہے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ حکم اگرچہ حقیقت میں اللہ ہی کا ہے مگر مباشر بالحکم اور مبلغ بالحکم رسول ہی ہے اللہ کا ذکر تو تفخیماً و تعظیماً ہے
قولہ : اِذَافریقٌ منھم معر ضون اِذَامفاجاتیہ قائم مقام فاء کے ہے جو کہ جواب شرط کے ساتھ ربط دینے کیلئے ہے، یعنی اِذَادُعُوْا شرط ہے اور اِذَا فریقٌ منھم جزاء۔
قولہ : اِلَیْہٖ ای المبلِّغ یعنی اگر غیر کا حق ان کے اوپر ہوتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے سے اعراض کرتے ہیں، یہ آیت بشر نامی ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ اس کا ایک یہودی کے ساتھ زمین کے معاملہ میں نزاع ہوا تھا، یہودی چاہتا تھا کہ فیصلہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لیجائے اور منافق چاہتا تھا کہ کعب بن اشرف کے پاس لیجائے اور منافق کہتا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ قولہ : اَفی قلُوبِھِمْ مرضٌ (الآیہ) اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ منشاء اعرض مذکورہ تین چیزوں میں سے ایک ہے۔
تفسیر وتشریح
اَلَمْ تَرَانَّ اللہَ یُسَبِّحُ لہٗ (الآیہ) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بخوبی جانتے ہیں کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر مخلوق اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے اس تسبیح کا مفہوم حضرت سفیان ثوری نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر شئی آسمان، زمین، آفتاب، ماہتاب اور ستارے اور سیارے اور زمین کے عناصر آگ، پانی، مٹی، ہوا سب کو خاص خاص کا موں کے لئے پیدا کیا فرمایا ہے اور جس کو جس کام کے لئے پیدا فرمایا ہے وہ برابر اس کام پر لگا ہوا ہے اس سے سر موانحر اف نہیں کرتا، اسی طاعت وانقیاد کو ان چیزوں کی تسبیح فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ان کی تسبیح مقالی نہیں ہے بلکہ حالی ہے کہ ہم اللہ کو پاک اور برترسمجھ کر اس کی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔
زمحشری اور دیگر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کے اندر اتنا فہم و شعور رکھا ہے جس سے وہ اپنے خالق اور مالک کو پہچانے اور اس میں بھی کوئی بعدی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص قسم کی گویائی عطا فرمائی ہو اور خاص قسم کی تسبیح و عبادت ان کو سکھائی ہو جیسا کہ مختلف حیوانات اپنے مافی الضمیر کو اپنے ہم جنسوں کو سمجھاتے ہیں جس کا رات دن مشاہدہ ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر شئ کو اس کے حساب سے شعور عطا فرمایا ہو اور اسی حساب سے ان کو ان کی عبادت کا طریقہ بتایا ہو، کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتہٗ (الآیہ) میں اسی مضمون کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔
قولہ : مِنَاالَّمَاءِمِنْ جِبَالٍ فِیْھَا یہا سماء سے مراد بادل ہیں اور جبال سے بڑے بڑے بادل مراد ہیں اور بردٌ اولے کو کہتے ہیں اس آیت کا ایک مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں اولوں کے پہاڑ ہیں جن سے وہ اولے برساتا ہے ( ابن کثیر) دوسرا مطلب یہ ہے کہ سماءٌ بلند کے معنی میں ہے اور جبال کے معنی ہیں پہاڑوں جیسے بڑے بڑے ٹکڑے یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں سے بارش ہی نہیں برساتا بلکہ بلندیوں سے جب چاہتا ہے برف کے ٹکڑے بھی نازل فرماتا ہے، یا پہاڑ جیسے بڑے بڑے بادلوں سے اولے برساتا ہے۔
ویقولون آمنا باللہ اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کو ذکر تھا جن کو اللہ نے ایمان کی توفیق اور کار خیر کی ہدایت فرمائی، اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دولت ایمان سے محروم رہے اور نفاق کا طریقہ اختیار کیا۔
شان نزول : مقاتل نے کہا کہ یہ آیت بشر نامی ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی، حضرت ابن عباس (رض) کا بھی قول یہی ہے کہ یہ آیت بشر نامی منافق کے بارے میں نازل ہوئی تھی، واقعہ اس طرح تھا بشر اور ایک یہودی کے درمیان زمین کے معاملہ میں خصومت تھی بشر ناحق پر تھا اور یہودی حق پر، یہودی نے کہا فیصلے کے لئے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلو مگر بشر منافق نے کہا کہ کعب بن اشرف کے پاس چلو (جو ایک یہودی سردار تھا) یہودی نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے کے لئے اصرار کیا چناچہ دونوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا جب یہ دونوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے نکلے تو منافق نے کہا عمر (رض) کے پاس چلو ان سے فیصلہ کرائیں گے، چناچہ دونوں عمر (رض) کے پاس پہنچے، یہودی نے کہا ہم دونوں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے حق میں فیصلہ فرمایا مگر یہ شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ پر راضی نہیں ہے، اب یہ چاہتا ہے کہ آپ سے فیصلہ کرائے، حضرت عمر (رض) نے منافق سے فرمایا أکَذَالِکَ ؟ کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے کہا ” نعم “ ہاں، حضرت عمر (رض) نے دونوں سے فرمایا رویدا حتی اخرجَ الیکما میرے آنے تک انتظار کرو، چناچہ حضرت عمر (رض) گھر کے اندر گئے اور تلوار لیکر واپس تشریف لائے اور منافق کو ایک ہی وار میں ٹھنڈا کردیا، اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا ھٰکذَا اقضِیْ بَیْنَ مَنْ لمْ یَرضَ بِقَضَاءِ اللہِ وقضَاءِ رسُولِہٖ جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرے میں اس کا فیصلہ اس طرح کرتا ہوں، تو یہ آیت نازل ہوئی وقال جبرائیل اِنَ عمر فرَّقَ بینَ الحَقِّ والباطل فسمٰی الفاروق حضرت جبرائیل نے فرمایا عمر نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا اور حضرت عمر کا نام فاروق رکھا۔ (جمل)
10 Tafsir as-Saadi
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے، تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰـهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾ ” کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔“ یعنی تمام حیوانات و جمادات ﴿ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ ﴾ اور وہ پرندے ) جو آسمان میں( اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ﴿ كُلٌّ﴾ ” ہر ایک نے‘‘ یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ﴿ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ ﴾ ” جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔“ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی، اس کی حسب حال نماز اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَاللّٰـهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انہیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انہیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کے بارے میں اپنے علم کو، جو اس کے سکھلانے سے وہ کرتے ہیں اور ان کے ان اعمال کے بارے میں، جو جزا اور سزا کو متضمن ہیں، اپنے علم کو جمع کردیا۔
آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ ﴾ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو یعنی اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو جانتا ہے اگرچہ تم نہیں جانتے۔۔۔ اے بندو! اگرچہ تم اس میں سے صرف وہی کچھ جانتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں مطلع کیا ہے۔۔۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا ﴾ ) بنی اسرائیل :17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بڑا ہی برد بار اور بخشنے والا ہے۔‘‘
11 Mufti Taqi Usmani
kiya tum ney dekha nahi kay aasmano aur zameen mein jo bhi , hain Allah hi ki tasbeeh kertay hain , aur woh perinday bhi jo per phelaye huye urtay hain . her aik ko apni namaz aur apni tasbeeh ka tareeqa maloom hai . aur Allah unn kay saray kamon say poori tarah ba-khabar hai .
12 Tafsir Ibn Kathir
ہر ایک تسبیح خوان ہے
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد وثنا ہے۔