ایمان والے تو وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہیں اور جب وہ آپ کے ساتھ کسی ایسے (اجتماعی) کام پر حاضر ہوں جو (لوگوں کو) یکجا کرنے والا ہو تو وہاں سے چلے نہ جا ئیں (یعنی امت میں اجتماعیت اور وحدت پیدا کرنے کے عمل میں دل جمعی سے شریک ہوں) جب تک کہ وہ (کسی خاص عذر کے باعث) آپ سے اجازت نہ لے لیں، (اے رسولِ معظّم!) بیشک جو لوگ (آپ ہی کو حاکم اور مَرجَع سمجھ کر) آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں وہی لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھنے والے ہیں، پھر جب وہ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے (جانے کی) اجازت چاہیں تو آپ (حاکم و مختار ہیں) ان میں سے جسے چاہیں اجازت مرحمت فرما دیں اور ان کے لئے (اپنی مجلس سے اجازت لے کر جانے پر بھی) اللہ سے بخشش مانگیں (کہ کہیں اتنی بات پر بھی گرفت نہ ہو جائے)، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،
English Sahih:
The believers are only those who believe in Allah and His Messenger and, when they are [meeting] with him for a matter of common interest, do not depart until they have asked his permission. Indeed, those who ask your permission, [O Muhammad] – those are the ones who believe in Allah and His Messenger. So when they ask your permission due to something of their affairs, then give permission to whom you will among them and ask forgiveness for them of Allah. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.
1 Abul A'ala Maududi
مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسولؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو، اللہ یقیناً غفور و رحیم ہے
2 Ahmed Raza Khan
ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں پھر جب وہ تم سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
3 Ahmed Ali
مومن تو وہی ہیں جو الله اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور جب وہ اس کے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں ہوتے ہیں تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے اجازت نہ لیں جو لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں وہی ہیں جوالله اور اس کے رسول پرایمان لائے ہیں پھر جب تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے تو چاہے عزت دے اور ان کے لیے الله سے بخشش کی دعا کر الله بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
4 Ahsanul Bayan
با ایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالٰی پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں توجب تک آپ سے اجازت نہ لیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں جو اللہ تعالٰی پر اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں (١) پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالٰی سے بخشش کی دعا مانگیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
٦٢۔١ یعنی جمعہ وعیدین کے اجتماعات میں یا داخلی و بیرونی مسئلے پر مشاورت کے لئے بلائے گئے اجلاس میں اہل ایمان تو حاضر ہوتے ہیں، اسی طرح اگر وہ شرکت سے معذور ہوتے ہیں تو اجازت طلب کرتے ہیں۔ جس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ منافقین ایسے اجتماعات میں شرکت سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگنے سے گریز کرتے ہیں۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
6 Muhammad Junagarhi
باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں وه جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻچکے ہیں۔ پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگیں، بےشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
مؤمن تو صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان رکھتے ہیں اور جب کسی اجتماعی معاملہ میں رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہیں لیتے کہیں نہیں جاتے۔ بےشک جو لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس جب وہ آپ سے اپنے کسی کام کیلئے اجازت مانگیں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کیلئے اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
مومنین صرف وہ افراد ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان رکھتے ہوں اور جب کسی اجتماعی کام میں مصروف ہوں تو اس وقت تک کہیں نہ جائیں جب تک اجازت حاصل نہ ہوجائے بیشک جو لوگ آپ سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں لہذا جب آپ سے کسی خاص حالت کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ جس کو چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے حق میں اللہ سے استغفار بھی کریں کہ اللہ بڑا غفور اور رحیم ہے
9 Tafsir Jalalayn
مومن تو وہی ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لیے بغیرچلے نہیں جاتے اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دیدیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مان گا کرو کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے آیت نمبر 62 تا 64 ترجمہ : بس مومن تو وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں، اور جب وہ اس کے ساتھ یعنی رسول کے ساتھ کسی اہم معاملہ میں جمع ہوتے ہیں جیسا کہ جمعہ کا خطبہ تو عذر پیش آنے کی صورت میں بھی اس وقت تک نہیں جاتے جب تک کہ آپ سے اجازت نہ لے لیں، جو لوگ آپ سے اجازت لے لیتے ہیں بس وہ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو جب یہ لوگ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جس کو چاہیں جانے کی اجازت دیدیں اور آپ ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعاء کیجئے بلاشبہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے اس طریقہ سے کہ کہو اے محمد ! بلکہ یا نبی اللہ، یا رسول اللہ نرمی اور تواضع اور پست آواز سے کہو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم سے آڑ میں ہو کر کھسک جاتے ہیں یعنی مسجد سے خطبہ کی حالت میں چپکے سے کسی چیز کی آڑ لے کر نکل جاتے ہیں، اور قد تحقیق کے لئے ہے سو جو لوگ اللہ کے اور اس کے رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آفت آن پڑے یا ان پر آخرت میں کوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے، یاد رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ملکیت کے اعتبار سے تخلیق کے اعتبار سے مملوک ہونے کے اعتبار سے سب اللہ ہی کا ہے اللہ تعالیٰ اس حالت کو بھی جانتا ہے اے مکلفو (مخاطبو) جس حالت پر تم ہو یعنی ایمان و نفاق کی حالت اور اس دن کو بھی جانتا ہے جس میں سب اس کے پاس لائے جائیں گے اس میں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے، یعنی جانتا ہے کہ رجوع کا دن کب ہوگا (ای یعلم) متی یکون یوم الرجوعِ سو وہ ان کو اس دن سب جتلا دے گا جو کچھ انہوں نے خیر و شر کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال وغیرہ سب سے واقف ہے۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد اِنَّمَا المُؤْمِنُوْنَ مبتداء ہے الَّذِیْنَ اسم موصول آمَنُوْا الخ معطوف علیہ وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ الخ معطوف، معطوف معطوف علیہ سے مل کر صلہ الذین کا الذین اسم موصول صلہ سے مل کر خبر مبتداء کی۔ قولہ : علیٰ امرٍ جامعٍ میں اسناد مجازی ہے، اس لئے کہ امر سبب جمع ہے اور جمع مسبب ہے گویا سبب کی نسبت مسبب کی جانب ہے۔ قولہ : لاَ تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ ای لاتَنَادُوْہٗ باسمہٖ فتقولوا یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ولا بکُنْیَتِہٖ فقولوا یا ابا القاسم، بل نادُوْہٗ بالتعظیم بان تقولوا یا رسول اللہ یا نبی اللہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام مبارک جس طرح آپ کی حیات مبارکہ میں تعظیم سے لینا ضروری تھا بعد وفات بھی ضروری ہے آپ کی شان مبارک میں تخفیف کرنے والا کافر و ملعون ہے۔ قولہ : لِوَاذًا (مفاعلہ) کا مصدر ہے ایک دوسرے کی آڑ لینا، لِوَ اذًا یا تو یَتَسَلَّلُوْنَ کے ہم معنی ہونے کی وجہ سے مصدر ہے ای یَتَسَلَّلُوْنَ لِوَاذًا یا فعل محذوف کا مصدر ہے ای یُلاَوَذُوْنَ لِوَاذًا نیز مصدر موضع حال میں واقع ہونے کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے ای یَتَسَلَّلُوْنَ مُتلاوَذِیْنَ ۔ قولہ : اَنْ تصِیْبَھُمْ فِتْنَۃً بتاویل مصدر ہو کر فَلْیَحْذِرْ کا مفعول ہے، ای اِصَابَۃً فِتّنَۃً ۔ قولہ : ویَوْمَ یُرْجَعُوْنَ کا یَعْلَمُ کے معمول یعنی مَا اَنْتُمْ پر عطف ہے جیسا کہ مفسر علام نے یعلم مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے۔ تفسیر و تشریح اوپر کی آیات میں آنے کے وقت اجازت طلب کرنے کا ذکر تھا، یہاں جانے کے وقت اجازت لینے کی ضرورت کا ذکر ہے، یعنی کامل الایمان وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر حاضر ہوتے ہیں اور جب کسی اجتماعی کام میں شریک ہوں مثلاً جمعہ وعیدین، جہاد، اور مجلس مشاورت وغیرہ میں تو بغیر اجازت کے اٹھ کر نہیں جاتے، یہ ہی لوگ ہیں جو کامل الایمان اور صحیح معنی میں اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں۔ شان نزول : یہ آیت غزوہ احزاب کے موقع پر نازل ہوئی ہے جب کہ مشرکین عرب اور دوسری جماعتوں کے متحدہ محاذ نے یکبارگی مدینہ پر حملہ کیا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بمشورۂ صحابہ دشمنوں کے حملہ سے بچاؤ کے لئے خندق کھودی تھی اس لئے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں یہ غزوہ شوال 5 ھ میں ہوا تھا۔ (قرطبی) بیہقی اور ابن اسحٰق کی روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذات خود اور تمام صحابہ خندق کھودنے میں مصروف تھے مگر منافقین اول تو آنے میں سستی کرتے اور آکر بھی دکھانے کے لئے تھوڑا بہت کام کرلیتے اور موقع پاکر چپکے سے کھسک جاتے تھے، صحابہ کرام کی یہ عادت تھی کہ اگر آپ کی مجلس سے کسی کو ضرورت کی وجہ سے کبھی جانے کی ضرورت پیش آتی تو اجازت لیکر جاتا اور طریقہ اجازت کا یہ ہوتا کہ آپ کے سامنے اس طرح کھڑا ہوتا کہ آپ کی نظر اس پر پڑجائے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرکے اجازت طلب کرتا آپ اگر چاہتے تو اجازت دیدیتے، منافقین موقع سے فائدہ اٹھاتے اور اس مومن کی آڑ لیکر چپکے سے کھسک جاتے، اس قصہ کو ابو داؤد نے مراسیل میں مقاتل سے نقل کیا ہے۔ (حاشیہ جلالین) اس کے برخلاف مومنین سب کے سب محنت کے ساتھ لگے رہتے اور اگر کوئی مجبوری یا ضرورت پیش آجاتی تو آنحضرت سے اجازت لیکر جاتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بغیر اجازت چلے جانے کی حرمت عام مجلس کا حکم نہیں ہے، بلکہ اس مجلس کا حکم ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی اہم ضرورت کے پیش نظر لوگوں کو جمع کیا ہو جیسا کہ واقعہ خندق میں ہوا تھا، امر جامع سے اسی کی طرف اشارہ ہے، امر جامع کے سلسلہ میں اقوال مختلف ہیں مگر واضح اور صاف بات یہ ہے کہ امر جامع سے مراد ہر وہ کام ہے جس کے لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو جمع کرنا ضروری خیال فرمائیں اور کسی اہم اور ضروری کام کے لئے جمع فرمائیں، جیسے غزوہ احزاب میں خندق کھودنے کا کام تھا۔ (مظہری) اس آیت میں دوسرا حکم آخری آیت میں یہ دیا گیا ہے لاَ تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ اس کی ایک تفسیر تو وہ ہے جو ترجمہ کے ضمن میں کی گئی ہے کہ دعاء رسول سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لوگوں کو بلانا ہے، جو نحوی قاعدہ سے اضافت الی الفاعل ہے، اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو جب بلائیں تو اس کو عام لوگوں کے بلانے کی طرح نہ سمجھیں کہ اس میں آنے نہ آنے کا اختیار رہتا ہے، بلکہ اس وقت آنا فرض ہوجاتا ہے اور بغیر اجازت جانا حرام ہوجاتا ہے، آیت کے سیاق وسباق سے یہ تفسیر زیادہ مناسبت رکھتی ہے، اسی لئے مظہری اور بیان القرآن نے اس کو اختیار کیا ہے، اس کی ایک دوسری تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ابن کثیر اور قرطبی وغیرہ نے یہ نقل کی ہے کہ دُعَاءَ الرَّسُولِ سے مراد لوگوں کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی ضرورت کے لئے پکارنا اور بلانا ہے (نحوی ترکیب کے اعتبار سے یہ اضافت الی المفعول ہوگی) اس تفسیر کی بناء پر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی ضرورت سے بلاؤ تو عام لوگوں کی طرح آپ کا نام لیکر یا محمد نہ کہو یہ بےادبی ہے بلکہ تعظیمی القاب کے ساتھ یا رسول اللہ یا نبی اللہ وغیرہ کہا کرو، اس کا حاصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم و توقیر کا مسلمانوں پر واجب ہونا اور ہر ایسی چیز سے بچنا ہے جو ادب کے خلاف ہو، یہ حکم ایسا ہی ہے جیسا کہ سورة حجرات میں اسی طرح کے کئی حکم دئیے گئے ہیں مثلاً لاتجھروا بالقول کجھر بعضکم لبعض یعنی جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرو تو ادب کی رعایت رکھو ضرورت سے زیادہ اونچی آواز سے باتیں نہ کرو جیسے لوگ آپس میں کیا کرتے ہیں اور مثلاً یہ کہ جب آپ گھر میں تشریف فرما ہوں تو باہر سے آواز دے کر نہ بلاؤ بلکہ آپ کے باہر تشریف لانے کا انتظار کرو وَاِنَ الذین ینادونک من وراء الحجرات میں اسی کا بیان ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سی اپنے مومن بندوں کے لئے ارشاد ہے کہ جب وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوں، یعنی آپ کی ضرورت اور مصلحت مثلاً جہاد اور مشاورت وغیرہ میں، جہاں اہل ایمان کا اشتراک عمل ہوتا ہے۔۔۔ تو اس معاملے میں اکٹھے رہیں کیونکہ مصلحت ان کے اجتماع و اتحاد اور عدم تفرق و تشتت کا تقاضا کرتی ہے۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان رکھنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے بعد آپ کے نائب کی اجازت کے بغیر اپنے گھر لوٹتا ہے نہ اپنی کسی ضرورت سے دیگر مومنوں کو چھوڑ کرجاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اجازت کے بغیر نہ جانے کو موجب ایمان قرار دیا ہے اور اس فعل پر نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے نائب کے ساتھ ان کے ادب پر ان کی مدح کی ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر۔‘‘ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا آپ اور آپ کا نائب ان کو اجازت دے یا نہ دے؟ اجازت دینے کے لئے دو شرائط عائد کی گئی ہیں : (1) یہ اجازت طلبی ان کے کسی ضروری معاملے اور ضروری کام کے لیے ہو اور اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت نہ دی جائے۔ (2) اجازت دینے میں مشیت مصلحت کے تقاضے پر مبنی ہو اور اجازت دینے والے کو ضرر نہ پہنچے۔ اس لئے فرمایا : ﴿ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ ﴾ ’’پس جب وہ آپ سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لئے، تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دیں۔‘‘ اگر اجازت طلب کرنے والے کے پاس کوئی عذر ہو اور وہ اجازت طلب کرے اگر اس کے پیچھے بیٹھ رہنے میں اور ساتھ نہ جانے میں اس کی رائے یا شجاعت سے محرومی کی وجہ سے نقصان ہو تو صاحب امر اس کو اجازت نہ دے۔۔۔ بایں ہمہ اگر کسی نے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کی اور صاحب امر ان مذکورہ شرائط کے ساتھ اجازت دے دے، تو اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ وہ اجازت طلب کرنے والے کے لئے بخشش کی دعا کریں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس کی اجازت طلبی تقصیر پر مبنی ہو، اس لئے فرمایا : ﴿ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰـهَ إِنَّ اللّٰـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ’’اور بخشش مانگیں ان کے لئے اللہ سے، بلا شبہ اللہ غفور رحیم ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دیتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے کہ اس نے کسی عذر کی بنا پر اجازت طلبی کا جواز عطا کیا۔
11 Mufti Taqi Usmani
momin to woh log hain jo Allah aur uss kay Rasool ko dil say mantay hain , aur jab Rasool kay sath kissi ijtimaee kaam mein shareek hotay hain to unn say ijazat liye baghair kahen nahi jatay . ( aey payghumber ! ) jo log tum say ijazat letay hain , yehi woh log hain jo Allah aur uss kay Rasool ko dil say mantay hain . chunacheh jab woh apney kissi kaam kay liye tum say ijazat maangen to unn mein say jinn ko chahao , ijazat dey diya kero , aur unn kay liye Allah say maghfirat ki dua kiya kero . yaqeenan Allah boht bakhshney wala , bara meharban hai .
12 Tafsir Ibn Kathir
رخصت پر بھی اجازت مانگو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ادب اور بھی سکھاتا ہے کہ جیسے آتے ہوئے اجازت مانگ کر آتے ہو ایسے جانے کے وقت بھی میرے نبی سے اجازت مانگ کر جاؤ۔ خصوصا ایسے وقت جب کہ مجمع ہو اور کسی ضروری امر پر مجلس ہوئی ہو مثلا نماز جمعہ ہے یا نماز عید ہے یا جماعت ہے یا کوئی مجلس شوری ہم تو ایسے موقعوں پر جب تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت نہ لے لو ہرگز ادھر ادھر نہ جاؤ مومن کامل کی ایک نشانی یہ بھی ہے۔ پھر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ جب یہ اپنے کسی ضروری کام کے لئے آپ سے اجازت چاہیں تو آپ ان میں سے جسم چاہیں اجازت دے دیا کریں اور ان کے لئے طلب بخشش کی دعائیں بھی کرتے رہیں۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں جائے تو اہل مجلس کو سلام کرلیا کرے اور جب وہاں سے آنا چاہے تو بھی سلام کر لیاکرے آخری دفعہ کا سلام پہلی مرتبہ کے سلام سے کچھ کم نہیں ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام صاحب نے اسے حسن فرمایا ہے۔