Skip to main content

لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِيْرًا

لَّا
نہ
تَدْعُوا۟
تم پکارو
ٱلْيَوْمَ
آج
ثُبُورًا
موت
وَٰحِدًا
ایک
وَٱدْعُوا۟
اور پکارو
ثُبُورًا
موتوں کو
كَثِيرًا
بہت سی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

فرمایا جائے گا آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں مانگو

احمد علی Ahmed Ali

آج ایک موت کو نہ پکارو اور بہت سی موتوں کو پکارو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

(ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی اموات کو پکارو (١)

١٤۔١ یعنی جہنمی جب جہنم کے عذاب سے تنگ آ کر آرزو کریں گے کہ کاش انہیں موت آ جائے، وہ فنا کے گھاٹ اتر جائیں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ اب ایک موت نہیں کئی موتوں کو پکارو۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہاری قسمت میں ہمیشہ کے لئے انواع و اقسام کے عذاب ہیں یعنی موتیں ہی موتیں ہیں، تم کہاں تک موت کا مطالبہ کرو گے

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

(ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی اموات کو پکارو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو آواز دو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(ان سے کہا جائے گا:) آج (صرف) ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو،