Skip to main content

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۤءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ

إِنَّكَ
بیشک تم
لَا
نہیں
تُسْمِعُ
تم سنوا سکتے
ٱلْمَوْتَىٰ
مردوں کو
وَلَا
اور نہیں
تُسْمِعُ
تم سنوا سکتے
ٱلصُّمَّ
بہروں کو
ٱلدُّعَآءَ
پکار
إِذَا
جب
وَلَّوْا۟
وہ پھرجائیں
مُدْبِرِينَ
پیٹھ پھیر کر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھریں پیٹھ دے کر

احمد علی Ahmed Ali

البتہ تو مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو اپنی پکارسنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک آپ نہ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں (١) جبکہ پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں۔

٨٠۔١ یہ ان کافروں کی پروا نہ کرنے اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھنے کی دوسری وجہ ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں جو کسی کی بات سن کر فائدہ نہیں اٹھا سکتے یا بہرے ہیں جو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ راہ یاب ہونے والے ہیں۔ گویا کافروں کو مردوں سے تشبیہ دی جن میں حس ہوتی ہے نہ عقل اور بہروں سے، جو وعظ و نصیحت سنتے ہیں نہ دعوت الی اللہ قبول کرتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بیشک آپ نہ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں، جبکہ وه پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

آپ مُردوں کو (آواز) نہیں سنا سکتے۔ اور نہ بہروں کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہیں جو پیٹھ پھیر کر چل دیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ مفِدوں کو اور بہروں کو اپنی آواز نہیں سنا سکتے اگر وہ منہ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک آپ نہ (تو حیاتِ ایمانی سے محروم) مُردوں کو (حق کی بات) سنا سکتے ہیں اور نہ ہی (ایسے) بہروں کو (ہدایت کی) پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ (غلبۂ کفر کے باعث ہدایت سے) پیٹھ پھیر کر (قبولِ حق سے) رُوگرداں ہو رہے ہوں،