اور (ان سے) کہا جائے گا: تم اپنے (خود ساختہ) شریکوں کو بلاؤ، سو وہ انہیں پکاریں گے پس وہ (شریک) انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور وہ لوگ عذاب کو دیکھ لیں گے، کاش! وہ (دنیا میں) راہِ ہدایت پا چکے ہوتے،
English Sahih:
And it will be said, "Invoke your 'partners,'" and they will invoke them; but they will not respond to them, and they will see the punishment. If only they had followed guidance!
1 Abul A'ala Maududi
پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے
2 Ahmed Raza Khan
اور ان سے فرمایا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کی نہ سنیں گے اور دیکھیں گے عذاب، کیا اچھا ہوتا اگر وہ راہ پاتے
3 Ahmed Ali
اور کہا جائے گا اپنے شریکو ں کو پکارو پھرانہیں پکاریں گے تو وہ انہیں جواب نہ دیں گے اور عذاب دیکھیں گے کاش یہ لوگ ہدایت پر ہوتے
4 Ahsanul Bayan
کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ (١) وہ بلائیں گے لیکن انہیں وہ جواب تک نہ دیں گے اور سب عذاب دیکھ لیں گے (۲) کاش یہ لوگ ہدایت پا لیتے۔(۳)
٦٤۔١ یعنی ان سے مدد طلب کرو، جس طرح دنیا میں کرتے تھے کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں؟ پس وہ پکاریں گے، لیکن وہاں کس کو یہ جرت ہوگی کہ جو یہ کہے کہ ہاں ہم تمہاری مدد کرتے ہیں؟ ٦ ٤۔۲ یعنی یقین کرلیں گے کہ ہم سب جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ ٦ ٤۔۳ یعنی عذاب دیکھ لینے کے بعد آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ہدایت کا راستہ اپنا لیتے تو آج وہ اس حشر سے بچ جاتے۔(وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا 52 وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53ۧ ) 18۔ الکہف;53-52) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے
6 Muhammad Junagarhi
کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ، وه بلائیں گے لیکن انہیں وه جواب تک نہ دیں گے اور سب عذاب دیکھ لیں گے، کاش یہ لوگ ہدایت پا لیتے
7 Muhammad Hussain Najafi
پھر (ان سے) کہا جائے گا کہ اپنے (مزعومہ) شریکوں کو بلاؤ چنانچہ وہ انہیں پکاریں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے۔ اور عذاب کو دیکھیں گے (اس پر وہ تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یافتہ ہوتے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
تو کہا جائے گا کہ اچھا اپنے شرکائ کو پکارو تو وہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے بلکہ عذاب ہی کو دیکھیں گے تو کاش یہ دنیا ہی میں ہدایت یافتہ ہوجاتے
9 Tafsir Jalalayn
اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ تو وہ انکو پکاریں گے اور وہ ان کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے
10 Tafsir as-Saadi
﴿ وَقِيلَ﴾ ” کہا جائے گا“ ان سے ﴿ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ﴾ ” اپنے ان معبودوں کو بلا لو“ جن سے تمہیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چنانچہ مصیبت کی ایسی گھڑی میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کو پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ﴿فَدَعَوْهُمْ ﴾ ” پس وہ ان کو پکاریں گے“ تاکہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ﴿فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ ﴾ ” مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے“ تب کفار کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں۔ ﴿وَرَأَوُا الْعَذَابَ﴾ ” اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے“ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہوگا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ ﴿لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ﴾ ” کاش وہ ہدایت یاب ہوتے“۔ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انہیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انہیں دنیا میں رہنمائی حاصل ہوئی تھی، مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لئے آخرت میں انہیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur ( unn kafiron say ) kaha jaye ga kay : pukaro unn ko jinhen tum ney Allah ka shareek bana rakha tha ! chunacheh woh unn ko pukaren gay , magar woh unn ko jawab nahi den gay , aur yeh azab aankhon say dekh len gay . kaash yeh aesay hotay kay hidayat ko qubool kerletay !