پھر وہ (مسلمان) اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے انہیں کوئی گزند نہ پہنچی اور انہوں نے رضائے الٰہی کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
English Sahih:
So they returned with favor from Allah and bounty, no harm having touched them. And they pursued the pleasure of Allah, and Allah is the possessor of great bounty.
1 Abul A'ala Maududi
آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے، ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہو گیا، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے
2 Ahmed Raza Khan
تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے اور اللہ بڑے فضل والا ہے
3 Ahmed Ali
پھر مسلمان الله کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹ آئے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور الله کی مرضی کے تابع ہوئے اور الله بڑے فضل والا ہے
4 Ahsanul Bayan
(نتیجہ یہ ہوا) کہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ یہ لوٹے (١) انہیں کوئی برائی نہیں پہنچی انہوں نے اللہ تعالٰی کی رضامندی کی پیروی کی اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
١٧٤۔١ نِعْمَۃ، سے مراد سلامتی ہے اور فضل سے مراد نفع ہے جو بدر صغریٰ تجارت کے ذریعے حاصل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدرِ صغریٰ میں ایک گزرنے والے قافلے سے سامان تجارت خرید کر فروخت کیا جس سے نفع حاصل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا (ابن کثیر)
5 Fateh Muhammad Jalandhry
پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
6 Muhammad Junagarhi
(نتیجہ یہ ہوا کہ) اللہ کی نعمت وفضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی پیروی کی، اللہ بہت بڑے فضل واﻻ ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
پس یہ لوگ اللہ کی عنایت اور اس کے فضل و کرم سے اس طرح (اپنے گھروں کی طرف) لوٹے کہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نے چھوا بھی نہیں تھا۔ اور وہ رضاءِ الٰہی کے تابع رہے اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
پس یہ مجاہدین خدا کے فضل و کرم سے یوں پلٹ آئے کہ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی اور انہوں نے رضائے الٰہی کا اتباع کیااور اللہ صاحبِ فضلِ عظیم ہے
9 Tafsir Jalalayn
پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
10 Tafsir as-Saadi
﴿فَانقَلَبُوا ﴾یعنی مسلمان لوٹے﴿بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ﴾” اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ، ان کو کوئی برائی نہ پہنچی‘ جب یہ خبر مشرکین کے پاس پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام تمہارے تعاقب میں آرہے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی اب نادم ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ مکہ واپس چلے گئے اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم سے مستفید ہو کر لوٹے کیونکہ اس حالت میں بھی ان کو جنگ کے لیے نکلنے کی توفیق ہوئی اور انہوں نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غازیوں کا پورا اجر لکھ دیا۔ پس اپنے رب کے لیے حسن اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وجہ سے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
nateeja yeh kay yeh log Allah ki naimat aur fazal ley ker iss tarah wapis aaye kay enhen zara bhi gazand nahi phonchi , aur woh Allah ki khushnoodi kay tabey rahey . aur Allah fazal-e-azeem ka malik hai .