آل عمران آية ۱۸۱
لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۤءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَقَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِيَاۤءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۙ وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ
طاہر القادری:
بیشک اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جو کہتے ہیں کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں، اب ہم ان کی ساری باتیں اور ان کا انبیاءکو ناحق قتل کرنا (بھی) لکھ رکھیں گے، اور (روزِ قیامت) فرمائیں گے کہ (اب تم) جلا ڈالنے والے عذاب کا مزہ چکھو،
English Sahih:
Allah has certainly heard the statement of those [Jews] who said, "Indeed, Allah is poor, while we are rich." We will record what they said and their killing of the prophets without right and will say, "Taste the punishment of the Burning Fire.
1 Abul A'ala Maududi
اللہ نے اُن لوگوں کا قول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہے (جب فیصلہ کا وقت آئے گا اُس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزا چکھو
2 Ahmed Raza Khan
بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی اور ہم غنی اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب،
3 Ahmed Ali
بے شک الله نے ان کی بات سنی ہے جنہوں نے کہا کہ بے شک الله فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں اب ہم ان کی بات لکھ رکھیں گے اور جو انہوں نے انبیاء کے ناحق خون کیے ہیں اور کہیں گے کہ جلتی آگ کا عذاب چکھو
4 Ahsanul Bayan
یقیناً اللہ تعالٰی نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں (١)۔ ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے۔ اور ان کا انبیاء کو قتل کرنا بھی (٢) اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلانے والا عذاب چکھو۔
١٨١۔١ جب اللہ تعالٰی نے اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) 57۔ الحدید;11) کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے! تو یہود نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرا رب فقیر ہو گیا ہے کہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے؟ جس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی۔
١٨١۔٢ یعنی مذکورہ قول جس میں اللہ کی شان میں گستاخی ہے اور اسی طرح ان کے (اسلاف) کا انبیاء علیہم السلام کو ناحق قتل کرنا، ان کے سارے جرائم اللہ کی بارگاہ میں درج ہیں، جن پر وہ جہنم کی آگ میں داخل ہونگے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو
6 Muhammad Junagarhi
یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے۔ اور ان کا انبیا کو بلا وجہ قتل کرنا بھی، اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلنے واﻻ عذاب چکھو!
7 Muhammad Hussain Najafi
بے شک اللہ نے ان لوگوں (یہودیوں) کا قول سن لیا ہے جنہوں نے کہا کہ خدا مفلس ہے اور ہم مالدار ہیں سو ان کی یہ باتیں ہم لکھ لیں گے نیز ان کا نبیوں کو ناحق قتل کرنا بھی لکھ لیں گے۔ اور (فیصلے کے وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ اب آتش دوزخ کا مزہ چکھو۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اللہ نے ان کی بات کوبھی سن لیا ہے جن کا کہنا ہے کہ خدا فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں- ہم ان کی اس مہمل بات کو اور ان کے انبیائ کے ناحق قتل کرنے کو لکھ رہے ہیں اور انجام کار ان سے کہیں گے کہ اب جہّنم کا مزا چکھو
9 Tafsir Jalalayn
خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتشِ ) دوزخ کے مزے چکھتے رہو۔
آیت نمبر ١٨١ تا ١٨٩
ترجمہ : یقیناً اللہ نے لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں اور یہ (کہنے والے) یہود ہیں یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ” مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقڑرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا “ آیت نازل ہوئی اور یہ (بھی) کہ اگر اللہ مالدار ہوتا تو ہم سے قرض نہ مانگتا، ہم ان کے قول کو ان کے اعمال ناموں میں لکھ رہے ہیں تاکہ اس کی ان کو جزاء دی جائے۔ اور ایک قراءت میں (یکتُب) یاء کے ساتھ معروف کا صیغہ ہے۔ اور ہم ان کے انبیاء کے ناحق قتل کرنے کو بھی لکھ رہے ہیں (قتَلھم) کے نصب اور رفع کے ساتھ، اور ہم کہیں گے آتش سوزاں کا عذاب چکھو۔ (یَقُوْلٌ) نون اور یاء کے ساتھ، یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ بزبان ملائکہ کہے گا، اور جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا یہ عذاب تمہارے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو تم کرنے کیے ہیں۔ انسان کی تعبیر ہاتھوں سے کی ہے اس لیے کہ اکثر اعمال ہاتھوں ہی سے کیے جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے کہ ان کو بےخطاء سزا دے۔ یہ (قائلین) وہ لوگ ہیں اَلِّذِیْنَ ، ماقبل والے اَلَّذِیْنَ کی صفت ہے جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اللہ نے ہم کو تورات میں حکم دیا کہ ہم کسی نبی پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں (یعنی) اس کی تصدیق نہ کریں، جب تک وہ ایسی قربانی نہ لائے کہ اس کو آگ کھاجائے لہٰذا تم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لاؤ گے، اور وہ قربانی وہ ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے جانور وغیرہ کے قبیل سے۔ اگر قربانی مقبول ہوتی تو آسمان سے ایک سفید آگ آتی اور اس کو جلا ڈالتی ورنہ اپنی جگہ پڑی رہتی۔ بنی اسرائیل کو مسیح (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کے لیے اس کا حکم دیا گیا تھا۔ قربانی کی مقبولیت کی علامت آسمانی آگ کا قربانی کے جانور کو جلا دینا مسیح (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کے لیے تھی۔ اسی طرح آسمانی آگ کا جلانا نبی کی صداقت کی دلیل مسیح (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ نبی کے لیے تھی۔ آپ ان سے کہہ دیجئے مجھ سے پہلے تمہارے پاس جو رسول دیگر معجزوں کے ساتھ یہ معجزہ بھی لائے تھے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے ان کو کیوں قتل کردیا ؟ مثلاً زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کہ تم نے ان کو قتل کردیا۔ اور خطاب ان (یہود) سے ہے جو ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھے اگرچہ یہ فعل (قتل) ان کے باپ دادوں کا تھا۔ ان لوگوں کے اس فعل سے راضی ہونے کی وجہ سے۔ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ یہ معجزہ دیکھنے کے بعد ایمان لائیں گے۔ پھر بھی اگر وہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے بہت سے وہ رسول جھٹلائے گئے ہیں جو معجزات اور صحیفے جیسا کہ صحف ابراہیم (علیہ السلام) ۔ اور واضح کتابیں اور ایک قراءت میں دونوں میں (یعنی زبر اور کتاب) میں باء کے اثبات کے ساتھ ہے (ای بالزبرو بالکتاب) لے کر آئے۔ وہ تورات اور انجیل ہیں۔ لہٰذا جس طرح انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجئے۔ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور تم کو تمہارے اعمال کی پوری جزا تو قیامت کے دن دی جائے گی تو جو شخص آگ سے دور رکھا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا تو وہی کامیاب ہوا یعنی اس نے اپنا مکمل مطلوب پالیا۔ دنیا کی زندگی یعنی اس کا عیش تو محض باطل کا سودا ہے کہ چند دن اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے پھر فنا ہوجائے گا، یقیناً تم کو اس میں نون رفع مسلسل نونوں کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے واؤ ضمیر بھی اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ تمہارے مالوں میں ان کے فرائض اور آفات کے ذریعہ اور تمہاری جانوں میں عبادات اور مصائب کے ذریعہ آزمایا جائے گا۔ اور یقیناً تم ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے۔ (یعنی) یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سے بہت سی دل آزار جاتیں مثلاً گالی گلوچ اور طعنہ زنی اور تمہاری عورتوں کے بارے میں عشقیہ اشعار سننے پڑیں گے اگر تم اس پر صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ یہ بڑی ہمت کے کام ہیں یعنی ان مقاصد میں سے ہیں جن کا ان کے واجب ہونے کی وجہ سے قصد کیا جاتا ہے اور اس وقت کو یاد کرو جب اللہ نے اہل کتاب سے تورات میں عہد لیا کہ تم اس کتاب کو سب لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں دونوں فعلوں میں تاء اور یاء کے ساتھ۔ سو انہوں نے اس عہد کو اپنے پس پشت ڈال دیا کہ اس طور پر اس پر عمل نہ کیا۔ اور اس کے عوض اپنے کمتر لوگوں سے اپنی علمی سربراہی کی وجہ سے دنیا کی حقیر قیمت لے لی اس ثمن قلیل کے فوت ہونے کے خوف سے اس عہد کو چھپالیا۔ سو کیسی بری چیز ہے وہ جس کو وہ خرید رہے ہیں یعنی ان کا اس کو خریدنا کس قدر برا ہے ! سو ایسے لوگوں کے بارے میں جو اپنے کرتوتوں یعنی لوگوں کو گمراہ کرنے پر خوش ہو رہے ہیں ہرگز خیال نہ کریں (کہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے) اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مدح سرائی ایسے کارناموں پر بھی کی جائے جن کو انہوں نے انجام نہیں دیا ہے اور وہ حق کو تھامنا ہے۔ حالانکہ وہ گمراہی میں ہیں تو ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز آپ خیال نہ کریں کہ وہ آخرت میں عذاب سے محفوظ رہیں گے یعنی ایسی جگہ میں ہوں گے کہ وہ نجات پاجائیں، بلکہ وہ تو ایسی جگہ میں ہوں گے جس میں عذاب دئیے جائیں گے۔ اور وہ دوزخ ہے اور ان کے لیے اس میں دردناک (دردمند) عذاب ہوگا۔ اور پہلے یَحْسَبُ کے دونوں مفعول کہ جن پر یَحْسَبُ ثانی کے دونوں مفعول یاء تحتانیہ کی قراءت کی صورت میں دلالت کر رہے ہیں اور فوقانیہ (قراءت) کی صورت میں فقط ثانی مفعول حذف کیا گیا ہے۔ اور آسمانوں اور زمین یعنی بارش اور رزق اور نباتات وغیرہ کے خزانوں پر اللہ ہی کی سلطنت ہے اور اللہ ہی ہر شی پر قادر ہے اسی میں سے کافروں کی تعذیب اور مومنوں کو نجات دینا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : لَقَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْا۔ یہ کلام مستانف ہے۔ اس کو یہود کی بیہودہ گوئی اور افواہوں کا نمونہ بیان کرنے کے لیے لایا ہے لَقَدْ میں لام توطیہ ہے قسم کے محذوف ہونے پر دلالت کرنے کے لیے ہے ای واللہ لَقَدْ سَمِعَ اللہ الخ۔ قَدْ حرف تحقیق ہے اور لام جواب قسم پر داخل ہے۔ قولہ : نکتب۔ اس میں اشارہ ہے کہ قَتْلَھُمْ کا عطف ما پر ہے نہ کہ قالوا پر۔
قولہ : بالنصب والرفع۔ وَقَتْلَھُمْ ، میں دونوں قراءتیں ہیں، اس لیے کہ قتلھم کا معطوف علیہ ما قالوا ہے۔ اور معطوف علیہ محل کے اعتبار سے منصوب اور مرفوع دونوں ہے اگر نکتُب، نون کے ساتھ پڑھیں تو مَاقَالُوْا محلاً منصوب ہوگا اس لیے کہ نکتب کا مفعول ہوگا اور اگر یُکتَبُ یاء کے ساتھ پڑھیں تو معطود علیہ مرفوع ہوگا اس لیے کہ یکتب، مجہول کا صیغہ ہوگا اور ماقالوا نائب فاعل۔
قولہ : ای بذی ظلم، اس میں اشارہ ہے کہ ظلّام۔ مبالغہ کا صیغہ اسم فاعل کے معنیٰ میں ہے قرآن کریم میں مبالغہ کا صیغہ اکثر اسم فاعل کے معنی میں مستعمل ہے۔ قولہ : جوائح، یہ جائحۃ کی جمع ہے، آفت، پھلوں کا روگ۔
قولہ : التشبیب، غزل گوئی۔ عشق و محبت کی باتیں، تشبیب دراصل جوانی کی باتوں کے ذکر کو کہتے ہیں۔ بعد میں غزل کے شروع میں عشقیہ باتوں کے ذکر کو کہنے لگے۔
قولہ : مَعْزُوْمَاتِھَا، اس میں اشارہ ہے کہ عزم مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ امور جمع، عزم کی اضافت امور جمع کی جانب کی وجہ سے ہے
قولہ : لَتُبَیِّنُنَّہُ ، تَبَیّن سے جمع مذکر حاضر بانون ثقیلہ۔ تم ضرور بیان کرو گے اس میں لام قسمیہ ہے۔
قولہ : شراءھم ھذا، شراءھم، بئس کا فاعل ہے اور۔ ھذا، مخصوص بالمدح ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
(١) استعارۃ مکنیۃ : فی قولہ تعالیٰ : ” ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَریْق۔ استعارۃ مکنیۃ، وقد تقدمت الاشارۃ الیھا۔ (٢) الطباق : الطباق بین فقیر واغنیاء۔
(٣) المجاز المرسل : فی قولہ تعالیٰ : ” اَیْدِیْکم “ اذالمراد سیئاتکم، والعلامۃ ھی السببیۃ، لان الید یعنی السبب فیما یقترفہ الانسان من اعمال، مَتَاعُ الغرور۔ المتاع کل ما استمتع بہ الانسان من مال وغیرہ۔ والغرور : مصدر غَرّای خدع، والمغرور، الباطل۔
ما الحیوۃ الدنیا الامتاع الغرور۔ فی الآیۃ ۃ تشبیہٌ بلیغٌ۔ فقد شبّہ الدنیا بالمتاع الذی یدلس بہ باعہ علم طالبہ حتی یتخدع ویشتریہ۔
الاستعارۃ المکنیۃ : فی قولہ تعالیٰ ، وَاشتروابہ ثمناً قلیلا، وقد تقدمت۔
تفسیر و تشریح
لَقَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیآءُ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا ” مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا “ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تو یہودیوں نے کہا سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرا رب فقیر ہوگیا ہے کہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے ؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن کثیر)
ابوبکر (رض) کا فنحاص کو مارنا : ابن عباس سے ابن اسحق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ ابوبکر بیت المدارس میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ ایک یہودی جس کا نام فنحاص تھا، کے پاس جمع تھے یہ شخص یہودی علماء میں سے تھا۔ تو ابوبکر صدیق (رض) نے اس سے کہا۔ افسوس تیرے حال پر اے فنحاص تو اللہ سے ڈر اور اسلام لے آ، واللہ تو بخوبی جانتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور تم تورات میں یہ بات لکھی ہوئی پاتے ہو، تو فنحاص نے ابوبکر صدیق (رض) سے کہا واللہ اے (ابوبکر) ہم اللہ کے محتاج نہیں ہیں اللہ ہمارا محتاج ہے اور اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے بقول تمہارے صاحب کے قرض طلب نہ کرتا۔ تمہارا خدا ہم کو سود سے منع کرتا ہے اور خود دوگنا چوگنا دینے کا وعدہ کرتا ہے ابوبکر (رض) کو فنحاص کی اس گستاخی پر غصہ آگیا جس کی وجہ سے ایک طمانچہ رسید کردیا، اور فرمایا واللہ اگر باہم معاہدہ نہ ہوتا تو اے دشمن خدا میں تیری گردن مار دیتا، فنحاص نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر ابوبکر صدیق (رض) کی شکایت کرتے ہوئے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھو تمہارے دوست نے میرے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر صدیق (رض) سے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو ابوبکر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص نے خدا کی شان میں گستاخی کی جس کی وجہ سے مجھے غصہ آگیا، فنحاص اپنے اس قول سے مکر گیا مگر اللہ نے اپنے صدیق کی تصدیق فرماتے ہوئے ” لَقَدْ سمع اللہ قول الذین قالوا انَّ اللہ فقیر و نحن اغنیاء “ نازل فرمائی۔ (فتح القدیر شوکانی) ۔ اِنَّ اللہَ عَھِدَ اِلَیْنَا اَلَّانُؤمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتٰی یَأْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُ ۔
یہود کا طلب معجزہ قربان : بنی اسرائیل کی شریعت میں چونکہ صدقہ اور مال غنیمت کھانا حلا نہیں تھا اس لیے قربانی کے جانور کو ذبح کرکے اور صدقہ کے مال کو جمع کرکے رکھ دیا جاتا تھا اگر آسمانی آگ آکر اس کو جلا دیتی تو یہ اس کے مقبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی ورنہ وہ صدقہ مردودونامقبول سمجھا جاتا تھا۔ اور یہود کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ ہم کو تورات میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو تم اس سے نذر و صدقات کے مال کو آسمانی آگ سے جلانے کا مطالبہ کرو اگر وہ معجزہ دکھا دے تو اس کی نبوت پر ایمان لاؤ ورنہ نہیں، اس معجزہ سے حضرت مسیح (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مستثنیٰ تھے ان پر اس معجزہ کے بغیر ہی ایمان لانے کا حکم تھا۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہتے تو ان کو یہ جواب دے سکتے تھے کہ ہمارے اوپر ایمان لانے کے لیے یہ معجزہ دکھانا شرط نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس سوال کا جواب دوسرے طریقہ سے دیا، کہ اے رسول مقبول آپ ان سے کہیے کہ ہم سے پہلے جو پیغمبر آئے اور وہ یہ معجزہ بھی لائے پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا اگر اسی معجزہ پر تمہارے ایمان لانے کا دارومدار تھا تو ان پر ایمان لاتے۔
بائبل میں متعدد مقامات پر یہ ذکر آیا ہے کہ خدا کے یہاں کسی کی قربانی کے مقبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ غیب سے ایک آگ نمودار ہو کر اسے جلا دیتی تھی، (قضاۃ ٢: ٦۔ ١٢) لیکن یہ کسی جگہ نہیں لکھا ہے کہ اس طرح کی قربانی نبوت کی کوئی ضروری شرط ہے یا جس نبی کو یہ معجزہ نہ دیا گیا ہو وہ نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ محض ایک من گھڑت بہانہ تھا جو یہودیوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرنے کے لیے تصنیف کرلیا تھا لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کی حق دشمنی کا ثبوت یہ تھا کہ خود انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض نبی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے قربانی کا مذکورہ معجزہ پیش کیا مگر پھر بھی جرائم پیشہ لوگ ان کے قتل سے باز نہ آئے۔ مثال کے طور پر بائبل میں حضرت الیاس (ایلیا) کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ہبل کے پجاریوں کو چیلنج کیا کہ مجمع عام میں ایک بیل کی قربانی تم کرو اور ایک کی قربانی میں کرتا ہوں جس کی قربانی کو غیبی آگ کھالے وہی حق پر ہے، چناچہ ایک خلق کثیر کے سامنے یہ مقابلہ ہوا اور غیبی آگ نے حضرت الیاس کی قربانی کھالی، لیکن اس کا جو نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ اسرائیل کے بادشاہ کی ہبل پرست ملکہ حضرت الیاس کی دشمن ہوگئی اور وہ زن پرست بادشاہ اپنی ملکہ کی خاطر ان کے قتل کے درپے ہوا اور ان کو مجبوراً ملک سے نکل کر جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ (١۔ سلاطین، باب ١٩، ١٨)
10 Tafsir as-Saadi
اللہ تبارک و تعالیٰ ان متکبرین کے قول سے آگاہ فرماتا ہے جنہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں بدترین اور قبیح ترین بات کہی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ انہوں نے جو بدزبانی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے۔ وہ اس بدزبانی کو لکھ کر محفوظ کرلے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ دیگر افعال قبیحہ بھی محفوظ کرے گا۔ مثلاً ان کا خیر خواہی کرنے والے انبیاء کرام کو ناحق قتل کرنا، اور وہ ان کو ان افعال پر سخت سزا دے گا، ان کی اس ہر زہ گوئی۔۔۔” اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم دولت مند ہیں“۔۔۔ کے بدلے میں کہا جائے گا :”﴿ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ ﴾ ” یعنی بدن سے دل تک جلا ڈالنے والے عذاب کا مزا چکھو، ان کو دیا گیا یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴾ ” بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔“ وہ اس سے منزہ ہے
11 Mufti Taqi Usmani
Allah ney unn logon ki baat sunn li hai jo yeh kehtay hain kay : Allah faqeer hai aur hum maal daar hain . hum unn ki yeh baat bhi ( unn kay aemal namay mein ) likhay letay hain , aur unhon ney anbiya ko jo nahaq qatal kiya hai , uss ko bhi , aur ( phir ) kahen gay kay : dehakti aag ka maza chakho .
12 Tafsir Ibn Kathir
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہوگیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت ( لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ ) 3 ۔ آل عمران :181) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فخاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہوجا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فخاص نے جواب میں کہا ابوبکر سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا، اس پر حضرت صدیق اکبر کو سخت غصہ آیا اور فخاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بدنصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فخصاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کی آپ نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا ؟ حضرت صدیق نے واقعہ بیان کیا لیکن فخاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کلی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ پھر ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لئے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھاجائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا ؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس ولحاظ نہیں لہذا تم حق کے ساتھی نہ ہو نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقینا جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اولوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لئے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کردینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کردینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے زبر سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور " منیر " سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔