Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا ۛ وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْۤءٍ ۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهٗۤ اَمَدًاۢ بَعِيْدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗۗ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ 

يَوْمَ
جس دن
تَجِدُ
پائے گا
كُلُّ
ہر
نَفْسٍ
شخص
مَّا
جو
عَمِلَتْ
اس نے عمل کیا
مِنْ خَيْرٍ
نیکی میں سے
مُّحْضَرًا ٻ
حاضر کیا ہوا
وَّ
اور
مَا
جو
عَمِلَتْ
برائی میں سے
مِنْ سُوْۗءٍ
وہ چاہے گا
ڔ تَوَدُّ
کاش
لَوْ
بیشک
اَنَّ
اس کے درمیان (یعنی نفس)
بَيْنَهَا
اور
وَ
اس کے درمیان (یعنی عمل)
اَمَدًۢا
دور کا
بَعِيْدًا ۭ
اور
وَ
ڈراتا ہے تم کو
يُحَذِّرُكُمُ
اللہ
اللّٰهُ
اپنی ذات سے
نَفْسَهٗ ۭ
اور
وَ
اللہ
اللّٰهُ
بہت شفقت کرنے والا ہے
رَءُوْفٌۢ
بندوں پر۔ ساتھ بندوں کے
بِالْعِبَادِ
بندوں پر۔ ساتھ بندوں کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ دن آنے والا ہے، جب ہر نفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اُس نے بھلائی کی ہو یا برائی اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے

ابوالاعلی مودودی

وہ دن آنے والا ہے، جب ہر نفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اُس نے بھلائی کی ہو یا برائی اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے

احمد رضا خان

جس دن ہر جان نے جو بھلا کیا حاضر پائے گی اور جو برا کام کیا، امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے، اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،

احمد علی

جس دن ہرشخص موجود پائے گا اپنے سامنے اس نیکی کو جو اس نے کی تھی اور جو کچھ کہ اس نے برائی کی تھی اس دن چاہے گا کہ کاش درمیان اس کے اور درمیان اس کی برائی کے مسافت دور کی ہو اور الله تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور الله بندوں پر شفقت کرنے والا ہے

جالندہری

جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہو جاتی اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے

محمد جوناگڑھی

جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے

محمد حسین نجفی

اس دن کو یاد کرو جب ہر شخص اس بھلائی کو اپنے سامنے پائے گا جو اس نے کی ہوگی۔ اور برائی کو بھی (جنہیں دیکھ کر) خواہش کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے برے اعمال کے درمیان بڑا فاصلہ ہوتا۔ اور خدا تمہیں اپنی ذات (اپنے عذاب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

علامہ جوادی

اس دن کو یاد کرو جب ہر نفس اپنے نیک اعمال کو بھی حاضر پائے گا اور اعمال بد کو بھی جن کو دیکھ کر یہ تمناّ کرے گا کہ کاش ہمارے اور ان اِرے اعمال کے درمیان طویل فاصلہ ہوجاتا اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں پر مہربان بھی ہے

طاہر القادری

جس دن ہر جان ہر اس نیکی کو بھی (اپنے سامنے) حاضر پا لے گی جو اس نے کی تھی اور ہر برائی کو بھی جو اس نے کی تھی، تو وہ آرزو کرے گی: کاش! میرے اور اس برائی (یا اس دن) کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہوتا، اور اﷲ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اﷲ بندوں پر بہت مہربان ہے،