Skip to main content

وَدَّتْ طَّاۤٮِٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْۗ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ

وَدَّت
چاہتا ہے
طَّآئِفَةٌ
ایک گروہ
مِّنْ
سے
أَهْلِ
اہل
ٱلْكِتَٰبِ
کتاب (میں سے)
لَوْ
کاش
يُضِلُّونَكُمْ
وہ گمراہ کرسکیں تم کو
وَمَا
اور نہیں
يُضِلُّونَ
وہ گمراہ کرتے ہیں
إِلَّآ
مگر
أَنفُسَهُمْ
اپنے نفسوں کو
وَمَا
اورنہیں
يَشْعُرُونَ
وہ شعور رکھتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(اے ایمان لانے والو) اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹا دے، حالانکہ در حقیقت وہ اپنے سوا کسی کو گمرا ہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(اے ایمان لانے والو) اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹا دے، حالانکہ در حقیقت وہ اپنے سوا کسی کو گمرا ہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں، اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں

احمد علی Ahmed Ali

بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم کو گمراہ کردیں اور گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اہل کتاب کی ایک جماعت چاہتی ہے کہ تمہیں گمراہ کر دیں دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں (١)۔

٦٩۔١ یہ یہودیوں کے اس حسد و بغض کی وضاحت ہے جو اہل ایمان سے رکھتے تھے اور اسی عناد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اس طرح یہ خود ہی بےشعوری میں اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے اہل اسلام) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اہل کتاب کی ایک جماعت چاہتی ہے کہ تمہیں گمراه کر دیں۔ دراصل وه خود اپنے آپ کو گمراه کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر سکے حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو بھی گمراہ نہیں کرتے مگر انہیں اس کا شعور نہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اہلِ کتاب کا ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کردے حالانکہ یہ اپنے ہی کو گمراہ کررہے ہیں اور سمجھتے بھی نہیں ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(اے مسلمانو!) اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ تو (شدید) خواہش رکھتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر سکیں، مگر وہ فقط اپنے آپ ہی کو گمراہی میں مبتلا کئے ہوئے ہیں اور انہیں (اس بات کا) شعور نہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

یہودیوں کا حسد
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہیں ان کو چھپالیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گذرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہوگی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہوگا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لئے ہم پر حجت بن جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہہ دے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لئے آمادہ کردیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بیک نگاہ پہچان لیں گے۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہوجائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہوجائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہہ دو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے، اے مسلمانو ! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کئے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی