Skip to main content

اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا اُولٰۤٮِٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَ لِيْمٌ

إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يَشْتَرُونَ
جو لیتے ہیں
بِعَهْدِ
بدلے عہد کے
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَأَيْمَٰنِهِمْ
اور اپنی قسموں کے
ثَمَنًا
پیسے
قَلِيلًا
تھوڑے
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
لَا
نہیں
خَلَٰقَ
کوئی حصہ
لَهُمْ
ان کے لیے
فِى
میں
ٱلْءَاخِرَةِ
آخرت
وَلَا
اور نہ
يُكَلِّمُهُمُ
کلام کرے گا ان سے
ٱللَّهُ
اللہ
وَلَا
اور نہ
يَنظُرُ
وہ دیکھے گا
إِلَيْهِمْ
ان کی طرف
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
وَلَا
اور نہ
يُزَكِّيهِمْ
وہ پاک کرے گا ان کو
وَلَهُمْ
اور ان کے لئیے
عَذَابٌ
ان کے لیے
أَلِيمٌ
عذاب ہے دردناک

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ اُن سے بات کرے گا نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ اُن کے لیے تو سخت دردناک سزا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ اُن سے بات کرے گا نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ اُن کے لیے تو سخت دردناک سزا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

احمد علی Ahmed Ali

بے شک جو لوگ الله کے عہد اور اپنی قسمو ں کے بدلے حقیر معاوضہ لیتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور ان سے الله کلام نہیں کرے گا اور قیامت کے دن ان کی طرف نہ دیکھے گا اور انہیں پاک بھی نہ کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالٰی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالٰی نہ ان سے بات چیت کرے گا، اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے (١)۔

٧٧۔١ مذکورہ افراد کے برعکس دوسرے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک تو وہ جو عہد الٰہی اور اپنی قسموں کو پس پشت ڈال کر تھوڑے سے دینی مفادات کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے دوسرے وہ لوگ ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سودا بیچتے ہیں یا کسی کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کا مال ہتھیانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا نیز فرمایا تین آدمیوں سے اللہ تعالٰی نہ کلام کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ان میں ایک وہ شخص ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنا سودا بیچتا ہے۔ متعدد احادیث میں یہ باتیں بیان کی گئی ہیں۔ (ابن کثیرو فتح القدیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جو لوگ اللہ سے کئے گئے عہد و پیمان اور قسم اقسام کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ خدا قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر (رحمت) کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں کی کثافت سے) پاک کرے گا۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جو لوگ اللہ سے کئے گئے عہد اور قسم کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصّہ نہیں ہے اور نہ خدا ان سے بات کرے گا اور نہ روزِ قیامت ان کی طرف نظر کرے گا اور نہ انہیں گناہوں کی آلودگی سے پاک بنائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک جو لوگ اﷲ کے عہد اور اپنی قَسموں کا تھوڑی سی قیمت کے عوض سودا کر دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ قیامت کے دن اﷲ ان سے کلام فرمائے گا اور نہ ہی ان کی طرف نگاہ فرمائے گا اور نہ انہیں پاکیزگی دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جھوٹی قسم کھانے والے
یعنی جو اہل کتاب اللہ کے عہد کا پاس نہیں کرتے نہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرتے ہیں نہ آپ کی صفتوں کا ذکر لوگوں سے کرتے ہیں نہ آپ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اسی طرح جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان بدکاریوں سے وہ اس ذلیل اور فانی دنیا کا فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں نہ ان سے اللہ تعالیٰ کوئی پیار محبت کی بات کرے گا نہ ان پر رحمت کی نظر ڈالے گا نہ انہیں ان کے گناہوں سے پاک صاف کرے گا بلکہ انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دے گا اور وہاں وہ دردناک سزائیں بھگتتے رہیں گے، اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں جن میں سے کچھ یہاں بھی ہم بیان کرتے ہیں \0\01 مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن سے تو نہ اللہ جل شانہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت سے دیکھے گا، اور نہ انہیں پاک کرے گا، حضرت ابوذر نے یہ سن کر کہا یہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ یہ تو بڑے گھاٹے اور نقصان میں پڑے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر جواب دیا کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا، جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا، دے کر احسان جتانے والا، مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے \0\02 مسند احمد میں ہے ابو احمس فرماتے ہیں میں حضرت ابوذر سے ملا اور ان سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک حدیث بیان فرماتے ہیں تو فرمایا سنو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ تو بول نہیں سکتا جبکہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن لیا ہو تو کہئے وہ حدیث کیا ہے ؟ جواب دیا یہ کہ تین قسم کے لوگوں کو اللہ ذوالکرم دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو دشمن تو فرمانے لگے ہاں یہ حدیث میں نے بیان کی ہے اور میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی بھی ہے میں نے پوچھا کس کس کو دوست رکھتا ہے فرمایا ایک تو وہ جو مردانگی سے دشمنان اللہ سبحانہ کے مقابلے میں میدان جہاد میں کھڑا ہوجائے یا تو اپنا سینہ چھلنی کروا لے یا فتح کر کے لوٹے، دوسرا وہ شخص جو کسی قافلے کے ساتھ سفر میں ہے بہت رات گئے تک قافلہ چلتا رہا جب تھک کر چور ہوگئے پڑاؤ ڈالا تو سب سو گئے اور یہ جاگتا رہا اور نماز میں مشغول رہا یہاں تک کہ کوچ کے وقت سب کو جگا دیا۔ تیسرا وہ شخص جس کا پڑوسی اسے ایذاء پہنچاتا ہو اور وہ اس پر صبر و ضبط کرے یہاں تک کہ موت یا سفر ان دونوں میں جدائی کرے، میں نے کہا اور وہ تین کون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہے فرمایا بہت قسمیں کھانے والا تاجر، اور تکبر کرنے والا فقیر اور وہ بخیل جس سے کبھی احسان ہوگیا ہو تو جتانے بیٹھے، یہ حدیث اس سند سے غریب ہے \0\03 مسند احمد میں ہے کندہ قبیلے کے ایک شخص امروالقیس بن عامر کا جھگڑا ایک حضرمی شخص سے زمین کے بارے میں تھا جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ حضرمی اپنا ثبوت پیش کرے اس کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا تو آپ نے فرمایا اب کندی قسم کھالے تو حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس کی قسم پر ہی فیصلہ ٹھہرا تو رب کعبہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا آپ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم سے کسی کا مال اپنا کرلے گا تو جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اللہ اس سے ناخوش ہوگا پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو امروالقیس نے کہا یا رسول اللہ اگر تو کوئی چھوڑ دے تو اسے اجر کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت تو کہنے لگے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گواہ رہئے کہ میں نے وہ ساری زمین اس کے نام چھوڑی، یہ حدیث نسائی میں بھی ہے \0\04 مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال چھین لے تو اللہ جل جلالہ سے جب ملے گا تو اللہ عزوجل اس پر سخت غضبناک ہوگا، حضرت اشعث فرماتے ہیں اللہ کی قسم میرے ہی بارے میں یہ ہے ایک یہودی اور میری شرکت میں ایک زمین تھی اس نے میرے حصہ کی زمین کا انکار کردیا میں اسے خدمت نبوی میں لایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا تیرے پاس کچھ ثبوت ہے میں نے کہا نہیں آپ نے یہودی سے فرمایا تو قسم کھالے میں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ \0\05 مسند احمد میں ہے حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو شخص کسی مرد مسلم کا مال بغیر حق کے لے لے وہ اللہ ذوالجلال سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا، وہیں حضرت اشعث بن قیس (رض) آگے آئے اور فرمانے لگے ابو عبدالرحمن آپ کوئی سی حدیث بیان کرتے ہیں ؟ ہم نے دوہرا دی تو فرمایا یہ حدیث میرے ہی بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمائی ہے، میرا اپنے چچا کے لڑکے سے ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا تھا جو اس کے قبضے میں تھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب ہم اپنا مقدمہ لے گئے تو آپ نے فرمایا تو اپنی دلیل اور ثبوت لا کہ یہ کنواں تیرا ہے ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا میں نے کہا یا حضرت میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں اور اگر اس قسم پر معاملہ رہا تو یہ تو میرا کنواں لے جائے گا میرا مقابل تو فاجر شخص ہے اس وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث بھی بیان فرمائی اور اس آیت کی بھی تلاوت کی \0\06 مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا، پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون ہیں ؟ فرمایا اپنے ماں باپ سے بیزار ہونے والے اور ان سے بےرغبتی کرنے والی لڑکی اور اپنی اولاد سے بیزار اور الگ ہونے والا باپ اور وہ شخص کہ جس پر کسی قوم کا احسان ہے وہ اس سے انکار کر جائے اور آنکھیں پھیر لے اور ان سے یکسوئی کرے \0\07 ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا سودا بازار میں رکھا اور قسم کھائی کہ وہ اتنا بھاؤ دیا جاتا تھا تاکہ کوئی مسلمان اس میں پھنس جائے، پس یہ آیت نازل ہوئی، صحیح بخاری میں بھی یہ روایت مروی ہے۔ \0\08 مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں تین شخصوں سے جناب باری تقدس و تعالیٰ قیامت والے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دکھ درد کے عذاب ہیں ایک وہ جس کے پاس بچا ہوا پانی ہے پھر وہ کسی مسافر کو نہیں دیتا دوسرا وہ جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرتا ہے تیسرا وہ بادشاہ مسلمان سے بیعت کرتا ہے اس کے بعد اگر وہ اسے مال دے تو پوری کرتا ہے اگر نہیں دیتا تو نہیں کرتا ہے یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔