Skip to main content

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۤءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ

فَإِنَّكَ
پس بیشک آپ
لَا
نہیں
تُسْمِعُ
سنوا سکتے
ٱلْمَوْتَىٰ
مردوں کو
وَلَا
اور نہ
تُسْمِعُ
آپ سنوا سکتے ہیں
ٱلصُّمَّ
بہروں کو
ٱلدُّعَآءَ
پکار
إِذَا
جب
وَلَّوْا۟
وہ منہ موڑ جائیں
مُدْبِرِينَ
پیٹھ پھیرتے ہوئے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(اے نبیؐ) تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جو پیٹھ پھیرے بھاگے چلے جا رہے ہوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(اے نبیؐ) تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جو پیٹھ پھیرے بھاگے چلے جا رہے ہوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اس لیے کہ تم مُردوں کو نہیں سناتے اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھیریں

احمد علی Ahmed Ali

بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو آواز سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کرپھر جائیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے (١) اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں (٢) جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں۔ (۳)

٥٢۔١ یعنی جس طرح مردے فہم شعور سے عاری ہوتے ہیں، اسی طرح یہ آپ کی دعوت کو سمجھنے اور اسے قبول کرنے سے قاصر ہیں۔
٥٢۔٢ یعنی آپ کا وعظ و نصیحت ان کے لئے بے اثر ہے جس طرح کوئی بہرہ ہو، اسے تم اپنی بات نہیں سنا سکتے۔
٥٢۔۳ یہ ان کے اعراض کی مذید وضاحت ہے کہ مردہ اور بہرہ ہونے کے ساتھ وہ پیٹھ پھیر کر جانے والے ہیں حق کی بات ان کے کانوں میں کس طرح پڑ سکتی اور کیوں کر ان کے دل ودماغ میں سما سکتی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو تم مردوں کی (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں جب کہ وه پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول(ص)) آپ مُردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ہی بہروں کو (اپنی) پکار سنا سکتے ہیں جب وہ پیٹھ پھیرے چلے جا رہے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو آپ مفِدوں کو اپنی آواز نہیں سناسکتے ہیں اور بہروں کو بھی نہیں سناسکتے ہیں جب وہ منہ پھیر کر چل دیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(اے حبیب!) بیشک آپ نہ تو (اِن کافر) مُردوں کو اپنی پکار سناتے ہیں اور نہ (بدبخت) بہروں کو، جبکہ وہ (آپ ہی سے) پیٹھ پھیرے جا رہے ہوں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مسئلہ سماع موتی
باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ جس طرح یہ تیری قدرت سے خارج ہے کہ مردوں کو جو قبروں میں ہوں تو اپنی آواز سنا سکے۔ اور جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بہرے شخص کو جبکہ وہ پیٹھ پھیرے منہ موڑے جارہا ہو تو اپنی بات سنا سکے۔ اسی طرح سے جو حق سے اندھے ہیں تو ان کی رہبری ہدایت کی طرف نہیں کرسکتا۔ ہاں اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے جب وہ چاہے مردوں کو زندوں کو آواز سناسکتا ہے۔ ہدایت ضلالت اسکی طرف سے ہے۔ تو صرف انہیں سناسکتا ہے جو باایمان ہوں اور اللہ کے سامنے جھکنے والے اس کے فرمانبردار ہوں۔ یہ لوگ حق کو سنتے ہیں اور مانتے بھی ہیں یہ تو حالت مسلمان کی ہوئی اور اس سے پہلے جو حالت بیان ہوئی ہے وہ کافر کی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے ( اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ ۭ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ 36؀۬) 6 ۔ الانعام ;36) تیری پکار وہی قبول کریں گے جو کان دھر کر سنیں گے مردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ کرکے اٹھائے گا پھر سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان مشرکین سے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے تھے اور بدر کی کھائیوں میں ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھی ان کی موت کے تین دن بعد ان سے خطاب کرکے انہیں ڈانٹا اور غیرت دلائی۔ حضرت عمر نے یہ دیکھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے خطاب کرتے ہیں جو مر کر مردہ ہوگئے، تو آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم بھی میری اس بات کو جو میں انہیں کہہ رہا ہوں اتنا نہیں سنتے جتنا یہ سن رہے ہیں۔ ہاں وہ جواب نہیں دے سکتے۔ حضرت عائشہ (رض) نے اس واقعہ کو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی زبانی سن کر فرمایا کہ آپ نے یوں فرمایا کہ وہ اب بخوبی جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ حق ہے پھر آپ نے مردوں کے نہ سن سکنے پر اسی آیت سے استدالال کیا کہ آیت ( اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ 80؀) 27 ۔ النمل ;80) حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا تھا یہاں تک کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ بات انہوں نے سن لی تاکہ انہیں پوری ندامت اور کافی شرم ساری ہو۔ لیکن علماء کے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت بالکل صحیح ہے کیونکہ اس کے بہت سے شواہد ہیں۔ ابن عبدالبر نے ابن عباس سے مرفوعا ایک روایت صحت کرکے وارد کی ہے کہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی قبر کے پاس گذرتا ہے جسے یہ دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو اللہ اسکی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جواب دے۔