ان کے پہلو اُن کی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں،
English Sahih:
Their sides part [i.e., they arise] from [their] beds; they supplicate their Lord in fear and aspiration, and from what We have provided them, they spend.
1 Abul A'ala Maududi
اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُنہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
2 Ahmed Raza Khan
ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں ہسے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،
3 Ahmed Ali
اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے میں سے کچھ خرچ بھی کرتے ہیں
4 Ahsanul Bayan
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں (١) اپنے رب کے خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں (۲) اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں (۳)
١٦۔١ یعنی راتوں کو اٹھ کر نوافل (تہجد) پڑھتے توبہ استغفار، تسبیح تحمید اور دعا الحاح و زاری کرتے ہیں۔ ١٦۔٢ یعنی اس کی رحمت اور فضل و کرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب و غضب اور مؤاخذہ و عذاب سے ڈرتے بھی ہیں۔ محض امید ہی امید نہیں رکھتے کہ عمل سے بےپرواہ ہو جائیں جیسے بےعمل اور بدعمل لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ عذاب کا اتنا خوف طاری کر لیتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے ہی مایوس ہو جائیں کہ یہ مایوسی بھی کفر وضلالت ہے۔ ١٦۔۳یعنی انفاق میں صدقات واجبہ (زکوٰۃ) اور عام صدقہ و خیرات دونوں شامل ہیں، اہل ایمان دونوں کا حسب استطاعت اہتمام کرتے ہیں۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اُن کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
6 Muhammad Junagarhi
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں
7 Muhammad Hussain Najafi
(رات کے وقت) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ بیم و امید سے اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
ان کے پہلو بستر سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کو خوف اور طمع کی بنیاد پر پکارتے رہتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے رزق سے ہماری راہ میں انفاق کرتے رہتے ہیں
9 Tafsir Jalalayn
ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
10 Tafsir as-Saadi
﴿ تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ ان کے پہلو نہایت بے قراری سے ان کے آرام دہ بستروں سے علیحدہ رہتے ہیں اور وہ ایسی چیز میں مصروف رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ان آرام دہ بستروں سے زیادہ لذیذ اور زیادہ محبوب ہے۔ اس سے مراد رات کے وقت نماز اور اللہ سے مناجات ہے۔ اسی لیے فرمایا : ﴿ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ ﴾ دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول اور دینی و دنیاوی نقصانات کو روکنے کے لیے اپنے رب کو پکارتے ہیں ﴿ خَوْفًا وَطَمَعًا ﴾ خوف اور امید دونوں اوصاف کو یکجا کرکے، اس خوف کے ساتھ کہ کہیں ان کے اعمال ٹھکرا نہ دیئے جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ ان کے اعمال کو شرف قبولیت حاصل ہوجائے گا، نیز اس خوف سے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں نہ آجائیں اور اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انہیں ثواب سے سرفراز فرمائے گا۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ ﴾ ” اور اس میں سے جو ہم نے انہیں دیا ہے“ خواہ وہ تھوڑا رزق ہو یا زیادہ ﴿ يُنفِقُونَ ﴾ ” خرچ کرتے ہیں۔“ یہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کو کسی قید سے مقید نہیں کیا اور نہ اس شخص پر کوئی قید لگائی ہے، جس پر خرچ کیا جائے تاکہ آیت کریمہ عموم پر دلالت کرے، لہٰذا اس میں تمام نفقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ، کفارات، اہل و عیال اور اقارب وغیرہ پر خرچ کرنا اور نفقات مستحبہ بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا شامل ہے۔ مالی طور پر احسان کرنا مطلقاً نیکی ہے خواہ کسی محتاج کے ساتھ یہ احسان کیا جائے یا کسی مال دار کے ساتھ، اقارب کے ساتھ کیا جائے یا اجنبیوں کے ساتھ، مگر اس احسان کے افادے میں تفاوت کے مطابق اجر میں تفاوت ہوتا ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
unn kay pehlo ( raat kay waqt ) apney bistaron say juda hotay hain woh apney perwerdigar ko darr aur umeed ( kay milay jazbaat ) kay sath pukar rahey hotay hain , aur hum ney unn ko jo rizq diya hai , woh uss mein say ( naiki kay kamon mein ) kharch kertay hain .