Skip to main content

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَىْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَىْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيْلٍ

فَأَعْرَضُوا۟
پھر وہ منہ موڑ گئے
فَأَرْسَلْنَا
تو بھیجا ہم نے
عَلَيْهِمْ
ان پر
سَيْلَ
سیلاب
ٱلْعَرِمِ
بند تور (سیلاب۔ تیز رو سیلاب)
وَبَدَّلْنَٰهُم
اور بدل کردیا ہم نے ان کو
بِجَنَّتَيْهِمْ
بدلے ان کے دو باغوں کے
جَنَّتَيْنِ
دو باغ
ذَوَاتَىْ
والے
أُكُلٍ
میوے
خَمْطٍ
بدمزہ
وَأَثْلٍ
اور جھاؤ کے درخت
وَشَىْءٍ
اور کوئی چیز
مِّن
سے
سِدْرٍ
بیری (میں سے)
قَلِيلٍ
تھوڑی سی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

مگر وہ منہ موڑ گئے آخرکار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

مگر وہ منہ موڑ گئے آخرکار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو انہوں نے منہ پھیرا تو ہم نے ان پر زور کا اہلا (سیلاب) بھیجا اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انہیں بدل دیے جن میں بکٹا (بدمزہ) میوہ اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں

احمد علی Ahmed Ali

پھر انہوں نے نافرمانی کی پھر ہم نے ان پر سخت سیلاب بھیج دیا اور ہم نے ان کے دونوں باغوں کے بدلے میں دو باغ بد مزہ پھل کے اور جھاؤ کے اور کچھ تھوڑی سی بیریوں کے بدل دیے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

لیکن انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر زور کے سیلاب (کا پانی) بھیج دیا اور ہم ان کے ہرے بھرے باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیئے جو بدمزہ میووں والے اور (بکثرت) جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں والے تھے۔ (۱)

۱ ٦ ۔۱یعنی انہوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے اور بند تعمیر کرکے پانی کی جو رکاوٹ کی تھی اور اسے زراعت وباغبانی کے کام میں لاتے تھے ہم نے تندو تیز سیلاب کے ذریعے سے ان بندوں اور پشتوں کو توڑ ڈالا اور شاداب اور پھل دار باغوں کو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں صرف قدرتی جھاڑ جھنکاڑ ہوتے ہیں جن میں اول تو کوئی پھل لگتا ہی نہیں اور کسی میں لگتا بھی ہے تو سخت کڑوا کسیلا اور بدمزہ جنہیں کوئی کھا ہی نہیں سکتا البتہ کچھ بیری کے درخت تھے جن میں بھی کانٹے زیادہ اور بیر کم تھے۔ عرم، عرمۃ کی جمع ہے پشتہ یا بند یعنی ایسا زور کا پانی بھیجا جس نے اس بند میں شگاف ڈال دیا اور پانی شہر میں بھی آ گیا جس سے ان کے مکانات ڈوب گئے اور باغوں کو بھی اجاڑ کر ویران کردیا یہ بند سد مارب کے نام سے مشہور ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو انہوں نے (شکرگزاری سے) منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

لیکن انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر زور کے سیلاب (کا پانی) بھیج دیا اور ہم نے ان کے (ہرے بھرے) باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیئے جو بدمزه میوؤں والے اور (بکثرت) جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں والے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب چھوڑ دیا اور ان کے ان دو باغوں کو ایسے دو باغوں سے بدل دیا جن کے پھل بدمزہ تھے اور جھاؤ کے کچھ درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

مگر ان لوگوں نے انحراف کیا تو ہم نے ان پر بڑے زوروں کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دونوں باغات کو ایسے دو باغات میں تبدیل کردیا جن کے پھل بے مزہ تھے اور ان میں جھاؤ کے درخت اور کچھ بیریاں بھی تھیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر انہوں نے (طاعت سے) مُنہ پھیر لیا تو ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا اور ہم نے اُن کے دونوں باغوں کو دو (ایسے) باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل اور کچھ جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت رہ گئے تھے،