Skip to main content

وَاِنْ نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنْقَذُوْنَۙ

وَإِن
اور اگر
نَّشَأْ
ہم چاہیں
نُغْرِقْهُمْ
ہم غرق کردیں ان کو
فَلَا
تو نہیں
صَرِيخَ
کوئی مددگار
لَهُمْ
ان کے لئے/ تو نہ ہو کوئی ان کی چیخ
وَلَا
اور نہ
هُمْ
وہ
يُنقَذُونَ
بچائے جاسکتے ہیں/ وہ بچائے جاسکیں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم چاہیں تو اِن کو غرق کر دیں، کوئی اِن کی فریاد سننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جا سکیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہم چاہیں تو اِن کو غرق کر دیں، کوئی اِن کی فریاد سننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جا سکیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ہم چاہیں تو انہیں ڈبودیں تو نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں،

احمد علی Ahmed Ali

اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے پھر نہ ان کا کوئی فریاد رس ہوتا اور نہ وہ بچائے جاتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے۔ پھر نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہوتا نہ بچائے جائیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں۔ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوا اور نہ ان کو رہائی ملے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے۔ پھر نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہوتا نہ وه بچائے جائیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں پھر نہ کوئی ان کا فریاد رس ہو اور نہ ہی وہ چھڑائے جا سکیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اگر ہم چاہیں تو سب کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کافریاد رس پیدا ہوگا اور نہ یہ بچائے جاسکیں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں تو نہ ان کے لئے کوئی فریاد رَس ہوگا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گے،