Skip to main content

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ۙ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَاۤءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ ۖ اِنْ اَنْـتُمْ اِلَّا فِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ

وَإِذَا
اور جب
قِيلَ
کہا جاتا ہے
لَهُمْ
ان کو
أَنفِقُوا۟
خرچ کرو
مِمَّا
اس میں سے
رَزَقَكُمُ
جو رزق دیا تم کو
ٱللَّهُ
اللہ نے
قَالَ
کہتے ہیں وہ/ کہا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لِلَّذِينَ
ان لوگوں سے
ءَامَنُوٓا۟
جو ایمان لائے
أَنُطْعِمُ
کیا ہم کھلائیں
مَن
جس کو
لَّوْ
اگر
يَشَآءُ
چاہتا
ٱللَّهُ
اللہ
أَطْعَمَهُۥٓ
کھلا دیتا اس کو
إِنْ
نہیں
أَنتُمْ
ہو تم
إِلَّا
مگر
فِى
، میں
ضَلَٰلٍ
گمراہی (میں)
مُّبِينٍ
کھلی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں "کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں "کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا تم تو نہیں مگر کھلی گمراہی میں،

احمد علی Ahmed Ali

اور جب ان سے کہا جاتا ہےکہ الله کے رزق میں سے کچھ خرچ کیا کرو تو کافر ایمانداروں سے کہتے ہیں کیا ہم اسے کھلائیں گےکہ اگر الله چاہتا تو خود اسے کھلا سکتا تھا تم جو ہو تو صاف گمراہی میں پڑے ہوئے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرو، (١) تو یہ کفار ایمان والوں کو جواب دیتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں؟ جنہیں اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو خود کھلا پلا دیتا (٢) تم تو ہو ہی کھلی گمراہی میں۔

٤٧۔١ یعنی غربا مساکین اور ضرورت مندوں کو دو۔
٤٧۔٢ یعنی اللہ چاہتا تو ان کو غریب ہی نہ کرتا، تاہم ان کو دے کر اللہ کی مشیت کے خلاف کیوں کریں۔ یعنی یہ کہہ کر، غربا کی مدد کرو، کھلی غلطی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ یہ بات تو ان کی صحیح تھی کہ غربت و ناداری اللہ کی مشیت ہی سے تھی، لیکن اس کو اللہ کے حکم سے اعراض کا جواز بنا لینا غلط تھا، آخر انکی امداد کرنے کا حکم دینے والا بھی تو اللہ ہی تھا، اس لیے اسکی رضا تو اسی میں ہے کہ غرباء و مساکین کی امداد کی جائے۔ اس لیے کہ مشیت اور چیز ہے اور رضا اور چیز مشیت کا تعلق امور تکوینی سے ہے جس کے تحت جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی حکمت و مصلحت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور رضا کا تعلق امور تشریعی سے ہے، جن کو بجا لانے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے تاکہ ہمیں اس کی رضا حاصل ہو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق خدا نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا۔ تم تو صریح غلطی میں ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرو، تو یہ کفار ایمان والوں کو جواب دیتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں؟ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود کھلا پلا دیتا، تم تو ہو ہی کھلی گمراہی میں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ عطا کیا ہے اس سے (کچھ) راہِ خدا میں بھی خرچ کرو تو کافر اہلِ ایمان سے کہتے ہیں کیا ہم اسے کھلائیں جسے اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جب کہا جاتا ہے کہ جو رزق خدا نے دیا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کرو تو یہ کفّار صاحبانِ ایمان سے طنزیہ طور پر کہتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں جنہیں خدا چاہتا تو خود ہی کھلادیتا تم لوگ تو کِھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرو جو تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں: کیا ہم اس (غریب) شخص کو کھلائیں جسے اگر اللہ چاہتا تو (خود ہی) کھلا دیتا۔ تم تو کھلی گمراہی میں ہی (مبتلا) ہوگئے ہو،