Skip to main content

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ

وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے ہیں
مَتَىٰ
کب ہوگی
هَٰذَا
یہ
ٱلْوَعْدُ
دھکمی (پوری)
إِن
اگر
كُنتُمْ
ہو تم
صَٰدِقِينَ
سچے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہو گی؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہو گی؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

احمد علی Ahmed Ali

اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا، سچے ہو تو بتلاؤ۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وه کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا، سچے ہو تو بتلاؤ

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ (کافر) کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ (قیامت کا) وعدہ وعید کب پورا ہوگا؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور پھر کہتے ہیں کہ آخر یہ وعدہ قیامت کب پورا ہوگا اگر تم لوگ اپنے وعدہ میں سچّے ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (قیامت) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی۔
کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لئے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لئے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔ دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہوجائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کردیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کرسکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کرچکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا جس سے سب کے سب مرجائیں گے، کل جہان فنا ہوجائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہوگا۔