Skip to main content

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَـنَّةِ الْيَوْمَ فِىْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ

إِنَّ
بیشک
أَصْحَٰبَ
والے
ٱلْجَنَّةِ
جنت
ٱلْيَوْمَ
آج کے دن
فِى
میں
شُغُلٍ
ایک شغل (میں)/ کام (میں)
فَٰكِهُونَ
خوش ہورہے ہوں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک جنت والے آج دل کے بہلاووں میں چین کرتے ہیں

احمد علی Ahmed Ali

بے شک بہشتی اس دن مزہ سے دل بہلا رہے ہوں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسپ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں (١)

٥٥۔١ فَاکِھُونَ کے معنی ہیں فَرِحُونَ خوش مسرت کے ساتھ۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اہل جنت اس روز عیش ونشاط کے مشغلے میں ہوں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسﭗ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بے شک آج بہشتی لوگ اپنے مشغلہ میں خوش ہوں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بیشک اہل جنّت آج کے دن طرح طرح کے مشاغل میں مزے کررہے ہوں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بے شک اہلِ جنت آج (اپنے) دل پسند مشاغل (مثلاً زیارتوں، ضیافتوں، سماع اور دیگر نعمتوں) میں لطف اندوز ہو رہے ہوں گے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جنت کے مناظر۔
جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہوگا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بےفکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہوجائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بےغمی اور بےفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہوجائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہش مند اور اس کے لئے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے ؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بیحد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالا خانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند وبالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ تھے سب نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس کے لئے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ نے فرمایا انشاء اللہ کہو چناچہ انہوں نے کہا ان شاء اللہ۔ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لئے سلام ہے، جیسے فرمایا ( تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا 44؀) 33 ۔ الأحزاب ;44) (ترجمہ) ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہوگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا (السلام علیکم یا اھل الجنۃ یہی معنی ہیں اس آیت سلام قولا الخ، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہوجائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہوگا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہوگا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے، قرظی فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان سلام قولا میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں ؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضامندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنادیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں ؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کرسکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کرسکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چناچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ امام ابن جریر اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، واللہ اعلم۔