Skip to main content

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِيْنَ

إِنَّا
بیشک ہم نے
جَعَلْنَٰهَا
بنایا ہم نے اس کو
فِتْنَةً
ایک فتنہ /آزمائش
لِّلظَّٰلِمِينَ
ظالموں کے لیے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم نے اُس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہم نے اُس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک ہم نے اسے ظالموں کی جانچ کیا ہے

احمد علی Ahmed Ali

بے شک ہم نے اسے ظالموں کے لئےآزمائش بنایاہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جسے ہم نے ظالموں کے لئے سخت آزمائش بنا رکھا ہے (١)

٦٣۔١ آزمائش اس لئے کہ اس کا پھل کھانا بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ بعض نے اسے اس اعتبار سے آزمائش کہا کہ اس کے وجود کا انہوں نے انکار کیا کہ جہنم میں جب ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی تو وہاں درخت کس طرح موجود رہ سکتا ہے؟ یہاں ظالمین سے مراد اہل جہنم ہیں جن پر جہنم واجب ہوگی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

ہم نے اس کو ظالموں کے لئے عذاب بنا رکھا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جسے ہم نے ﻇالموں کے لئے سخت آزمائش بنا رکھا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جسے ہم نے ظالموں کیلئے آزمائش بنایا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جسے ہم نے ظالمین کی آزمائش کے لئے قرار دیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک ہم نے اس (درخت) کو ظالموں کے لئے عذاب بنایا ہے،