Skip to main content

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِىْۤ اَصْلِ الْجَحِيْمِۙ

إِنَّهَا
بیشک وہ
شَجَرَةٌ
ایک درخت ہے
تَخْرُجُ
جو نکلتا ہے
فِىٓ
سے
أَصْلِ
جڑ
ٱلْجَحِيمِ
جہنم کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک وہ ایک پیڑ ہے کہ جہنم کی جڑ میں نکلتا ہے

احمد علی Ahmed Ali

بے شک وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی جڑ میں اُگتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک وہ درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے (١)

٦٤۔١ یعنی اس کی جڑ جہنم کی گہرائی میں ہوگی البتہ اس کی شاخیں ہر طرف پھیلی ہوں گی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کے اسفل میں اُگے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بے شک وه درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی گہرائی سے نکلتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ ایک درخت ہے جوجہّنم کی تہہ سے نکلتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک یہ ایک درخت ہے جو دوزخ کے سب سے نچلے حصہ سے نکلتا ہے،