Skip to main content

فَقَالَ اِنِّىْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّىْ ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ۗ

فَقَالَ
تو اس نے کہا
إِنِّىٓ
بیشک میں نے
أَحْبَبْتُ
میں نے ترجیح دی
حُبَّ
محبت کو
ٱلْخَيْرِ
مال کی
عَن
سے
ذِكْرِ
یاد کی وجہ
رَبِّى
اپنے رب کی
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَوَارَتْ
سورج چھپ گیا
بِٱلْحِجَابِ
پردے میں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تو اس نے کہا "میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے" یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہو گئے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تو اس نے کہا "میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے" یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہو گئے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے

احمد علی Ahmed Ali

تو کہا میں نے مال کی محبت کو یاد الہیٰ سے عزیز سمجھا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھپ گیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تو انہوں نے کہا کہ میں مال (گھوڑوں) کی محبت میں اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ وہ (آفتاب) پردہ میں چھپ گیا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو انہوں نے کہا کہ میں ذکر خدا کی بنا پر خیر کو دوست رکھتا ہوں یہاں تک کہ وہ گھوڑے دوڑتے دوڑتے نگاہوں سے اوجھل ہوگئے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیا،