Skip to main content

اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَۖ

إِنَّكَ
بیشک تم
مَيِّتٌ
مرنے والے ہو
وَإِنَّهُم
اور بیشک وہ
مَّيِّتُونَ
مرنے والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے

احمد علی Ahmed Ali

بے شک آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے پیغمبر) تم بھی مر جاؤ گے اور یہ بھی مر جائیں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جھگڑوگے (اور وہ حق و باطل کا فیصلہ کرے گا)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر آپ کو بھی موت آنے والی ہے اور یہ سب مرجانے والے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(اے حبیبِ مکرّم!) بے شک آپ کو (تو) موت (صرف ذائقہ چکھنے کے لئے) آنی ہے اور وہ یقیناً (دائمی ہلاکت کے لئے) مردہ ہو جائیں گے (پھر دونوں موتوں کا فرق دیکھنے والا ہوگا)۔٭، ٭جس طرح آیت: ٢۹ میں دی گئی مثال کے مطابق دو افراد کے اَحوال قطعاً برابر نہیں ہوں گے اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور دوسروں کی موت بھی ہرگز برابر یا مماثل نہیں ہوں گی۔ دونوں کی ماہیت اور حالت میں عظیم فرق ہوگا۔ یہ مثال اسی مقصد کے لئے بیان کی گئی تھی کہ شانِ نبوّت کے باب میں ہمسری اور برابری کا گمان کلیتہً ردّ ہو جائے۔ جیسے ایک مالک کا غلام صحیح اور سالم رہا اور بہت سے بدخو مالکوں کا غلام تباہ حال ہوا اسی طرح اے حبیبِ مکرّم! آپ تو ایک ہی مالک کے برگزیدہ بندے اور محبوب و مقرب رسول ہیں سو وہ آپ کو ہر حال میں سلامت رکھے گا اور یہ کفار بہت سے بتوں اور شریکوں کی غلامی میں ہیں سو وہ انہیں بھی اپنی طرح دائمی ہلاکت کا شکار کر دیں گے۔