Skip to main content

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۤءُ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَـرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا

إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
لَا
نہیں
يَغْفِرُ
بخشے گا
أَن
کہ
يُشْرَكَ
شریک کیا جائے
بِهِۦ
اس کے ساتھ
وَيَغْفِرُ
اور بخش دے گا
مَا
جو
دُونَ
علاوہ ہے
ذَٰلِكَ
اس کے
لِمَن
واسطے جس کے
يَشَآءُۚ
وہ چاہے گا
وَمَن
اور جو کوئی
يُشْرِكْ
شریک کرے گا
بِٱللَّهِ
اللہ کے ساتھ
فَقَدِ
تو تحقیق
ٱفْتَرَىٰٓ
اس نے گھڑ لیا
إِثْمًا
گناہ
عَظِيمًا
بڑا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اِس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اِس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا،

احمد علی Ahmed Ali

بے شک الله اسے نہیں بخشتا جو اس کا شریک کرے اور شرک کے ماسوا دوسرےگناہ جسے چاہے بخشتا ہے اور جس نے الله کا شریک ٹھیرایا اس نے بڑا ہی گناہ کیا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یقیناً اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سواء جسے چاہے بخش دیتا ہے (١) اور جو اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا۔(۲)

٤٨۔١ یعنی ایسے گناہ جن سے مومن توبہ کئے بغیر مر جائیں، اللہ تعالٰی اگر کسی کے لئے چاہے گا، تو بغیر کسی قسم کی سزا دیئے معاف فرما دے گا اور بہت سوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر معاف فرما دے گا۔ لیکن شرک کسی صورت میں معاف نہیں ہوگا کیونکہ مشرک پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔ (۲) دوسرے مقام پر فرمایا (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔لقمان;13) "شرک ظلم عظیم ہے"حدیث میں اسے سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
٤۸۔۲ دوسرے مقام پر فرمایا (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔لقمان;13) شرک ظلم عظیم ہے ۔ حدیث میں اسے سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اکبر الکبائر الشرک باللہ۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یقینا اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (ہر گناہ) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بہت بڑے گناہ کے ساتھ بہتان باندھا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کا شریک قرار دیا جائے اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش سکتا ہے اور جو بھی اس کا شریک بنائے گا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے واقعۃً زبردست گناہ کا بہتان باندھا،