درجات بلند کرنے والا، مالکِ عرش، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح (یعنی وحی) اپنے حکم سے القاء فرماتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) اکٹھا ہونے والے دن سے ڈرائے،
English Sahih:
[He is] the Exalted above [all] degrees, Owner of the Throne; He places the inspiration of His command [i.e., revelation] upon whom He wills of His servants to warn of the Day of Meeting.
1 Abul A'ala Maududi
وہ بلند درجوں والا، مالک عرش ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح نازل کر دیتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کر دے
2 Ahmed Raza Khan
بلند درجے دینے والا عرش کامالک ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے
3 Ahmed Ali
وہ اونچے درجوں والا عرش کا مالک ہے اپنے حکم سے اپنےبندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے وحی بھیجتا ہے تاکہ وہ ملاقات (قیامت) کے دن سے ڈرائے
4 Ahsanul Bayan
بلند درجوں والا عرش کا مالک وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے تاکہ ملاقات کے دن ڈرائے۔
۱٥۔۱ روح سے مراد وحی ہے جو وہ بندوں میں سے ہی کسی کو رسالت کے لیے چن کر اس پر نازل فرماتا ہے وحی کو روح سے اس لیے تعبیر فربایا کہ جس طرح روح میں انسانی زندگی کی بقا و سلامتی کا راز مضمر ہے اسی طرح وحی سے بھی ان انسانی قلوب میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے جو پہلے کفر وشرک کی وجہ سے مردہ ہوتے ہیں۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے
6 Muhammad Junagarhi
بلند درجوں واﻻ عرش کامالک وه اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے، تاکہ وه ملاقات کے دن سے ڈرائے
7 Muhammad Hussain Najafi
(وہ) بلند درجوں والا (اور) عرش کا مالک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح (وحی) کو نازل کرتا ہے تاکہ وہ بارگاہِ الٰہی میں حضوری والے دن سے ڈرائے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
وہ خدا بلند درجات کا مالک اور صاحبِ عرش ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی کو نازل کرتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے لوگوں کو ڈرائے
9 Tafsir Jalalayn
وہ مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے
10 Tafsir as-Saadi
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال و کمال کا ذکر فرمایا جو عبادت میں اخلاص کا تقاضا کرتا ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ﴾ ” وہ درجات عالی کا مالک اور صاحب عرش ہے۔“ یعنی وہ بلند اور اعلیٰ ہے جو عرش پر مستوی ہے، عرش اس کے لئے مختص ہے، اس کے درجات بہت بلند ہیں وہ ان کی وجہ سے مخلوقات سے علیحدہ ہے اور ان کے ساتھ اس کا مرتبہ بلند ہے۔ اس کے اوصاف جلیل القدر ہیں اور اس کی ذات اس سے بلند تر ہے کہ اس کا قرب حاصل کیا جائے سوائے پاک اور طاہر و مطہر علم کے ذریعے سے اور وہ ہے اخلاص جو مخلص مومنین کے درجات کو بلند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور تمام مخلوق پر فوقیت عطا کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رسالت اور وحی کی نعمت کا ذکر کرتا ہے، فرمایا : ﴿يُلْقِي الرُّوحَ﴾ ” وہ نازل کرتا ہے روح۔“ یعنی وحی، جو قلب و روح کے لئے وہی حیثیت رکھتی ہے جو اجساد کے لئے ارواح کی ہے۔ جیسے روح کے بغیر بدن زندہ ہوتا ہے نہ زندہ رہ سکتا ہے اسی طرح روح اور قلب، روح وحی کے بغیر درست رہ سکتے ہیں نہ فلاح سے بہرہ مند ہوسکتے ہیں۔ ﴿يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ﴾ ” اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے“ جس میں بندوں کی منفعت اور مصلحت ہے ﴿عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ﴾ ” اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔“ اس سے اللہ تعالیٰ کے رسول مراد ہیں جنہیں اس نے فضیلت بخشی اور انہیں اپنی وحی اور بندوں کو دعوت دینے کے لئے مختص فرمایا۔ انبیاء و مرسلین مبعوث کرنے کا فائدہ بندوں کے لئے، ان کے دین، دنیا اور آخرت میں سعادت کا حصول اور ان کے دین، دنیا اور آخرت میں بدبختی کو دور کرنا ہے، بنا بریں فرمایا : ﴿ لِيُنذِرَ﴾ تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کی طرف وحی بھیجی گئی ہے ﴿ يَوْمَ التَّلَاقِ﴾ ” ملاقات کے دن سے“ یعنی وہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ملاقات کے دن سے ڈرائے اور انہیں ان اسباب کو تیار کرنے کے لئے آمادہ کرے جو ان کو اس صورت حال سے نجات دیتے ہیں جس میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ( يَوْمَ التَّلَاقِ) کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس دن خلاق اور مخلوق کی ملاقات ہوگی، مخلوق ایک دوسرے سے ملاقات کرے گی اور عمل کرنے والے اپنے اعمال اور ان کی جزا کاسامنا کریں گے۔
11 Mufti Taqi Usmani
woh oonchay darjon wala , arsh ka malik hai . woh apney bandon mai say jiss per chahta hai apney hukum say rooh ( yani wahi ) nazil ker deta hai takay mulaqat kay uss din say ( logon ko ) khabrdar keray
12 Tafsir Ibn Kathir
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے ( مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ ۭ ) 70 ۔ المعارج :3) ، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان انشاء اللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے ( يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ ) 16 ۔ النحل :2) ، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے ( وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ\019\02ۭ ) 26 ۔ الشعراء :192) یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں حضرت آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔ ابن زید فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ قتادہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہوگی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے ؟ کون ہوگا جو جواب تک دے ؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں ؟ صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کرلے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے ؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہر چیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہر چیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منای ندا کرے گا کہ لوگو ! قیامت آگئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لئے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لئے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہوگا بلکہ نیکیاں دس دس گنی کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندوں میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کرلیا ہے اور تم پر بھی حرام کردیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔ پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے ( مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28) 31 ۔ لقمان :28) یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کردینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کردینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے ( وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50) 54 ۔ القمر :50) یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہوجاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔