Skip to main content

فَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَىْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَاۚ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَۚ

فَمَآ
پس جو بھی
أُوتِيتُم
دیے گئے تم
مِّن
کوئی
شَىْءٍ
چیز
فَمَتَٰعُ
تو سامان ہے
ٱلْحَيَوٰةِ
زندگی کا
ٱلدُّنْيَاۖ
دنیا کی
وَمَا
اور جو
عِندَ
پاس ہے
ٱللَّهِ
اللہ کے
خَيْرٌ
بہتر ہے
وَأَبْقَىٰ
اور زیادہ باقی رہنے والا ہے
لِلَّذِينَ
ان لوگوں کے لیے
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَلَىٰ
اور پر
رَبِّهِمْ
اپنے رب
يَتَوَكَّلُونَ
وہ توکل کرتے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سر و سامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائدار بھی وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سر و سامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائدار بھی وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تمہیں جو کچھ ملا ہے وہ جیتی دنیا میں برتنےکا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

احمد علی Ahmed Ali

پھر جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ الله کے پاس ہے وہ بہتر اور سدا رہنے والا ہے یہ ان کے لیے ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تو تمہیں جو کچھ دیا گیا وہ زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے (١) اور اللہ کے پاس جو ہے وہ اس سے بدرجہ بہتر (٢) اور پائیدار ہے، وہ ان کے لئے ہے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

٣٦۔١ یعنی معمولی اور حقیر ہے، چاہے قارون کا خزانہ ہی کیوں نہ ہو، اس لئے اس سے دھوکے میں مبتلا نہ ہونا کہ یہ عارضی اور فانی ہے۔
٣٦۔٢ یعنی نیکیوں کا جو اجر و ثواب اللہ کے ہاں ملے گا وہ متاع دنیا سے کہیں بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، کیونکہ اس کو زوال اور فنا نہیں، مطلب ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح مت دو، ایسا کرو گے تو پچھتاؤ گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(لوگو) جو (مال ومتاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے۔ اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تو تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وه اس سے بدرجہ بہتر اور پائیدار ہے، وه ان کے لیے ہے جو ایمان ﻻئے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ صرف دنیٰوی زندگی کا (چند روزہ) ساز و سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر بھی ہے اور زیادہ پائیدار بھی ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پس تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ زندگانی دنیا کا چین ہے اوربس اور جو کچھ اللہ کی بارگاہ میں ہے وہ خیر اورباقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں اوراپنے پروردگار پربھروسہ کرتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو تمہیں جو کچھ بھی (مال و متاع) دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا (چند روزہ) فائدہ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے، (یہ) اُن لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر توکّل کرتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر سورة اعراف میں گذر چکی ہے۔ غصے پر قابو چاہیے کہ عین غصے اور غضب کی حالت میں بھی خوش خلقی اور درگذر کی عادت نہ چھوٹے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی اپنے نفس کا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں اگر اللہ کے احکام کی بےعزتی اور بےتوقیری ہوتی ہو تو اور بات ہے اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہوگیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آکر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔ بڑے بڑے امور میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم اللہ ہوتا ہے آیت (وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْر\015\09 ) 3 ۔ آل عمران ;159) یعنی ان سے مشورہ کرلیا کرو اسی لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت تھی کہ جہاد وغیرہ کے موقعہ پر لوگوں سے مشورہ کرلیا کرتے تاکہ ان کے جی خوش ہوجائیں۔ اور اسی بنا پر امیر المومنین حضرت عمر نے جب کہ آپ کو زخمی کردیا گیا اور وفات کا وقت آگیا چھ آدمی مقرر کر دئیے کہ یہ اپنے مشورے سے میرے بعد کسی کو میرا جانشین مقرر کریں ان چھ بزرگوں کے نام یہ ہیں۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف رضٰی اللہ تعالیٰ عنہم۔ پس سب نے باتفاق رائے حضرت عثمان کو اپنا امیر مقرر کیا پھر ان کا جن کے لئے آخرت کی تیاری اور وہاں کے ثواب ہیں ایک اور وصف بیان فرمایا کہ جہاں یہ حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی کمی نہیں کرتے اپنے مال میں محتاجوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں اور درجہ بدرجہ اپنی طاقت کے مطابق ہر ایک کے ساتھ سلوک و احسان کرتے رہتے ہیں اور یہ ایسے ذلیل پست اور بےزور نہیں ہوتے کہ ظالم کے ظلم کی روک تھام نہ کرسکیں بلکہ اتنی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ظالموں سے انتقام لیں اور مظلوم کو اس کے پنجے سے نجات دلوائیں لیکن ہاں ! اپنی شرافت کی وجہ سے غالب آکر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے کہ نبی اللہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں پر قابو پا کر فرما دیا کہ جاؤ تمہیں میں کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتا بلکہ میری خواہش ہے اور دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔ اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لئے گئے اور گرفتار ہو کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔ اور اسی طرح آپ نے غورث بن حارث کو معاف فرما دیا یہ وہ شخص ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوتے ہوئے اس نے آپ کی تلوار پر قبضہ کرلیا جب آپ جاگے اور اسے ڈانٹا تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور آپ نے تلوار لے لی اور وہ مجرم گردن جھکائے آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا آپ نے صحابہ کو بلا کر یہ منظر دکھایا اور یہ قصہ بھی سنایا پھر اسے معاف فرما دیا اور جانے دیا۔ اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم وقدرت کے باوجود آپ نے اس سے درگذر فرما لے اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ کو زہر دیا تھا آپ نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہوجانے کے باوجود بھی آپ نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کردیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں حضرت محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت حاصل ہوجائے گی یہ معلوم ہوجانے پر اور اس کے اقبال کرلینے پر بھی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے چھوڑ دیا۔ معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کردی گئی اس لئے اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے حضرت بشر بن برا فوت ہوگئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی اور بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔