Skip to main content

الَّذِىْ جَعَلَ لَـكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِيْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ

ٱلَّذِى
جس نے
جَعَلَ
بنایا
لَكُمُ
تمہارے لیے
ٱلْأَرْضَ
زمین کو
مَهْدًا
گہوارہ
وَجَعَلَ
اور بنائے
لَكُمْ
تمہارے لیے
فِيهَا
اس میں
سُبُلًا
راستے
لَّعَلَّكُمْ
تاکہ تم،
تَهْتَدُونَ
تم ہدایت پاؤ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے کیے کہ تم راہ پاؤ

احمد علی Ahmed Ali

وہ جس نے زمین کو تمہارا بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش (بچھونا) (١) بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے کر دیئے تاکہ تم راہ پا لیا کرو (٢)۔

١٠۔١ ایسا بچھونا، جس میں ثبات و قرار ہے، تم اس پر چلتے ہو، کھڑے ہوتے اور سوتے ہو اور جہاں چاہتے ہو، پھرتے ہو اس نے اس کو پہاڑوں کے ذریعے سے جما دیا تاکہ اس میں حرکت و جنبش نہ ہو۔
١٠۔٢ یعنی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لئے راستے بنا دیئے تاکہ کاروباری، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لئے تم آجا سکو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا) بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راه پالیا کرو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہی جس نے زمین کو تمہارے لئے گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دئیے تاکہ تم (منزل تک) راہ پاؤ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہ ہی جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور اس میں راستے قرار دیئے ہیں تاکہ تم راہ معلوم کرسکو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزلِ مقصود تک پہنچ سکو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اصلی زاد راہ تقویٰ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہوجائے کھیتیاں اور باغات سرسبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کردی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہوگئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا اور فرمایا اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کردیں۔ مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لئے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لئے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لئے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو۔ اب تمہیں چاہیے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کردیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی۔ اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے، ـ" سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں " حضرت علی بن ربیعہ فرماتے ہیں حضرت علی جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا (بسم اللہ) جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا دعا (الحمد للہ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الیٰ ربنا لمنقلبون) پھر تین مرتبہ (الحمد للہ) اور تین مرتبہ (اللہ اکبر) پھر فرمایا دعا (سبحانک لا الہ الا انت قد ظلمت نفسی فاغفرلی) پھر ہنس دئیے۔ میں نے پوچھا امیر المومنین آپ ہنسے کیوں ؟ فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال کیا آپ نے جواب دیا کہ جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے (رب اغفرلی) میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔ یہ حدیث ابو داؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبد اللہ بن عباس کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ نے تین مرتبہ (اللہ اکبر) کا تین مرتبہ (سبحان اللہ) اور ایک مرتبہ (لا الہ الا اللہ) کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور حضرت عبد اللہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا (مسند احمد) ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے (اللھم انی اسئلک فی سفری ھذا البر والتقوی و من العمل ما ترضی اللھم ھون علینا السفر اطولنا البعد اللھم انت الصاحب فی السفر و الخلیفۃ فی الاھل اللھم اصبحنا فی سفرنا واخلفنا فی اھلنا) یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہوجائے اے اللہ ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لئے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہباں ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے دعا (ائبون تائبون انشاء اللہ عابدون لربنا حامدون) یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے انشاء اللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے (مسلم ابو داؤد نسائی وغیرہ) ابو ل اس خزاعی فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری سواری کے لئے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نہیں دیکھتے کہ آپ ہمیں اس پر سوار کرائیں۔ آپ نے فرمایا سنو ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لئے خادم بنا لو، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔ (مسند احمد) حضرت ابو ل اس کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے (رض) ۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو۔