Skip to main content

وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا ۗ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَـكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ ۗ

وَجَعَلُوا۟
اور انہوں نے بنادیا
لَهُۥ
اس کے لیے
مِنْ
میں سے
عِبَادِهِۦ
اس کے بندوں
جُزْءًاۚ
ایک جزو۔ حصہ
إِنَّ
بیشک
ٱلْإِنسَٰنَ
انسان
لَكَفُورٌ
البتہ ناشکرا ہے
مُّبِينٌ
کھلم کھلا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی) اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا، حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی) اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا، حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا بیشک آدمی کھلا ناشکرا ہے

احمد علی Ahmed Ali

اورلوگوں نے اس کے بندوں کو اس کی اولاد بنا دیا بے شک انسان صریح ناشکرا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو جز ٹھہرا (١) دیا یقیناً انسان کھلا ناشکرا ہے۔

١٥۔١ عِبَاد سے مراد فرشتے اور جُزْء سے مراد بیٹیاں یعنی فرشتے، جن کو مشرکین اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ یوں وہ مخلوق کو اللہ کا شریک اور اس کا جزء مانتے تھے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی۔ بےشک انسان صریح ناشکرا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ٹھہرا دیا یقیناً انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور ان لوگوں نے خدا کے بندوں میں سے اس کا جزو قرار دیا ہے بیشک انسان کھلا ہوا ناشکراہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان لوگوں نے پروردگار کے لئے اس کے بندوں میں سے بھی ایک جزئ (اولاد) قرار دیدیا کہ انسان یقینا بڑا کھلا ہوا ناشکرا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اُن (مشرکوں) نے اس کے بندوں میں سے (بعض کو اس کی اولاد قرار دے کر) اس کے جزو بنا دیئے، بیشک انسان صریحاً بڑا ناشکر گزار ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مشرکین کا بدترین فعل
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورة انعام کی آیت ( وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ\013\06 ) 6 ۔ الانعام ;136) میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے ؟ اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کردیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لئے پسند کئے جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے ( اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى 21؀) 53 ۔ النجم ;21) کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لئے بیٹیاں ؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جز قرار دے لیا ہے پھر فرماتا ہے کہ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لئے کیسے پسند کرتے ہیں ؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔ لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لئے وہ ثابت کریں۔ پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہوجاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں (وما الحلی الا زینۃ من نقیصۃ، یتمم من حسن اذا الحسن قصرا۔ واما اذا کان الجمال موفرا، کحسنک لم یحتج الی ان یزورا) یعنی زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت ؟ اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے ان مضمون کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کرسکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کرسکتی ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے ؟ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بیخبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہوگا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیے اور ہوشیار رہنا چاہیے پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہوجاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لئے اولاد ثابت کی دوسری خطایہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں تیسری خطا یہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کردی۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کو رانہ تقلید ہے چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے ( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ 36؀) 16 ۔ النحل ;36) ، یعنی ہر امت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہوچکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا براحشر ہوا ؟ اور آیت میں ہے۔ ( وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ 45؀ ) 43 ۔ الزخرف ;45) ، یعنی تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی ؟ پھر فرماتا ہے یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے۔