الفتح آية ۲۷
لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَـقِّ ۚ لَـتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَـرَامَ اِنْ شَاۤءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَۙ لَا تَخَافُوْنَۗ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا
طاہر القادری:
بیشک اﷲ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حقیقت کے عین مطابق سچا خواب دکھایا تھا کہ تم لوگ، اگر اﷲ نے چاہا تو ضرور بالضرور مسجدِ حرام میں داخل ہو گے امن و امان کے ساتھ، (کچھ) اپنے سر منڈوائے ہوئے اور (کچھ) بال کتروائے ہوئے (اس حال میں کہ) تم خوفزدہ نہیں ہو گے، پس وہ (صلح حدیبیہ کو اس خواب کی تعبیر کے پیش خیمہ کے طور پر) جانتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے سو اس نے اس (فتحِ مکہ) سے بھی پہلے ایک فوری فتح (حدیبیہ سے پلٹتے ہی فتحِ خیبر) عطا کر دی (اور اس سے اگلے سال فتحِ مکہ اور داخلۂ حرم عطا فرما دیا)،
English Sahih:
Certainly has Allah showed to His Messenger the vision [i.e., dream] in truth. You will surely enter al-Masjid al-Haram, if Allah wills, in safety, with your heads shaved and [hair] shortened, not fearing [anyone]. He knew what you did not know and has arranged before that a conquest near [at hand].
1 Abul A'ala Maududi
فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھا یا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا انشاءاللہ تم ضرور مسجد حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہو گے، اپنے سر منڈواؤ گے اور بال ترشواؤ گے، اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا وہ اُس بات کو جانتا تھا جسے تم نہ جانتے تھے اس لیے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے اُس نے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی
2 Ahmed Raza Khan
بیشک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب بیشک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے بال منڈاتے یا ترشواتے بے خوف، تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نیں تو اس سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی
3 Ahmed Ali
بے شک الله نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا کہ اگر الله نے چاہا تو تم امن کے ساتھ مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے اپنے سر منڈاتے ہوئے اور بال کتراتے ہوئے بے خوف و خطر ہوں گے پس جس بات کو تم نہ جانتے تھے اس نے اسے جان لیا تھا پھر اس نے اس سے پہلےہی ایک فتح بہت جلدی کر دی
4 Ahsanul Bayan
یقیناً اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کا خواب سچ کر دکھایا کہ انشاء اللہ تم یقیناً پورے امن و امان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہو گے سر منڈواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر (۱)، وہ ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے (۲) پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی (۳)۔
۲۷۔۱ واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھا گیا نبی کا خواب بھی بمنزلہ وحی ہی ہوتا ہے تاہم اس خواب میں یہ تعیین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان اسے بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے عمرے کے لیے فورا ہی آمادہ ہوگئے اور اس کے لیے عام مندی کرا دی گئی اور چل پڑے بالآخر حدیبیہ میں وہ صلح ہوئی جس کی تفصل ابھی گزری دراں حالیکہ اللہ کے علم میں اس خواب کی تعبیر آئندہ سال تھی جیسا کہ آئندہ سال مسلمانوں نے نہایت امن کے ساتھ یہ عمرہ کیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے خواب کو سچا کر دکھایا ۔
٢٧۔۲یعنی اگر حدیبیہ کے مقام پر صلح نہ ہوتی تو جنگ سے مکے میں مقیم کمزور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا صلح کے ان فوائد کو اللہ ہی جانتا تھا۔
٢٧۔۳ اس سے فتح خیبر و فتح مکہ کے علاوہ، صلح کے نتیجے میں جو بہ کثرت مسلمان ہوئے وہ بھی مراد ہے، کیونکہ وہ بھی فتح کی ایک عظیم قسم ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ڈیڑھ ہزار تھے، اس کے دوسال بعد جب مسلمان مکے میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو ان کی تعداد دس ہزار تھی۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
بےشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا۔ کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہوگے۔ اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے۔ جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی
6 Muhammad Junagarhi
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ انشاءاللہ تم یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے سرمنڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر، وه ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی
7 Muhammad Hussain Najafi
(اللہ) اس بات کو جانتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے تو اس نے اس (تعبیرِ خواب) سے پہلے تمہیں ایک قریبی فتح عطا کر دی۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
بیشک خدا نے اپنے رسول کو بالکل سچا خوب دکھلایا تھا کہ خدا نے چاہا تو تم لوگ مسجد الحرام میں امن و سکون کے ساتھ سر کے بال منڈا کر اور تھوڑے سے بال کاٹ کر داخل ہوگے اور تمہیں کسی طرح کا خوف نہ ہوگا تو اسے وہ بھی معلوم تھا جو تمہیں نہیں معلوم تھا تو اس نے فتح مکہّ سے پہلے ایک قریبی فتح قرار دے دی
9 Tafsir Jalalayn
بیشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہو گے اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی تو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرا دی
ترجمہ : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو واقعہ کے مطابق ہے یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حدیبیہ کے سال حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پہلے خواب میں دکھایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب امن وامان کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے ہیں اور حلق کرا رہے ہیں اور قصر کرا رہے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب کی اطلاع اپنے اصحاب کو دی تو آپ کے اصحاب بہت خوش ہوئے، چناچہ جب آپ کے اصحاب آپ کے ساتھ نکلے اور کافروں نے ان کو حدیبیہ میں روکا اور واپس ہوئے اور یہ واپسی ان پر گراں گزری اور بعض منافقین نے شک کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، اس کا قول بالحق، صدق کے متعلق ہے یا رئویا سے حال ہے اور رئویا کا مابعد اس (رئویا) کی تفسیر ہے، تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ انشاء اللہ تبرکا ہے امن وامان کے ساتھ، ضرور داخل ہو گے تمہیں کسی وقت بھی خوف نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ کو صبح میں جس خیر کا علم ہے تم اس کو نہیں جانتے اس دخول سے پہلے ایک قریبی فتح دیدی، وہ فتح خیبر ہے اور خواب (کی تعبیر) آئندہ سال واقع ہوئی، وہ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین حق کو تمام باقی ادیان پر غالب کر دے اور اللہ کافی گواہ ہے کہ آپ کو مذکورہ چیزیں دے کر بھیجا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد اللہ کے رسول ہیں، محمد متبداء ہے (اور رسول اللہ) اس کی خبر اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں یعنی آپ کے رفقاء مومنین (والذین معہ) مبتداء ہے، اشداء اس کی خبر ہے، کافروں پر سخت کہ ان پر رحم نہیں کرتے اور آپس میں رحم دل ہیں (رحماء بینھم) خبر ثانی ہے یعنی آپس میں مہربانی اور محبت رکھتے ہیں، جیسا کہ باپ کا بیٹے کے ساتھ برتائو ہوتا ہے، تو ان کو رکوع سجے کرتے ہوئے دیکھ گا رکعا، سجدا دونوں حال ہیں، اللہ کے فضل اور رضا مندی کی جستجو میں لگے رہتے ہیں جملہ متعلقہ ہے اور (یبتغون) یطلبون کے معنی میں ہیں ان کا نشان (یعنی) انی کی علامت ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے (سیما ھم) مبتداء ہے (فی وجوھھم) اس کی خبر، وہ ایک نور ہے، اور ایک سفیدی ہے جس کے ذریعہ آخرت میں پہچانے جائیں گے کہ ان لوگوں نے دنیا میں سجدہ کیا، (من اثر السجود) اسی سے متعلق ہے جس کے ذریعہ آخرت میں پہچانے جائیں گے کہ ان لوگوں نے دنیا میں سجدہ کیا، (من اثر السجود) اسی سے متعلق ہے جس سے خبر متعلق ہے اور وہ کائنۃ ہے اور نیز (من اثر السجود) خبر کے متعلق (کائنۃ) کی اس ضمیر سے حال قرار دیا گیا ہے جو خبر کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہی یعنی وصف مذکور تورات میں ان کی صفت ہے (ذلک مثلھم) مبتداء و خبر ہیں اور انجیل میں ان کی مثال اس کھیتی جیسی بیان کی گئی ہے کہ جس نے (انکھوا) کونپل نکالی ہو (مثلھم فی الانجیل) مبتداء ہے اور کزرع اخرج الخ اس کی خبر ہے اور شطاہ طاء کے سکون اور فتحہ کے ساتھ ہے، شطاہ ای فراخہ، یعنی اس نے اپنا چوزہ نکالا، مراد ابتدائی کونپل ہے، پھر اس کو قوی کیا اور اس کی مدد کی (فاذرہ) مد اور بلا مد دونوں طریقہ پر ہے، اس کو مضبوط کیا پھر موٹا کیا، پھر اپنے تنے پر کھڑے ہوگئی یعنی اپنی جڑ پر سوق، ساق کی جمع ہے کاشتکاروں کو خوش کرتی ہے یعنی ان کھیتی کرنے والوں کو اپنے حسن سے صحابہ کرام کو کھیتی سے تشبیہ دی اس لئے کہ ان کی ابتداء قلت اور ضعف سے ہوئی پھر وہ کثیر ہوگئے اور بہتر طریقہ پر طاقتور ہوگئے، تاکہ کافر ان سے جلیں (لیغیظ) محذوف سے متعلق ہے اور اس حذف پر اس کا ماقبل دلالت کرتا ہے یعنی صحابہ کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے آپ کے رفقاء میں سے جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے ان سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے (منھم) من بیان جنس کے لئے ہے نہ کہ تبعیض کے لئے اس لئے کہ تمام صحابہ مذکورہ صفت کے ساتھ متصف ہیں اور اجر عظیم سے مراد جنت ہے اور وہ دونوں یعنی (مغفرت اور جنت) ان کے بعد والوں کے لئے بھی آیات میں مذکور ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : بالحق یہ مصدر محذوف کی صفت ہے ای صدقا متلبسا بالحق
قولہ : لقد صدق اللہ، لقد میں لام جواب قسم کی تمہیں کے طور پر ہے، قسم محذوف ہے اور لتدخلن جواب قسم ہے جس پر لام توطیہ و تمہیں دلالت کر رہا ہے۔
قولہ : للتبرک یعنی انشاء اللہ تبرک وتعلیم کے لئے ہے نہ کہ تعلیق کے لئے
قولہ : للتبرک اس جملے کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : انشاء اللہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مخبر خبر کے بارے میں متردد ہے اور یہاں مخبر اللہ تعالیٰ ہیں، اللہ کے لئے تردد و محال ہے۔
جواب : ہاں انشاء اللہ تبرک اور تعلیم کے لئے ہے نہ کہ تعلیق کے لئے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : امنین اور محلقین اور مقصرین یہ تینوں تدخلن کے وائو محذوف سے حال ہیں، اس صورت میں یہ حال مترادفہ ہوں گے یا محلقین اور مقصرین دونوں آمنین کی ضمیر سے حال ہیں، اس صورت میں حال متداخلہ ہوں گے۔
قولہ : حالان مقدران یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔
اعتراض : حال اور ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے حالانکہ دخول کا زمانہ جو کہ حالت احرام کا زمانہ ہے اور ہے اور محلقین ومقصرین یعنی حلق و قصر کا زمانہ اور ہے۔
جواب :۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں حال مقدرہ ہیں یعنی وہ اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے لئے حلق اور قصر مقدر کردیا گیا ہے۔
قولہ : لاتخافون جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے خواہ تدخلن کی ضمیر سے یا آمنین کی ضمیر سے، یا محلقین کی ضمیر سے یا مقصرین کی ضمیر ہے۔
قولہ : لاتخافون ابدا
سوال : ابدا کے اضافہ سے کیا فائدہ ہے ؟
جواب :۔ جواب کا ماحصل یہ ہے کہ آمنین کے بعد لاخافون کا اضافہ تکرار معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ جو مامون ہوتا ہے وہی بےخوف بھی ہوتا ہے، اس تکرار کے شبہ کو دفع کرنے کے لئے ابدا کی قید کا اضافہ کیا، اس لئے کہ آمنین کا مطلب تو یہ ہے کہ حالت احرام میں تم مامون ہو اس لئے کہ مشرکین مکہ، محرم سے تعارض نہیں کرتے تھے اسی طرح حرم میں داخل ہونے والے سے بھی تعارض نہیں کرتے تھے، مگر احرام سے فارغ ہونے کے بعد کی اور اسی طرح حرم سے نکلے کے بعد کی کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ اب بھی یہ لوگ مامون رہیں گے تو لاتخافون ابدا کہہ کر اشارہ کردیا کہ حالت احرام اور غیر حالت احرام نیز حرم اور خارج حرم ہر صورت میں ہمیشہ مامون و بےخوف رہیں گے۔
قولہ : من دون ذلک ای الدخول
قولہ : متعاطفون، متوادون، دونوں اسم فاعل جمع مذکر غائب، تعاطف اور توادد (تفاعل) سے ماخوذ ہیں آپس میں مہربانی کرنا، محبت کرنا۔
قولہ : فی وجوھھم یہ کائنۃ محذوف کے متعلق ہو کر سیماھم مبتداء کی خبر ہے۔
قولہ : من اثر السجود بھی کائنۃ محذوف کے متعلق ہے اور من اثر السجود میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کائنۃ کی ضمیر سے حال ہو کر محلا منصوب ہو۔
قولہ : ذلک مبتداء اول ہے اور مثلھم مبتداء ثانی ہے اور ف یالتوراۃ مبتداء ثانی کی خبر ہے، مبتداء اور خبر مل کر جملہ ہو کر مبتداء اول کی خبر ہے۔
قولہ : مثلھم فی الانجیل مبتداء ہے، کزرع اخرج شطاء اس کی خبر ہے۔
قولہ : شطاء شطء فراخ النبات کو کہتے ہیں یعنی تخمک سے ابتداء نکلنے والی نوک، جس کو انکھوا یا سوئی کہتے ہیں، انکھوا کہنے کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ سوئی تخم کے اس حصہ سے نکلتی ہے جو تخم کی آنکھ کہلاتی ہے جو کہ اکثر تخموں میں بہت نمایاں ہوتی ہے مثلاً کھجور کی گٹھلی یا ناریل کی آنکھ، عربی میں اس کو فراخ کہتے ہیں، فراخ اور فراخ دراصل پرندے کے چوزے کو کہتے ہیں جس طرح چوزہ پرند سے نکلنے کی وجہ سے چوزہ کہلاتا ہے اسی طرح انکھو اتخم سے نکلنے کی وجہ سے بمنزلہ فراخ کے ہوتا ہے۔
تفسیر و تشریع
شان نزول :
جب صلح حدیبیہ مکمل ہوگئی اور یہ بات طے ہوگئی کہ اس وقت بغیر دخول مکہ اور بغیر ادائے عمرہ کے واپس مدینہ جانا ہے، اور صحابہ کرام کا یہ عزم عمرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواب کی بناء پر ہوا تھا، جو ایک طرح کی وحی تھی، اب بظاہر اس کا خلاف ہوتا ہوا دیکھ کر بعض صحابہ کرام کے دلوں میں یہ شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے کہ (معاذ اللہ) آپ کا خواب سچا نہ ہوا، دوسری طرف کفار و مشرکین نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تمہارے رسول کا خواب صحیح نہ ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی لقد صدق اللہ رسولہ الرئویا بالحق (معارف)
لقد صدق اللہ رسولہ الرئویا بالحق واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، نبی کا خواب بھی وحی ہی ہوتا ہے تاہم اس خواب میں یہ تعیین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ اسے بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے عمرہ کے لئے فوراً ًیار ہوگئے اور اس کے لئے عام منادی کرا دی اور نکل پڑے بالاخر حدیبیہ میں جو کہ حدود حرم سے متصل اور نہایت قریب ہے بلکہ اس کا بعض حصہ حدود حرم میں داخل ہے، صلح ہوئی، واقعہ کی تفصیل سورت کے شروع میں گذر چکی ہے، اس خواب کی تعبیر اللہ کے علم میں آئندہ سال مقدر تھی چناچہ آئندہ سال ٧ ھ میں مسلمانوں نے نہایت امن کے ساتھ عمرہ کیا، اس عمر ہکو عمرۃ القضاء کہتے ہیں۔ اس عمرہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصر کرایا اور حجتہ الوداع میں حلق کرایا، مسلمان چونکہ صلح حدیبیہ سے ناخوش اور کبیدہ خاطر تھے، وجہ اس کی یہ تھی کہ اس صلح کی مصلحتوں سے مسلمان ناواقف اور بیخبر تھے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دور میں نگاہیں جو کچھ پس پردہ دیکھ رہی تھیں وہ عام صحابہ سے بلکہ ان میں سے اچھے اچھے مدبر اور ذی فہم صحابہ کی نظروں سے بھی اس صلح کے فوائد پوشیدہ اور مخفی تھے جس کی وجہ سے وہ تذبذب اور تردد کا شکار ہوگئے۔
نکتہ : خواب کی تعبیر میں اشتباہ پیغمبر سے محال نہیں ہے، ورنہ تو آپ اول سال عمرہ کے لئے نہ نکلتے، اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کے الہامات اور خواب بدرجہ اولی محتمل ہیں۔ (خلاصۃ التفاسیر) صحیح بخاری میں ہے کہ اگلے سال عمرۃ القضاء میں حضرت معاویہ (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موئے مبارک قینچی سے تراشے تھے۔
مسئلہ : قصر سے حلق افضل ہے، مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ میں فرمایا، اے اللہ حلق کرانے والوں پر رحم فرما، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اور قصر کرنے والوں پر، فرمایا یا اللہ ! حلق کرنے والوں پر رحم فرما پھر صحابہ نے عرض کیا اور قصر کرنے والوں پر تو آپ نے فرمایا : قصر کرنے والوں پر بھی رحم کر۔
مسئلہ : اخبار میں انشاء اللہ کہنا ممنوع نہیں ہے مگر معاہدات اور اقرار میں دیانتہ بہتر اور قضاء بوجہ احتمال تعلیق مناسب نہیں۔
10 Tafsir as-Saadi
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : ﴿لَّقَدْ صَدَقَ اللّٰـهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ﴾ ” یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا۔“ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں حتیٰ کہ انہوں نے ان باتوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بھی اظہار کیا چنانچہ انہوں نے آپ سے عرض کیا : کیا آپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لئے آئیں گے اور طواف کریں گے؟ آپ نے جواب میں فرمایا :” کیا میں نے تمہیں یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ کی زیارت اور طواف سے بہرہ مند ہوں گے؟” انہوں نے جواب دیا ” نہیں“ تو آپ نے فرمایا : ” تم عنقریب بیت اللہ کی زیارت کے لئے جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ “ [صحیح البخاری، الشروط، باب الشروط فی الجھاد و المصالحة ۔۔۔حدیث:2732،2731)]
یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿لَّقَدْ صَدَقَ اللّٰـهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ﴾ یعنی اس خواب کا پورا اور سچا ہونا لازمی امر ہے اور اس تعبیر میں جرح و قدح نہیں کی جاسکتی ﴿لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللّٰـهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ﴾ یعنی تم اس حال میں مسجد حرام میں داخل ہوگے جو اس محرم گھر کی تعظیم کا تقاضا کرتا ہے کہ تم سرمنڈا کر یا بالوں کو ترشوا کر مناسک کو ادا کر رہے ہوگے اور ان کی تکمیل کر رہے ہوگے اور تمہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔
﴿فَعَلِمَ﴾ اسے تمام مصالح اور منافع معلوم ہیں ﴿مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِن دُونِ ذٰلِكَ﴾ ” جو تمہیں معلوم نہیں، پس اس نے کی اس سے پہلے“ یعنی ان اوصاف کے ساتھ داخل ہونے سے پہلے ﴿فَتْحًا قَرِيبًا﴾ ” نزدیک کی فتح“ چونکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بعض اہل ایمان کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کی نظروں سے اس کی حکمت اوجھل ہوگئی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت اور منفعت بیان فرمائی۔ یہی صورت تمام احکام شرعیہ کی ہے، تمام احکام شرعیہ ہدایت اور رحمت پر مبنی ہیں۔
11 Mufti Taqi Usmani
haqeeqat yeh hai kay Allah ney apney Rasool ko sacha khuwab dikhaya hai jo waqaey kay bilkul mutabiq hai . tum log inn sha Allah zaroor masjid-e-haram mein iss tarah aman o aman kay sath dakhil hogay kay tum ( mein say kuch ) ney apney saron ko bey khof o khatar mundwaya hoga , aur ( kuch ney ) baal tarashney hon gay . Allah woh baaten janta hai jo tumhen maloom nahi hain . chunacheh uss ney woh khuwab poora honey say pehlay aik qareebi fatah tey kerdi hai .
12 Tafsir Ibn Kathir
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خواب
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ آپ نے اس کا ذکر اپنے اصحاب سے مدینہ شریف میں ہی کردیا تھا حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اس سفر میں ہی کامیابی کے ساتھ اس خواب کا ظہور دیکھ لیں گے۔ وہاں جا کر جو رنگت بدلی ہوئی دیکھی یہاں تک کہ صلح نامہ لکھ کر بغیر زیارت بیت اللہ واپس ہونا پڑا تو ان صحابہ پر نہایت شاق گذرا۔ چناچہ حضرت عمر نے تو خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا بھی کہ آپ نے تو ہم سے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور طواف سے مشرف ہوں گے آپ نے فرمایا یہ صحیح ہے لیکن یہ تو میں نے نہیں کہا تھا کہ اسی سال ہوگا ؟ حضرت عمر نے فرمایا ہاں یہ تو نہیں فرمایا تھا آپ نے فرمایا پھر جلدی کیا ہے ؟ تم بیت اللہ میں جاؤ گے ضرور اور طواف بھی یقینا کرو گے۔ پھر حضرت صدیق سے یہی کہا اور ٹھیک یہی جواب پایا۔ اس آیت میں جو انشاء اللہ ہے یہ استثناء کے لئے نہیں بلکہ تحقیق اور تاکید کے لئے ہے اس مبارک خواب کی تاویل کو صحابہ نے دیکھ لیا اور پورے امن و اطمینان کے ساتھ مکہ میں گئے اور وہاں جا کر احرام کھولتے ہوئے بعض نے اپنا سر منڈوایا اور بعض نے بال کتروائے۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے کہا حضرت اور کتروانے والوں پر بھی۔ آپ نے دوبارہ بھی یہی فرمایا پھر لوگوں نے وہی کہا آخر تیسری یا چوتھی دفعہ میں آپ نے کتروانے والوں کے لئے بھی رحم کی دعا کی۔ پھر فرمایا بےخوف ہو کر یعنی مکہ جاتے وقت بھی امن وامان سے ہو گے اور مکہ کا قیام بھی بےخوفی کا ہوگا چناچہ عمرۃ القضاء میں یہی ہوا یہ عمرہ ذی قعدہ سنہ\0\07ہجری میں ہوا تھا۔ حدیبیہ سے آپ ذی قعدہ کے مہینے میں لوٹے ذی الحجہ اور محرم تو مدینہ شریف میں قیام رہا صفر میں خیبر کی طرف گئے اس کا کچھ حصہ تو از روئے جنگ فتح ہوا اور کچھ حصہ ازروئے صلح مسخر ہوا یہ بہت بڑا علاقہ تھا اس میں کھجوروں کے باغات اور کھیتیاں بکثرت تھیں، یہیں کے یہودیوں کو آپ نے بطور خادم یہاں رکھ کر ان سے یہ معاملہ طے کیا کہ وہ باغوں اور کھیتیوں کی حفاظت اور خدمت کریں اور پیداوار کا نصف حصہ دے دیا کریں، خیبر کی تقسیم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف ان ہی صحابہ میں کی جو حدیبیہ میں موجود تھے ان کے سوا کسی اور کو اس جنگ میں آپ نے حصہ دار نہیں بنایا، سوائے ان لوگوں کے جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے جو حضرات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے وہ سب اس فتح خیبر میں بھی ساتھ تھے۔ حضرت ابو دجانہ، سماک بن خرشہ کے سوا جیسے کہ اس کا پورا بیان اپنی جگہ ہے یہاں سے آپ سالم و غنیمت لئے ہوئے واپس تشریف لائے اور ماہ ذوالقعدہ سنہ\0\07ہجری میں مکہ کی طرف باارادہ عمرہ اہل حدیبیہ کو ساتھ لے کر آپ روانہ ہوئے، ذوالحلفیہ سے احرام باندھا قربانی کے لئے ساٹھ اونٹ ساتھ لئے اور لبیک پکارتے ہوئے ظہران میں پہنچے جہاں سے کعبہ کے بت دکھائی دیتے تھے تو آپ نے تمام نیزے بھالے تیر کمان بطن یا جج میں بھیج دئیے، مطابق شرط کے صرف تلواریں پاس رکھ لیں اور وہ بھی میان میں تھیں ابھی آپ راستے میں ہی تھے جو قریش کا بھیجا ہوا آدمی مکرز بن حفص آیا اور کہنے لگا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی عادت تو لڑنے کی نہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا بات ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ آپ تیر اور نیزے لے کر آرہے ہیں آپ نے فرمایا نہیں تو ہم نے وہ سب بھیج دیے ہیں اس نے کہا یہی ہمیں آپ کی ذات سے امید تھی آپ ہمیشہ سے بھلائی اور نیکی اور وفاداری ہی کرنے والے ہیں سرداران کفار تو بوجہ غیظ وغضب اور رنج وغم کے شہر سے باہر چلے گئے کیونکہ وہ تو آپ کو اور آپ کے اصحاب کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے اور لوگ جو مکہ میں رہ گئے تھے وہ مرد عورت بچے تمام راستوں پر اور کوٹھوں پر اور چھتوں پر کھڑے ہوگئے اور ایک استعجاب کی نظر سے اس مخلص گروہ کو اس پاک لشکر کو اس اللہ کی فوج کو دیکھ رہے تھے آپ نے قربانی کے جانور ذی طوٰی میں بھیج دئیے تھے خود آپ اپنی مشہور و معروف سواری اونٹنی قصوا پر سوار تھے آگے آگے آپ کے اصحاب تھے جو برابر لبیک پکار رہے تھے حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے
باسم الذی لا دین الا دینہ بسم الذی محمد رسولہ
خلوا بنی الکفار عن سبیلہ الیوم نضربکم علی تاویلہ
کما ضربنا کم علی تنزیلہ ضربا یزیل الھام عن مقیلہ
ویذھل الخلیل عن خلیلہ قد انزل الرحمن فی تنزیلہ
فی صحف تتلی علی رسولہ بان خیر القتل فی سبیلہ
یارب انی مومن بقیلہ
یعنی اس اللہ عزوجل کے نام جس کے دین کے سوا اور کوئی دین قابل قبول نہیں۔ اس اللہ کے نام سے جس کے رسول حضرت محمد ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اے کافروں کے بچو ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستے سے ہٹ جاؤ آج ہم تمہیں آپ کے لوٹنے پر بھی ویسا ہی ماریں گے جیسا آپ کے آنے پر مارا تھا وہ مار جو دماغ کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دے اور دوست کو دوست سے بھلا دے۔ اللہ تعالیٰ رحم والے نے اپنی وحی میں نازل فرمایا ہے جو ان صحیفوں میں محفوظ ہے جو اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تلاوت کئے جاتے ہیں کہ سب سے بہتر موت شہادت کی موت ہے جو اس کی راہ میں ہو۔ اے میرے پروردگار میں اس بات پر ایمان لا چکا ہوں۔ بعض روایتوں میں الفاظ میں کچھ ہیر پھیر بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ اس عمرے کے سفر میں جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مر الظہران) میں پہنچے تو صحابہ نے سنا کہ اہل مکہ کہتے ہیں یہ لوگ بوجہ لاغری اور کمزوری کے اٹھ بیٹھ نہیں سکتے یہ سن کر صحابہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواریوں کے چند جانور ذبح کرلیں ان کا گوشت کھائیں اور شوربا پئیں اور تازہ دم ہو کر مکہ میں جائیں آپ نے فرمایا نہیں ایسا نہ کرو تمہارے پاس جو کھانا ہو اسے جمع کرو چناچہ جمع کیا دستر خوان بچھایا اور کھانے بیٹھے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی وجہ سے کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ سب نے کھا پی لیا اور توشے دان بھر لئے۔ آپ مکہ شریف آئے سیدھے بیت اللہ گئے قریشی حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چادر کے پلے دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لئے اور اصحاب سے فرمایا یہ لوگ تم میں سستی اور لاغری محسوس نہ کریں، اب آپ نے رکن کو بوسہ دے کر دوڑنے کی سی چال سے طواف شروع کیا جب رکن یمانی کے پاس پہنچے جہاں قریش کی نظریں نہیں پڑتی تھیں تو وہاں سے آہستہ آہستہ چل کر حجر اسود تک پہنچے، قریش کہنے لگے تم لوگ تو ہر نوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہو گویا چلنا تمہیں پسند ہی نہیں تین مرتبہ تو آپ اسی طرح ہلکی دوڑ کی سی چال حجر اسود سے رکن یمانی تک چلتے رہے تین پھیرے اس طرح کئے چناچہ یہی مسنون طریقہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں بھی اسی طرح طواف کے تین پھیروں میں رمل کیا یعنی دلکی چال چلے۔ بخاری مسلم میں ہے کہ اصحاب رسول کو مدینے کی آب و ہوا شروع میں کچھ ناموافق پڑی تھی اور بخار کی وجہ سے یہ کچھ لاغر ہوگئے تھے، جب آپ مکہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے کہا یہ لوگ جو آرہے ہیں انہیں مدینے کے بخار نے کمزور اور سست کردیا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس کلام کی خبر اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کردی۔ مشرکین حطیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حجر اسود سے لے کر رکن یمانی تک طواف کے تین پہلے پھیروں میں دلکی چال چلیں اور رکن یمانی سے حجر اسود تک جہاں جانے کے بعد مشرکین کی نگاہیں نہیں پڑتی تھیں وہاں ہلکی چال چلیں پورے ساتوں پھیروں میں رمل کرنے کو نہ کہنا یہ صرف بطور رحم کے تھا، مشرکوں نے جب دیکھا کہ یہ تو سب کے سب کود کود کر پھرتی اور چستی سے طواف کر رہے ہیں تو آپس میں کہنے لگے کیوں جی انہی کی نسبت اڑا رکھا تھا کہ مدینے کے بخار نے انہیں سست و لاغر کردیا ہے ؟ یہ لوگ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ چست و چالاک ہیں، ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالقعدہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ شریف پہنچ گئے تھے اور روایت میں ہے کہ مشرکین اس وقت قعیقعان کی طرف تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صفا مروہ کی طرف سعی کرنا بھی مشرکوں کو اپنی قوت دکھانے کے لئے تھا، حضرت ابن ابی اوفی فرماتے ہیں اس دن ہم آپ پر چھائے ہوئے تھے اس لئے کہ کوئی مشرک یا کوئی ناسمجھ آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچا سکے، بخاری شریف میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرے کے لئے نکلے لیکن کفار قریش نے راستہ روک لیا اور آپ کو بیت اللہ شریف تک نہ جانے دیا آپ نے وہیں قربانیاں کیں اور وہیں یعنی حدیبیہ میں سر منڈوا لیا اور ان سے صلح کرلی جس میں یہ طے ہوا کہ آپ اگلے سال عمرہ کریں گے سوائے تلواروں کے اور کوئی ہتھیار اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ میں نہیں آئیں گے اور وہاں اتنی ہی مدت ٹھہریں گے جتنی اہل مکہ چاہیں پس اگلے سال آپ اسی طرح آئے تین دن تک ٹھہرے پھر مشرکین نے کہا اب آپ چلے جائیں چناچہ آپ وہاں سے واپس ہوئے صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن اہل مکہ حائل ہوئے تو آپ نے ان سے یہ فیصلہ کیا کہ آپ صرف تین دن ہی مکہ میں ٹھہریں گے جب صلح نامہ لکھنے لگے تو لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کی تو اہل مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جانتے تو ہرگز نہ روکتے بلکہ آپ محمد بن عبداللہ لکھئے، آپ نے فرمایا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں پھر آپ نے حضرت علی بن ابو طالب سے فرمایا لفظ یا رسول اللہ کو مٹا دو ۔ حضرت علی نے فرمایا نہیں نہیں قسم اللہ کی میں اسے ہرگز نہ مٹاؤں گا چناچہ آپ نے اس صلح نامہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر باوجود اچھی طرح لکھنا نہ جاننے کے لکھا، کہ یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کہ مکہ میں ہتھیار لے کر داخل نہ ہوں گے صرف تلوار ہوگی اور وہ بھی میان میں اور یہ کہ اہل مکہ میں سے جو آپ کے ساتھ جانا چاہے گا اسے آپ اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے اور یہ کہ آپ کے ساتھیوں میں سے جو مکہ میں رہنے کے ارادے سے ٹھہر جانا چاہے گا آپ اسے روکیں گے نہیں پس جب آپ آئے اور وقت مقررہ گذر چکا تو مشرکین حضرت علی کے پاس آئے اور کہا آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہئے کہ اب وقت گذر چکا تشریف لے جائیں چناچہ آپ نے کوچ کردیا۔ حضرت حمزہ کی صاحبزادی چچا چچا کہہ کر آپ کے پیچھے ہو لیں حضرت علی نے انہیں لے لیا اور انگلی تھام کر حضرت فاطمہ کے پاس لے گئے اور فرمایا اپنے چچا کی لڑکی کو اچھی طرح رکھو حضرت زہرا نے بڑی خوشی سے بچی کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اب حضرت علی اور حضرت زید اور حضرت جعفر میں جھگڑا ہونے لگا حضرت علی فرماتے تھے انہیں میں لے آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہیں حضرت جعفر فرماتے تھے میری چچا زاد بہن ہے اور ان کی خالہ میرے گھر میں ہیں۔ حضرت زید فرماتے تھے میرے بھائی کی لڑکی ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جھگڑے کا فیصلہ یوں کیا کہ لڑکی کو تو ان کی خالہ کو سونپا اور فرمایا خالہ قائم مقام ماں کے ہے حضرت علی سے فرمایا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ حضرت جعفر سے فرمایا کہ تو خلق اور خلق میں مجھ سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ حضرت زید سے فرمایا تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولیٰ ہے۔ حضرت علی نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ حضرت حمزہ کی لڑکی سے نکاح کیوں نہ کرلیں ؟ آپ نے فرمایا وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہیں پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جس خیر و مصلحت کو جانتا تھا اور جسے تم نہیں جانتے تھے اس بنا پر تمہیں اس سال مکہ میں نہ جانے دیا اور اگلے سال جانے دیا اور اس جانے سے پہلے ہی جس کا وعدہ خواب کی شکل میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوا تھا تمہیں فتح قریب عنایت فرمائی۔ یہ فتح وہ صلح ہے جو تمہارے دشمنوں کے درمیان ہوئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دشمنوں پر اور تمام دشمنوں پر فتح دے گا اس نے آپ کو علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ بھیجا ہے، شریعت میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں علم اور عمل پس علم شرعی صحیح علم ہے اور عمل شرعی مقبولیت والا عمل ہے اس کے اخبار سچے، اس کے احکام سراسر عدل و حق والے۔ چاہتا یہ ہے کہ روئے زمین پر جتنے دین ہیں عربوں میں، عجمیوں میں، مسلمین میں، مشرکین میں، ان سب پر اس اپنے دین کو غالب اور ظاہر کرے اللہ کافی گواہ ہے اس بات پر کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہی آپ کا مددگار ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔