Skip to main content

وَ اِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ۗ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ

وَإِذَا
اور جب
نَادَيْتُمْ
پکارتے ہو تم
إِلَى
طرف
ٱلصَّلَوٰةِ
نماز کی
ٱتَّخَذُوهَا
وہ بنا لیتے ہیں اس کو
هُزُوًا
مذاق
وَلَعِبًاۚ
اور کھیل
ذَٰلِكَ
یہ
بِأَنَّهُمْ
بوجہ اس کے بیشک وہ
قَوْمٌ
ایک ایسی قوم ہیں
لَّا
نہیں
يَعْقِلُونَ
وہ عقل رکھتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں

احمد علی Ahmed Ali

اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کے ساتھ ہنسی اور کھیل کرتے ہیں یہ ا س واسطے کہ وہ لوگ بے عقل ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں (١) یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں۔

٥٨۔١ حدیث میں آتا ہے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے، تکبیر کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے، شیطان ہی کی طرح شیطان کے پیروکاروں کو اذان کی آواز اچھی نہیں لگتی، اس لئے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث رسول بھی قرآن کی دین کا ماخذ اور اسی طرح حجت ہے۔ کیونکہ قرآن نے نماز کے لئے ' ندا ' کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ ' ندا 'کس طرح دی جائے گی؟ اس کے الفاظ کیا ہوں گے؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے۔ یہ چیزیں حدیث سے ثابت ہیں، جو اس کی حجیت اور ماخذ دین ہونے پر دلیل ہیں۔ حجت حدیث کا مطلب ; حدیث کے ماخذ دین اور حجت شرعیہ ہونے کا مطلب ہے، کہ جس طرح قرآن سے ثابت ہونے والے احکام و فرائض پر عمل کرنا ضروری ہے اور ان کا انکار کفر ہے۔ اس طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے والے احکام کا ماننا بھی فرض ہے، ان پر عمل کرنا ضروری اور ان کا انکار کفر ہے۔ صحیح حدیث چاہے متواتر ہو یا آحاد، قولی ہو، فعلی ہو یا تقریری۔ یہ سب قابل عمل ہیں۔ حدیث کا خبر واحد کی بنیاد پر یا قرآن سے زائد ہونے کی بنیاد پر یا ائمہ کے قیاس واجتہاد کی بنیاد پر یا راوی کی عدم فقاہت کے دعویٰ کی بنیاد پر یا عقلی استحالے کی بنیاد پر یا اسی قسم کے دیگر دعوؤں کی بنیاد پر، رد کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ سب حدیث سے اعراض کی مختلف صورتیں ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ اس لیے کہ سمجھ نہیں رکھتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جب تم (اذان دے کر لوگوں کو) نماز کی طرف بلاتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ بے وقوف ہیں، عقل سے کام نہیں لیتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اس کو مذا ق اور کھیل بنالیتے ہیں اس لئے کہ یہ بالکل بے عقل قوم ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جب تم نماز کے لئے (لوگوں کو بصورتِ اذان) پکارتے ہو تو یہ (لوگ) اسے ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (بالکل) عقل ہی نہیں رکھتے،