المائدہ آية ۶
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْـكَعْبَيْنِ ۗ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا ۗ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَاۤءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۤٮِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۤءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۤءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ۗ مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰـكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَ لِيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ
طاہر القادری:
اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ،
English Sahih:
O you who have believed, when you rise to [perform] prayer, wash your faces and your forearms to the elbows and wipe over your heads and wash your feet to the ankles. And if you are in a state of janabah, then purify yourselves. But if you are ill or on a journey or one of you comes from the place of relieving himself or you have contacted women and do not find water, then seek clean earth and wipe over your faces and hands with it. Allah does not intend to make difficulty for you, but He intends to purify you and complete His favor upon you that you may be grateful.
1 Abul A'ala Maududi
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو
2 Ahmed Raza Khan
اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤ ں دھوؤ اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو،
3 Ahmed Ali
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرور سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو
4 Ahsanul Bayan
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کہنیوں سمیت دھو لو (۱)۔ اپنے سروں کو مسح کرو (۲) اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو (۳) اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو (٤) ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم سے کوئی حاجت ضروری فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو (۵) اللہ تعالٰی تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا (٦) بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے (۷) تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔
٦۔١ منہ دھوؤ، یعنی ایک ایک دو دو یا تین تین مرتبہ دونوں ہتھیلیاں دھونے، کلی کرنے، ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کے بعد۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ منہ دھونے کے بعد ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے۔
٦۔۲ مسح پورے سر کا کیا جائے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے اپنے ہاتھ آگے سے پیچھے گدی تک لے جائے اور پھر وہاں سے آگے کو لائے جہاں سے شروع کیا تھا۔ اسی کے ساتھ کانوں کا مسح کر لے۔
٦۔۳ارجلکم کا عطف وجوھکم پر ہے یعنی اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ!
٦ ۔٤جنابت سے مراد وہ ناپاکی ہے جو احتلام یا بیوی سے ہم بستری کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی حکم میں حیض اور نفاس بھی داخل ہے۔ جب حیض اور نفاس کا خون بند ہو جائے تو پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے طہارت یعنی غسل ضروری ہے۔ البتہ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے (فتح القدیر)
٦۔۵ اس کی مختصر تشریح اور تیمم کا طریقہ سورۃ نساء کی آیت نمبر ٢٣ میں گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری میں اس کی شان نزول کی بابت آتا ہے کہ ایک سفر میں بیداء کے مقام پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہوگیا جس کی وجہ سے وہاں پر رکنا یا رہنا پڑا۔ صبح کی نماز کے لئے لوگوں کے پاس پانی نہ تھا اور تلاش ہوئی تو پانی دستیاب بھی نہیں ہوا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں تیمم کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے آیت سن کر کہا اے آل ابی بکر! تمہاری وجہ سے اللہ نے لوگوں کے لئے برکتیں نازل فرمائی ہیں یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ (تم لوگوں کے لئے سراپا برکت ہو) (صحیح بخاری)
٦۔٦اس لئے تیمم کی اجازت فرما دی ہے۔
٦۔۷ اسی لئے حدیث میں وضو کرنے کے بعد دعا کرنے کی ترغیب ہے۔ دعاؤں کی کتابوں سے دعا یاد کر لی جائے
5 Fateh Muhammad Jalandhry
مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو
6 Muhammad Junagarhi
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو
7 Muhammad Hussain Najafi
اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں اور کہنیوں سمیت اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔ اور سروں کے بعض حصہ کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو پھر غسل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو۔ یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو۔ اور پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو (مَل لو) اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی سختی کرے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں پاک صاف رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
ایمان والو جب بھی نماز کے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوںکو دھوؤ اور اپنے سر اور گٹّے تک پیروں کا مسح کرو اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرو اور اگر مریض ہو یا سفر کے عالم میں ہو یا پیخانہ وغیرہ نکل آیا ہے یا عورتوں کو باہم لمس کیاہے اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو -اس طرح کہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلو کہ خدا تمہارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں چاہتا. بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک و پاکیزہ بنا دے اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کردے شاید تم اس طرح اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ
9 Tafsir Jalalayn
مومنو ! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو۔ اور سر کا مسح کرلیا کرو۔ اور ٹخنوں تک پاؤں (دھولیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہاکر) پاک ہوجایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے آیا ہو یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو، اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مِٹّی لو اور اس منہ اور ہاتھو کا مسح (یعنی تیمم) کرلو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنی چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے۔ تاکہ تم شکر کرو۔
آیت نمبر ٦ تا ١١
ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کیلئے اٹھو یعنی اٹھنے کا ارادہ کرو حال یہ کہ تم بےوضو ہو تو اپنے چہرت اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھولیا کرو یعنی مع کہنیوں کے، جیسا کہ اس کو سنت نے بیان کیا ہے، اور سروں پر ہاتھ پھیرلیا کرو باء الصاق کے لئے ہے، یعنی مسح کو سروں سے بغیر پانی بہائے متعلق کردو مسح اسم جنس ہے لہٰذا جس پر مسح صادق آئے اس کا کم سے کم کافی ہے، اور وہ سر کے بعض بالوں کا مسح ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور ٹخنوں سمیت پیر دھولیا کرو جیسا کہ سنت نے بیان کیا ہے (اَرْجُلَکم) نصب کے ساتھ ہے اَیْدِیَکم پر عطف کرتے ہوئے اور جر پڑوس کی رعایت کی وجہ سے ہے، اور (کعبین) دو ابھرئی ہوئی ہڈیاں ہیں ہر پیر میں پنڈلی اور قدم کے جوڑ کے مقام پر، اور ہاتھ اور پیر اعضاء مغسولہ کے درمیان اس ممسوح کا فصل ان اعضاء کی طہارت میں وجوب ترتیب کا فائدہ دیتا ہے، اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور وجوب وضوء میں نیت دیگر عبادات کے مانند سنت (اِنما الاعمال بالنیات) سے ماخوذ ہے اور اگر تم جنبی ہو تو اچھی طرح طہارت حاصل کرلیا کرو، یعنی غسل کرلیا کرو اور اگر تم کو مرض ہو ایسا مرض کہ جس میں پانی مضر ہو یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت سے آیا ہو یعنی حدث کیا ہو، یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو، اور جستجو کے باوجود پانی دستیاب نہ ہو تو پاک مٹی کا قصد کرو (یعنی مٹی سے کام لو) تو اپنے چہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت مسح کرو مٹی پر دو ضرب لگا کر، اور باء الصادق کیلئے ہے، اور سنت نے یہ بات واضح کردی ہے کہ دونوں اعضاء کے مسح سے مراد استیعاب بالمسح ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر وضوء اور غسل اور تیمم فرض کرکے تمہارے کئے کسی قسم کی تنگی کرنا نہیں چاہتا، لیکن وہ چاہتا ہے کہ تم کو حدث سے اور گناہوں سے پاک کرے، اور دین کے قوانین بیان کرکے تمہارے اوپر اہنی نعمت تام کرنا چاہتا ہے تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور تم اپنے نعمت اسلام کو یاد کرو اور اپنے اس عہد کا خیال رکھو جو اس نے تم سے اس وقت لیا کہ جب تم نے نبی سے بیعت کرتے وقت کہا تھا کہ ہم نے سنا اور قبول کیا، ہر اس بات میں جس کا آپ حکم فرمائیں اور منع فرمائیں، خواہ ہم پسند کریں یا ناپسند کریں، اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کے بارے میں نقض عہد کرنے سے اللہ سے ڈرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ دلوں کے رازوں سے واقف ہے، تو اس کے علاوہ سے بطریق اولی واقف ہے، اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے لئے اسکے حقوق کے ساتھ راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے ساتھ انصاف نہ کرو، کہ تم ان سے دشمنی کی وجہ سے ان سے اپنا مقصد حاصل کرو، دوست و دشمن ہر ایک کے ساتھ انصاف کرو اور عدل خدا ترسی کے زیادہ مناسب ہے اللہ سے ڈرتے رہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے سو وہ تم کو اس کی جزاء دیگا ان لوگوں کیلئے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اچھا وعدہ ہے کہ ان کیلئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے اور وہ جنت ہے، اور جو لوگ کفر کریں اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں تو وہ جہنمی ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تمہارے اوپر کیا ہے جب ایک قوم یعنی قریش نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں تاکہ تم کو نقصان پہنچائیں (قتل کریں) مگر اللہ نے ان کے ہاتھوں کو تمہارے اوپر اٹھنے سے روک دیا اور تم کو اس سے محفوظ رکھا جس کا وہ تمہارے ساتھ کرنے کا ارادہ کرچکے تھے، اللہ سے ڈرتے رہو ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیر فوائد
قولہ : ای اَرَدتُّمْ الِقَیامَ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : اِذَا قُمتم الی الصلوۃِ فاغسلوا وجوھَکم، سے معلوم ہوتا ہے کہ طہارت شروع فی الصلوۃ کے بعد واجب ہے حالانکہ نماز شروع کرنے پہلے ہی طہارت کا ہونا ضروری ہے۔
جواب : یہ ہے کہ اِذَا قمتم کا مطلب ہے اِذَا اَرَدتم الیقامَ ، یعنی جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو طہارت حاصل کرو۔
سوال : قمتم بول کر اردتم کا ارادہ کس مناسبت سے ہے اس میں کونسا علاقہ ہے ؟
جواب : مسبب بول کر سبب مراد لیا گیا ہے ارادہ چونکہ قیام کا سبب ہے اور قیام مسبب ہے، لہٰذا یہاں قیام بول کر ارادہ مراد لیا گیا ہے
قولہ : وَانْتُمْ مُحْدِثُونَ ، یہ اضافہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی قیام الی الصلوۃ کا ارادہ ہو تو طہارت حاصل کرنا ضروری ہے خواہ پہلے سے طہارت حاصل ہو یا نہ ہو ؟
جواب : وضوء اسی وقت ضروری ہے کہ جب طہارت نہ ہو، اسی پر علماء کا اتفاق ہے، مگر ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا بہتر ہے۔
قولہ : المَرَافِق، یہ مرفق، میم کے کسرہ اور فاء کے زبر کے ساتھ ہے اس میں ایک لغت میم کے فتحہ اور فاء کے کسرہ کے ساتھ بھی ہے، اس جوڑ کو کہتے ہیں جو بازو اور پہنچے کے درمیان ہوتا ہے جس کو اردو زبان میں کہنی کہتے ہیں۔
قولہ : اَلْبَاءُ لِلْاِلْصَاقِ ، بعض حضرات نے کہا ہے کہ باز ائدہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ تبعیض کے لئے ہے، ابن ہشام اور زمخشری نے کہا ہے کہ الصاق کیلئے ہے یعنی مسح کو خواہ پورے سرکا ہو یا بعض کا سر سے متعلق کردو، امام مالک اور احمد نے احتیاطاً استیعاب کو واجب کہا ہے اور امام شافعی (رح) تعالیٰ نے اقل مقدار کو واجب کہا ہے اسلئے کہ یہ یقینی مقدار ہے، اور امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے ربع رأس کا مسح واجب قرار دیا ہے اور دلیل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث ہے جس میں وارد ہوا ہے، ” اَنَّہٗ مسح علی الناصیۃِ ، الناصیۃ مقدم الراس وھو بقدر ربع الرأس “۔
قولہ ؛ بالَصْبِ ، اَرْجلکم، میں دو قراءتیں ہیں لام کے فتحہ کے ساتھ یہ نافع اور ابن عامر اور کسائی اور حفص کی عاصم سے۔
قولہ ؛ بالجَرّ یہ باقی قراء سبعہ کی ہے، اسی اختلاف قراءت کہ وجہ سے پیروں کے دھونے یا مسح کرنے کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہوا ہے، اہل سنت کے نزدیک صرف غسل ہی واجب ہے اور اہل تشیع کے نزدیک مسح ہی ضروری ہے اور داؤد بن علی اور فرقہ زیدیہ میں سے ناصر للحق دونوں کے درمیان جمع کے قائل ہیں۔
قولہ : والجَرِّ للجوار، یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : بہت سے قراء ” ارجلکم “ میں لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں جر کی قراءت کی صورت میں رؤسکم پر عطف ہونے کی وجہ سے مسح کا حکم ہوگا حالانکہ یہ مذہب خوارج اور اہل تشیع کا ہے جو کہ سنت رسول اور سنت صحابہ کے عمل کے خلاف ہے۔
جواب : حاصل جواب یہ ہے کہ اَرْجُلِکم کسرہ لام رعایت جوار کی وجہ سے ہے نہ کہ عطف علی المجرور کی وجہ سے اور اس کی مثالیں قرآن اور غیر قرآن میں بکثرت ہیں۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات : اوپر کی آیات میں انسان کی راحت کی حلال چیزوں کا ذکر تھا، جو کہ اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا انعام ہے لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ منعم کا شکر گزار ہو، اور شکرگزاری کا ایک طریقہ نماز ہے اور نماز کیلئے طہارت ضروری ہے، اور طہارت کے لئے طریقہ طہارت کا جاننا ضروری ہے اسی واسطے مذکورہ آیت میں نماز کے بیان کے ساتھ طہارت کا طریقہ بھی بیان فرمایا۔ جب نماز پڑھنے کا ارادہ کرے اور بےوضو یا بےغسل ہو تو وضو یا غسل کرکے طہارت حاصل کرلے اور اگر پانی دستیاب نہ ہو یا پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو اس صورت میں تیمم کرے وضوء اور جنابت سے طہارت حاصل کرنے کیلئے تیمم ایک ہی طرح ہوگا، اگر پہلے سے وضو ہو تو وضوء کرنا ضروری نہیں ہے البتہ مستحب ہے، ایک وضوء سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہیں، صحیح مسلم میں حضرت بریدہ (رض) کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک وضوء سے چند نمازیں پڑھیں، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ ایک وضوء سے چند نمازیں پڑھنا آپ کی عادت شریفہ نہیں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے یہ کام قصداً کیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ اگرچہ ہر نماز کے لئے تازہ وضوء بہتر ہے مگر ایک وضوء سے چند نمازیں پڑھنا جائز ہے گویا آپ نے مذکورہ عمل بیان جواز کے لئے فرمایا۔ وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا امام احمد (رح) تعالیٰ کے نزدیک فرض ہے دیگر علماء اس کو سنت کہتے ہیں اسی طرح ڈاڑھی کے بالوں کی جڑ تک پانی پہنچانے کو بعض علماء فرض کہتے ہیں مگر اکثر علماء اس کو بھی سنت کہتے ہیں۔
کہنیاں غسل یدین میں داخل ہیں یا نہیں ؟ ہاتھوں کا مع کہنیوں کے دھونا ضروری ہے سوائے امام زفر (رح) تعالیٰ کے، حضرت جابر کی روایت جس کو دار قطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ دھوتے وقت کہنیوں کو بھی دھویا، اس حدیث کو اگرچہ منذری اور ابن صلاح وغیرہ نے ضعیف کہا ہے لیکن صحیح مسلم میں ابوھریرہ کی حدیث مذکور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابوھریرہ نے مونڈھے تک اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، اس حدیث سے جمہور علماء کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ کہنیاں غسل یدین میں داخل ہیں بلکہ اجر کے لحاظ سے اس سے بھی کچھ بڑھانا چاہیے، چناچہ ابوھریرہ کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مونڈھوں تک ہاتھ دھو کر فرمایا کہ قیامت کے دن وضوء کے اعضاء میں اللہ کی قدرت سے ایک چمک پیدا ہوگی اس لئے جس سے ہوسکے اپنی اس چمک کو بڑھائے۔
مذکورہ حدیث پر اعتراض : بعض علماء نے ابوہریرہ کے اس فعل پر اعتراض کیا ہے کہ ابوہریرہ (رض) کا یہ فعل عمرو بن شعیب کی اس حدیث کے خلاف ہے کہ جو مسند امام احمد، نسائی، ابو داؤد وغیرہ میں ہے، جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، ” جو شخص وضو میں تین دفعہ کی حد سے بڑھا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا “۔
مذکورہ اعتراض کا جواب : مذکورہ اعتراض کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے کہ عمرو بن شعیب کی اس حدیث میں وضوء کے اعضاء کو تین مرتبہ دھونے کا ذکر ہے اس لئے اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص تین دفع دھونے کی حد سے بڑھا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اس سے معلوم ہوا کہ ابوہریرہ اور عمروبن شعیب کی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے اسلئے کہ عمرو بن شعیب کی روایت میں تعداد میں حد سے بڑھنے کی ممانعت ہے اور ابوہریرہ کی روایت میں مقدار میں زیادتی کی سفارش ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی اس روایت پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ابوہریرہ اس روایت میں تنہا ہیں کسی اور صحابی سے یہ روایت مروی نہیں ہے، مگر یہ اعتراض بھی صحیح نہیں ہے، اسلئے کہ مصنف ابن ابی شیبہ کی صحیح روایتوں میں یہ فعل حضرت عبد اللہ بن عمر کا بھی موجود ہے۔
سر کا مسح اور ائمہ کا اختلاف : وضوء میں سر کا مسح فرض ہے امام مالک اور امام احمد کے نزدیک پورے سر کا مسح فرض ہے امام ابو
حنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک چوتھائی سر کا اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک کم سے کم حصے کا مسح کرلینے سے بھی فرض ادا پو جائیگا، ان دونوں حضرات کے نزدیک پورے سر کا مسح بہتر ہے۔ پاؤں دھونے کے سلسلہ میں شیعہ حضرات کے علاوہ امت میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے، شیعہ حضرات کا مسلک یہ ہے کہ پیروں پر مسح فرض ہے نہ کہ دھونا۔ (تفسیر ھدایۃ القرآن)
وَاِنْ کنتم جنبًا فاطّھَّروا، جنابت خواہ مباشرت سے ہو یا بیداری و خواب میں خروج منی سے دونوں صورتوں میں غسل واجب
ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے سورة نساء کی آیت ٤٣ ملاحظہ کریں) ۔
یَآیُّھا الذین آمنوا کونوا قوامین للہ شھَدَاء بالقسط (الآیۃ) پہلے کی تشریح سورة نساء کی آیت نمبر (١٣٥) میں اور دوسرے جملے کی سورة المائدہ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔
عاد لانہ گواہی کی اہمیت : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک عادلانہ گواہی کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہوتا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ، حضرت نعمان بن بشر (رض) کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے عطیہ دیا تو میری والدہ نے کہا اس عطیہ پر آپ جب تک اللہ کے رسول کو گواہ نہ بنائیں گے میں راضی نہیں ہوں گی چناچہ میرے والد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اللہ نے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو، اور فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا۔ (صحیح بخاری و مسلم)
10 Tafsir as-Saadi
یہ آیت عظیمہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ان کو بیان کرنے کی جتنی آسانی عطا فرمائی ہم ان کو بیان کریں گے۔
(١) جو کچھ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے ان پر عمل کرنا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اس طرح صادر ہوتا ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔﴾یعنی اے ایمان والے لوگو ! اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق ان امور پر عمل کرو جو ہم نے تمہارے لئے مشروع کئے ہیں۔
(٢) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾” جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو۔“ سے نماز کو قائم کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔
(٣) اس میں نماز کے لئے نیت کے حکم کا اثبات ہے فرمایا : ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾ یعنی جب تم نماز کی نیت اور ارادے سے اٹھو۔
(٤) نماز کی صحت کے لئے طہارت شرط ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کے لئے اٹھتے وقت طہارت کا حکم دیا ہے اور اصولی طور پر حکم (امر) وجوب کے لئے ہوتا ہے۔
(٥) طہارت نماز کا قوت داخل ہونے پر واجب نہیں ہوتی، بلکہ یہ تو صرف اس وقت واجب ہوتی ہے جب نماز پڑھنے کا ارادہ کیا جائے۔
(٦) ہر وہ نماز جس پر (الصلوۃ) کا اطلاق کیا جائے، مثلاً فرض، نفل، فرض کفایہ اور نماز جنازہ غیرہ ہر قسم کی نماز کے لئے طہارت فرض ہے حتیٰ کہ بہت سے اہل علم کے نزدیک مجرد سجدہ، مثلاً سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کے لئے بھی طہارت ضروری ہے۔
(٧) اس میں چہرے کے دھونے کا حکم ہے اور چہرے میں چہرے کا صرف سامنے کا حصہ شامل ہے یعنی سر کے بالوں کی حدود سے لے کر طول میں جبڑوں کے نیچے اور ٹھوڑی تک اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک، نیز کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چہرے کے دھونے میں شامل ہے اور یہ سنت ہے۔ چہرے پہ اگے ہوئے بال بھی چہرے میں داخل ہیں۔ اگر یہ زیادہ گھنے نہیں تو تمام جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو اوپر سے دھونا کافی ہے۔
[داڑھی کے بالوں میں خلال کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، (ترمذی، الطھارۃ، باب ماجاء فی تخلیل اللحیۃ، حدیث :31) اس لئے گھنی داڑھی میں بالخصو ص خلال بھی کیا جائے۔ (ص۔ ی) ]
(٨) اس میں ہاتھوں کو دھونے کا حکم ہے اور ہاتھوں کی حد کہنیوں تک ہے۔ جمہور مفسرین کے مطابق (اِلٰی) (مع) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ﴾ (النساء :4؍2) ” ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ (ملا کر) نہ کھاؤ“، نیز ہاتھ دھونے کا وجوب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ کہنیوں کو پوری طرح نہ دھویا جائے۔
(٩) سر پر مسح کرنے کا حکم ہے۔
(١٠) پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ کیونکہ (با) تَبْعِيْض کے لئے نہیں، بلکہ ِلصَاق کے لئے ہے اور یہ تمام تر سر کے مسح کو شامل ہے۔
(١١) سرکا مسح دونوں ہاتھوں سے کیا جائے یا ایک ہاتھ سے، کسی کپڑے سے کیا جائے یا لکڑی وغیرہ سے، جیسے بھی کیا جائے کفایت کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسح کا علی الاطلاق حکم دیا ہے کسی وصف سے مقید نہیں کیا۔ پس یہ چیز مسح کے اطلاق پر دلالت کرتی ہے۔
(١٢) وضو میں سر پر مسح کرنا فرض ہے۔ اگر ہاتھوں کے ساتھ سر پر مسح کرنے کی بجائے سر کو دھو لیا جائے، تو یہ کفایت نہیں کرے گا کیونکہ اس نے وہ کام نہیں کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔
(١٣) (وضو میں) دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا حکم بھی وہی ہے جو ہاتھوں کے بارے میں ہے۔
(١٤) اس میں نَصْب (زبر) کے ساتھ جمہور کی قراءت کے مطابق، روافض کارد ہے اور جب تک پاؤں ننگے ہیں، ان پر مسح کرناجائز نہیں۔
(١٥) ” وَاَرْجُلِكُم “ میں جر (زیر) کے ساتھ قراءت کے مطابق موزوں پر مسح کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں قراءتوں کو اپنے اپنے معنی پر محمول کیا جائے گا۔ اگر پاؤں میں موزے نہ پہنے ہوں تو نَصْب کے ساتھ قراءت کے مطابق پاؤں دھوئے جائیں اور اگر پاؤں میں موزے پہنے ہوئے ہیں تو جر کے ساتھ قراءت کے مطابق پاؤں پر مسح کیا جائے گا۔
(١٦) وضو کے اندر اعضا کو ترتیب کے ساتھ دھونے کا حکم ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا ہے نیز جب دو دھوئے جانے والے اعضا کے درمیان مسح والے عضو کا ذکر کیا جائے تو اس کا ترتیب کے سوا کوئی اور فائدہ نہیں۔
(١٧) ترتیب صرف ان چار اعضا کے ساتھ مخصوص ہے جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ رہا کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے، منہ دھونے، دایاں بازو اور بایاں بازو، دایاں پاؤں اور بایاں پاؤں دھونے میں ترتیب کا اعتبار تو یہ واجب نہیں۔ البتہ منہ دھونے سے پہلے کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا مستحب ہے۔ دایاں ہاتھ پہلے دھونا مستحب ہے۔ اسی طرح دایاں پاؤں پہلے دھونا مستحب ہے۔ کانوں کے مسح سے پہلے سرکا مسح کرنا مستحب ہے۔
(١٨) ہر نماز کے وقت تجدید وضو کا حکم ہے تاکہ مامور بہ پر عمل کیا جا سکے۔
[یہ بہتر صورت ہے، ورنہ ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ وضو برقرار ہو۔ فتح کے مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں اور فرمایا کہ یہ میں نے عمداً کیا ہے (تاکہ لوگوں کو اس کا جواز معلوم ہوجائے) (صحیح مسلم، الطھارۃ، باب جواز الصلوات کلھا بوضو، واحد، حدیث :277) (ص۔ ی) ]
(١٩) جنابت کی حالت میں غسل کا حکم دیا گیا ہے۔
(٢٠) غسل جنابت میں تمام بدن کا دھونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طہارت حاصل کرنے کو بدن کے کسی ایک حصے کے ساتھ مخصوص کرنے کی بجائے تمام بدن کی طرف مضاف کیا ہے۔
(٢١) جنابت کی حالت میں بالوں کو اندر اور باہر سے دھونے کا حکم ہے۔
(٢٢) طہارت کے حصول کے وقت حدث اصغر حدث اکبر کے اندر شامل ہوتا ہے۔ حدث اکبر سے طہارت کے حصول کے لئے غسل کرنے سے حدث اصغر سے بھی طہارت حاصل ہوجاتی ہے اس کے لئے اس کی نیت کرلینا کافی ہے۔ پھر وہ تمام بدن پر پانی بہائے، کیونکہ اللہ نے صرف پاکیزگی حاصل کرنے کا ذکر کیا ہے اور وضو لوٹانے کا ذکر نہیں فرمایا۔
[لیکن یہ بات اس وقت صحیح ہوگی جب سنت کے مطابق غسل جنابت کیا جائے اور وہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر شرم گاہ کو بائیں ہاتھ سے دھوکر اس ہاتھ کو مٹی یا صابن وغیرہ سے دھویا جائے، پھر وضو کیا جائے اور سر پر مسح کرنے کے بجائے تین بار سر پر پانی ڈالا جائے، پھر سارے بدن پر پانی ڈال کر غسل کیا جائے، پھر آخر میں جگہ بدل کر پیر دھوئے۔ اس طرح غسل جنابت کے بعد دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ دوران غسل شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگے۔ (ص۔ ی) ]
(٢٣) جنبی کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جس سے جاگتے یا سوتے منی خارج ہوئی ہو یا اس نے مجامعت کی ہو خواہ منی کا انزال نہ ہوا ہو۔
(٢٤) جسے یاد آجائے کہ اسے احتلام ہوا ہے مگر کپڑوں پر منی کے نشانات موجود نہ ہوں تو اس پر غسل واجب نہیں کیونکہ جنابت متحقق نہیں ہوئی۔
(٢٥) اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے تیمم مشروع فرمایا۔
(٢٦) تیمم کے جواز کے اسباب میں سے ایک سبب ایسا مرض ہے جس میں پانی کے استعمال سے ضرر پہنچتا ہو۔ اس صورت میں تیمم جائز ہے، نیز تیمم کے جواز کے جملہ اسباب میں سفر، وضو کا ٹوٹنا اور پانی کا موجود نہ ہونا شامل ہیں۔ پس پانی موجود ہونے کے باوجود مرض بھی تیمم کو جائز کردیتا ہے کیونکہ وضو سے ضرر کا اندیشہ ہے۔۔۔ اور باقی صورتوں میں پانی کا معدوم ہونا تیمم کا جواز فراہم کرتا ہے۔ خواہ انسان اپنے گھر میں ہی ہو۔
(٢٧) پیشاب اور پاخانہ کے راستوں میں سے کوئی چیز باہر نکلے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(٢٨) وہ اہل علم جو اس بات کے قائل ہیں کہ ان دو امور کے سوا کسی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا، وہ یہیں سے استدلال کرتے ہیں ان کے نزدیک فرج وغیرہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٢٩) جس فعل کے لئے صریح لفظ برا اور نا مناسب لگتا ہو اس کے لئے کنایہ استعمال کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ﴿أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ﴾ ” یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو۔ “
(٣٠) لذت اور شہوت سے عور کے بدن کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
[فاضل مفسر رحمہ اللہ نے غالباً لمس کو لغوی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں لے کر یہ بات کہی ہے، جیسا کہ لمس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے اور دوسری تفسیر لمس کی۔ جماع۔ کی گئی ہے۔ اس تفسیر کی رو سے محض عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، ہاں اگر چھونے سے مذی یا منی کا اخراج ہوگیا تو مذی کی صورت میں ذکر (آلہ تناسل) کو دھو کو وضو کرنا اور منی کی صورت میں غسل کرنا ضروری ہوگا۔ بصورت دیگر چاہے لذت و شہوت سے چھوئے، حتیٰ کہ بوسہ بھی لے لے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (دیکھیے، سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ، لالبانی، رقم 1000) (ص۔ ی) ]
(٣١) تیمم کی صحت پانی کے عدم وجود سے مشروط ہے۔
(٣٢) پانی کے وجود کے ساتھ ہی، خواہ انسان نماز کے اندر ہی کیوں نہ ہو، تیمم باطل ہوجاتا ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانی کی عدم موجودگی میں تیمم کو مباح فرمایا ہے۔
[یہ بھی بعض ائمہ کی رائے ہے۔ ایک دوسری رائے یہ کہ نماز شروع کردینے کے بعد نماز کے توڑنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ نماز پوری پڑھ لے۔ اس لئے کہ جس وقت اس نے نماز شروع کی تھی تو وہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کر کے شروع کی تھی اور اس کا ایسا کرنا شریعت کے مطابق تھا، اس لئے اس کی نماز صحیح ہوگی، کیونکہ یہ تیمم نماز کے ختم ہونے تک باطل نہیں ہوگا۔ (ص۔ ی)]
(٣٣) جب نماز کا وقت داخل ہوجائے اور انسان کے پاس پانی موجود نہ ہو تو اس پر اپنے پڑاؤ اور اردگرد نزدیک کے علاقہ میں پانی تلاش کرنا لازمی ہے، کیونکہ جس کسی نے پانی کو تلاش ہی نہ کیا ہو تو اس کے لئے (لَمْ يَجَدْ) ” اس نے پانی نہ پایا“ کا لفظ نہیں بولا جاتا۔
(٣٤) اگر تلاش کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو پورے وضو کے لئے کافی نہ ہو تو اس پر اس پانی کا استعمال لازم ہے۔ اس کے بعد تیمم کرلے۔
(٣٥) پاک اشیا کی وجہ سے متغیر پانی، تیمم پر مقدم ہے۔ یعنی یہ پانی طاہر پانی شمار ہوگا کیونکہ متغیر پانی بھی پانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً ﴾کے حکم میں آئے گا۔
(٣٦) تیمم میں نیت بہت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿فَتَيَمَّمُوا ﴾یعنی قصد کرو۔
(٣٧) تیمم کے لئے سطح زمین پر پڑی ہوئی گرد وغیرہ کافی ہوتی ہے تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم﴾ یا تو تغلیب کے باب سے ہے اور غالب طور پر اس کے لئے غبار کا ہونا ضروری ہے جس سے مسح کیا جائے اور جو چہرے اور ہاتھوں کے ساتھ لگ جائے، یا یہ افضل کی طرف راہنمائی ہے یعنی جب ایسی مٹی کا حصول ممکن ہو جس میں غبار شامل ہو تو وہ افضل ہے۔
(٣٨) نجس مٹی سے تیمم نہیں ہوتا، کیونکہ یہ پاک نہیں، بلکہ ناپاک ہے۔
(٣٩) تیمم میں تمام اعضا کی بجائے صرف چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا کافی ہے۔
(٤٠) اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿بِوُجُوهِكُمْ ﴾تمام چہرے کو شامل ہے اور تمام چہرے کا مسح واجب ہے۔ البتہ اس سے منہ اور ناک کے اندر مٹی داخل کرنا اور بالوں کی جڑوں تک مسخ کرنا مستثنیٰ ہے۔
(٤١) ہاتھوں کا مسح صرف ہاتھ اور کلائی کے جوڑ تک ہے، کیونکہ ہاتھ کا اطلاق صرف گٹے تک ہے۔ اگر کہنیوں تک ہاتھوں پر مسح تیمم کے لئے شرط ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس شرط سے مقید فرما دیتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وضو میں مقید فرمایا ہے۔
(٤٢) حدث (ناپاکی) خواہ اکبر ہو یا اصغر، ہر قسم کی ناپاکی میں تیمم جائز ہے بلکہ اگر جسم پر نجاست بھی لگی ہو، تب بھی تیمم جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کے ذریعے سے طہارت کو پانی کے ذریعے سے طہارت کا بدل بنایا ہے اور آیت کریمہ کے اطلاق کو کسی چیز سے مقید نہیں فرمایا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بدن کی نجاست، تیمم کے حکم میں داخل نہیں۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق حدث اکبر اور حدث اصغر کے بارے میں ہے اور یہ جمہور علماء کا مذہب ہے۔
(٤٣) حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں میں تیمم کا محل ایک ہی ہے یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنا۔
(٤٤) وہ شخص جسے حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں لاحق ہیں اگر تیمم کرتے وقت دونوں سے طہارت کی نیت کرلے تو تیمم ہوجائے گا۔ آیت کریمہ کا عموم اور اطلاق اس پر دلالت کرتا ہے۔
(٤٥) تیمم میں مسح ہاتھ سے یا کسی اور چیز سے جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (فَامْسَحُوا) میں صرف مسح کا حکم دیا ہے اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس چیز کے ساتھ مسح کیا جائے۔ اس لئے ہر چیز کے ساتھ مسح جائز ہے۔
(٤٦) تیمم میں بھی ترتیب اسی طرح شرط ہے جس طرح وضو میں شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھوں کے مسح سے قبل چہرے کا مسح کرنے سے ابتدا کی ہے۔
(٤٧) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لئے جو احکام مشروع فرمائے ہیں ان میں ہمارے لئے کوئی حرج، کوئی مشقت اور کوئی تنگی نہیں رکھی۔ یہ اس کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے تاکہ وہ ان کو پاک کرے اور ان پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔
(٤٨) پانی اور مٹی کے ذریعے سے ظاہری بدن کی طہارت، توحید اور خالص توبہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والی باطنی طہارت کی تکمیل ہے۔
(٤٩) تیمم کی طہارت میں اگرچہ وہ نظامت اور طہارت نہیں ہوتی جس کا حس اور مشاہدہ کے ذریعے سے ادراک ہوسکتا ہو، تاہم اس میں معنوی طہارت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے پیدا ہوتی ہے۔
(٥٠) بندے کے لئے مناسب ہے کہ وہ طہارت اور دیگر شرعی احکام میں پوشیدہ اسرار و حکمت میں تدبر کرے تاکہ اس کے علم و معرفت میں اضافہ ہو اور اس کی شکر گزاری اور محبت زیادہ ہو ان احکام پر جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر بندہ بلند مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
aey emaan walo ! jab tum namaz kay liye utho to apney chehray , aur kohniyon tak apney haath dho lo , aur apney saron ka masah kero , aur apney paon ( bhi ) takhnon- tak ( dho liya kero ) . aur agar tum janabat ki halat mein ho to saray jism ko ( ghusul kay zariye ) khoob achi tarah pak kero . aur agar tum beemar ho ya safar per ho ya tum mein say koi qazaye hajat ker kay aaya ho , ya tum ney aurton say jismani milaap kiya ho , aur tumhen paani naa milay to pak mitti say tayammum kero , aur apney chehron aur haathon ka uss ( mitti ) say masah kerlo . Allah tum per koi tangi musallat kerna nahi chahta , lekin yeh chahta hai kay tum ko pak saaf keray , aur yeh kay tum per apni naimat tamam kerday , takay tum shukar guzaar bano .
12 Tafsir Ibn Kathir
وضو اور غسل کے احکامات
اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب کہ آدمی بےوضو ہو۔ ایک جماعت کہتی ہے جب تم کھڑے ہو یعنی نیند سے جاگو یہ دونوں قول تقریباً ایک ہی مطلب کے ہیں اور حضرات فرماتے ہیں آیت تو عام ہے اور اپنے عموم پر ہی رہے گی لیکن جو بےوضو ہو اس پر وضو کرنے کا حکم وجوباً ہے اور جو باوضو ہو اس پر استحباباً ۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر صلوۃ کے وقت وضو کرنے کا حکم تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے، فتح مکہ والے دن آپ نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں، یہ دیکھ کر حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آج آپ نے وہ کام کیا جو آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں میں نے بھول کر ایسا نہیں کیا بلکہ جان بوجھ کر قصداً یہ کیا ہے، ابن ماجہ وغیرہ میں کہ حضرت جابر بن عبداللہ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ہاں پیشاب کریں یا وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کرلیا کرتے اور وضو ہی کے بچے ہوئے پانی سے جرابوں پر مسح کرلیا کرتے۔ یہ دیکھ کر حضرت فضل بن مبشر نے سوال کیا کہ کیا آپ اسے اپنی رائے سے کرتے ہیں ؟ فرمایا نہیں بلکہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا کرتے دیکھا، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرتے دیکھ کر خواہ وضو ٹوٹا ہو یا نہ ٹوٹا ہو ان کے صاحبزادے عبید اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ اس کی کیا سند ہے ؟ فرمایا اس سے حضرت اسماء بنت زید بن خطاب نے کہا ہے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے جو فرشتوں کے غسل دئیے ہوئے کے صاحبزادے تھے بیان کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس حالت میں وضو باقی ہو تو بھی اور نہ ہو تو بھی، لیکن اس میں قدرے مشقت معلوم ہوئی تو وضو کے حکم کے بدلے مسواک کا حکم رکھا گیا ہاں جب وضو ٹوٹے تو نماز کیلئے نیا وضو ضروری ہے اسے سامنے رکھ کر حضرت عبداللہ کا خیال ہے کہ چونکہ انہیں قوت ہے اس لئے وہ ہر نماز کے وقت وضو کرتے ہیں۔ آخری دم تک آپ کا یہی حال رہا، (رض) وعن والدہ۔ اس کے ایک راوی حضرت محمد بن اسحاق ہیں لیکن چونکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ حدثنا کہا ہے اس لئے تدلیس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ہاں ابن عساکر کی روایت میں یہ لفظ نہیں اللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ کے اس فعل اور اس پر ہمیشگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستحب ضرور ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ خلفاء ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرتے تھے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ یوم القیامہ ہر نماز کیلئے وضو کرتے اور دلیل میں یہ آیت تلاوت فرما دیتے ایک مرتبہ آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما تھے پھر پانی لایا گیا اور آپ نے منہ دھویا ہاتھ دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور پھر پیر کا۔ اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بےوضو نہ ہوا ہو، ایک مرتبہ آپ نے خفیف وضو کر کے بھی یہی فرمایا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ابو داؤد طیالسی میں حضرت سعید بن مسیب کا قول ہے کہ وضو ٹوٹے بغیر وضو کرنا زیادتی ہے۔ اولاً تو یہ فعل سنداً بہت غریب ہے، دوسرا یہ کہ مراد اس سے وہ شخص ہے جو اسے واجب جانتا ہو اور صرف مستحب سمجھ کر جو ایسا کرے وہ تو عامل بالحدیث ہے، بخاری سنن وغیرہ میں مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کیلئے نیا وضو کرتے تھے، ایک انصاری نے حضرت انس سے یہ سن کر کہا اور آپ لوگ کیا کرتے تھے ؟ فرمایا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے تھے جب تک وضو ٹوٹے نہیں، ابن جریر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان مروی ہے کہ جو شخص وضو پر وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے اور امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے ایک جماعت کہتی ہے کہ آیت سے صرف اتنا ہی مقصود ہے کہ کسی اور کام کے وقت وضو کرنا واجب نہیں صرف نماز کیلئے ہی اس کا وجوب ہے۔ یہ فرمان اس لئے ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت یہ تھی کہ وضو ٹوٹنے پر کوئی کام نہ کرتے تھے جب تک پھر وضو نہ کرلیں، ابن ابی حاتم وغیرہ کی ایک ضعیف غریب روایت میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب پیشاب کا ارادہ کرتے ہم آپ سے بولتے لیکن آپ جواب نہ دیتے ہم سلام علیک کرتے پھر بھی جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت رخصت کی اتری۔ ابو داؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاخانے سے نکلے اور کھانا آپ کے سامنے لایا گیا تو ہم نے کہا اگر فرمائیں تو وضو کا پانی کا حاضر کریں فرمایا وضو کا حکم تو مجھے صرف نماز کیلئے کھڑا ہونے کے وقت ہی کیا گیا ہے۔ امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے کچھ نماز تھوڑا ہی پڑھنی ہے جو میں وضو کروں۔ آیت کے ان الفاظ سے کہ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو وضو کرلیا کرو علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ وضو میں نیت واجب ہے، مطلب کلام اللہ شریف کا یہ ہے کہ نماز کیلئے وضو کرلیا کرو۔ جیسے عرب میں کہا جاتا ہے، جب تو امیر کو دیکھے تو کھڑا ہوجا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ امیر کیلئے کھڑا ہوجا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جو وہ نیت کرے اور منہ کے دھونے سے پہلے وضو میں بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ کیونکہ ایک پختہ اور بالکل صحیح حدیث میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں جو اپنے وضو میں بسم اللہ نہ کہے (حدیث کے ظاہری الفاظ تو نیت کی طرح بسم اللہ کہنے پر بھی وجوب کی دلالت کرتے ہیں واللہ اعلم۔ مترجم) یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کا ان کا دھو لینا مستحب ہے اور جب نیند سے اٹھا ہو تب تو سخت تاکید آتی ہے بخاری و مسلم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ تین مرتبہ دھو نہ لے، اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ رات کے وقت کہاں رہے ہوں ؟ منہ کی حد فقہاء کے نزدیک لمبائی میں سر کے بالوں کی اگنے کی جو جگہ عموماً ہے وہاں سے داڑھی کی ہڈی اور تھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ اس میں اختلاف ہے کہ دونوں جانب کی پیشانی کے اڑے ہوئے بالوں کی جگہ سر کے حکم میں ہے یا منہ کے ؟ اور داڑھی کے لکٹتے ہوئے بالوں کا دھونا منہ کے دھونے کی فرضیت میں داخل ہے یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں، ایک تو یہ کہ ان پر پانی کا بہانا واجب ہے اس لئے کہ منہ سامنے کرنے کے وقت اس کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھ کر فرمایا اسے کھول دے یہ بھی منہ میں داخل ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں عرب کا محاورہ بھی یہی ہے کہ جب بچے کے داڑھی نکلتی ہے تو وہ کہتے ہیں طلع وجھہ پس معلوم ہوتا ہے کہ کلام عرب میں داڑھی منہ کے حکم میں ہے اور لفظ وجہہ میں داخل ہے۔ داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو تو اس کا خلال کرنا بھی مستحب ہے۔ حضرت عثمان کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ آپ نے منہ دھوتے وقت تین دفعہ داڑھی کا خلال کیا۔ پھر فرمایا جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا اسی طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا ہے (ترمذی وغیرہ) اس روایت کو امام بخاری اور امام ترمذی حسن بتاتے ہیں ابو داؤد میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے وقت ایک چلو پانی لے کر اپنی تھوڑی تلے ڈال کر اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔ حضرت امام بیہقی فرماتے ہیں داڑھی کا خلال کرنا حضرت عمار حضرت عائشہ حضرت ام سلمہ حضرت علی سے مروی ہے، اور اس کے ترک کی رخصت ابن عمر حسن بن علی اور تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے صحاح وغیرہ میں مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب وضو کرتے بیٹھتے کلی کرتے اور ناک میں پانی دیئے۔ ائمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں میں واجب ہیں یا مستحب ؟ امام احمد بن حنبل کا مذہب تو وجوب کا ہے اور امام شافعی اور امام مالک مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل سنن کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمانا مروی ہے کہ وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے، امام حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ غسل میں واجب اور وضو میں نہیں، ایک روایت امام احمد سے مروی ہے کہ ناک میں پانی دینا تو واجب اور کلی کرنا مستحب، کیونکہ بخاری و مسلم میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جو وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈالے اور روایت میں ہے تم میں سے جو وضو کرے وہ اپنے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے اور اچھی طرح وضو کرے۔ مسند احمد اور بخاری میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس وضو کرنے بیٹھے تو منہ دھویا ایک چلو پانی کا لے کر کلی کی اور ناک کو صاف کیا پھر ایک چلو لے کر داہنا ہاتھ دھویا پھر ایک چلو لے کر اسی سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لے کر اپنے داہنے پاؤں پر ڈال کر اسے دھویا پھر ایک چلو سے بایاں پاؤں دھویا۔ پھر فرمایا میں نے اللہ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ (الی المرافق) سے مراد (مع المرافق) ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا) 4 ۔ النسآء :2) یعنی یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں سمیت نہ کھا جایا کرو یہ بڑا ہی گناہ ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک نہیں، بلکہ کہنیوں سمیت دھونا چاہئے۔ دار قطنی وغیرہ میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے ہوئے اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے، لیکن اس کے دو راویوں میں کلام ہے۔ واللہ اعلم۔ وضو کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ کہنیوں سے آگے اپنے شانے کو بھی وضو میں دھوئے کیونکہ بخاری مسلم میں حدیث ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میری امت وضو کے نشانوں کی وجہ سے قیامت کے دن چمکتے ہوئے اعضاؤں سے آئے گی پس تم میں سے جس سے وہ ہو سکے وہ اپنی چمک کو دور تک لے جائے صحیح مسلم میں ہے مومن کو وہاں تک زیور پہنائے جائیں گے جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا تھا۔ (برؤسکم) میں جواب ہے اس کا الحاق یعنی ملا دینے کیلئے ہونا تو زیادہ غالب ہے اور تبعیض یعنی کچھ حصے کیلئے ہونا تامل طلب ہے۔ بعض اصولی حضرات فرماتے ہیں چونکہ آیت میں اجمال ہے اس لئے سنت نے جو اس کی تفصیل کی ہے وہی معتبر ہے اور اسی کی طرف لوٹنا پڑے گا، حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم صحابی سے ایک شخص نے کہا " آپ وضو کر کے ہمیں بتلایئے۔ آپ نے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو دفعہ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی دیا، تین ہی دفعہ اپنا منہ دھویا، پھر کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھوئے، پھر دونوں ہاتھ سے سر کا مسح کیا سر کے ابتدائی حصے سے گدی تک لے گئے، پھر وہاں سے یہیں تک واپس لائے، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے (بخاری و مسلم) حضرت علی سے بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ اسی طرح منقول ہے۔ ابو داؤد میں حضرت معاویہ اور حضرت مقداد سے بھی اسی طرح مروی ہے، یہ حدیثیں دلیل ہیں اس پر کہ پورے سر کا مسح فرض ہے۔ یہی مذہب حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا ہے اور یہی مذہب ان تمام حضرات کا ہے جو آیت کو مجمل مانتے ہیں اور حدیث کو اس کی وضاحت جانتے ہیں حنیفوں کا خیال ہے کہ چوتھائی سر کا مسح فرض ہے جو سر کا ابتدائی حصہ ہے اور ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ فرض صرف اتنا ہے جتنے پر مسح کا اطلاق ہوجائے، اس کی کوئی حد نہیں۔ سر کے چند بالوں پر بھی مسح ہوگیا تو فرضیت پوری ہوگئی، ان دونوں جماعتوں کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ والی حدیث ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب آپ قضائے حاجت کرچکے تو مجھ سے پانی طلب کیا میں لوٹا لے آیا آپ نے اپنے دونوں پہنچے دھوئے پھر منہ دھویا پھر کلائیوں پر سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی سے ملے ہوئے بالوں اور پگڑی پر مسح کر کے باقی پگڑی پر پورا کرلیا اور اس کی بہت سی مثالیں احادیث میں ہیں۔ آپ صافے پر اور جرابوں پر برابر مسح کیا کرتے تھے، پس یہی اولی ہے اور اس میں ہرگز اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ سر کے بعض حصے پر یا صرف پیشانی کے بالوں پر ہی مسح کرلے اور اس کی تکمیل پگڑی پر نہ ہو۔ واللہ اعلم۔ پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ سر کا مسح بھی تین بار ہو یا ایک ہی بار ؟ امام شافعی کا مشہور مذہب اول ہے اور امام احمد اور ان کے متبعین کا دوم۔ دلائل یہ ہیں حضرت عثمان بن عفان وضو کرنے بیٹھتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ہیں، انہیں دھو کر پھر کلی کرتے ہیں اور ناک میں پانی دیتے ہیں، پھر تین مرتبہ منہ دھوتے ہیں، پھر تین تین بار دونوں ہاتھو کہنیوں سمیت دھوتے ہیں، پہلے دایاں پھر بایاں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتے ہیں پھر دونوں پیر تین تین بار دھوتے ہیں پہلے داہنا پھر بایاں۔ پھر آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا اور وضو کے بعد آپ نے فرمایا جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں (بخاری و مسلم) سنن ابی داؤد میں اسی روایت میں سر کے مسح کرنے کے ساتھ ہی یہ لفظ بھی ہیں کہ سر کا مسح ایک مرتبہ کیا، حضرت علی سے بھی اسی طرح مروی ہے اور جن لوگوں نے سر کے مسح کو بھی تین بار کہا ہے انہوں نے حدیث سے دلیل لی ہے۔ جس میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا۔ حضرت عثمان سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا پھر اسی طرح روایت ہے اور اس میں کلی کرنی اور ناک میں پانی دینے کا ذکر نہیں اور اس میں ہے کہ پھر آپ نے تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے۔ پھر فرمایا میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا جو ایسا وضو کرے اسے کافی ہے۔ لیکن حضرت عثمان سے جو حدیثیں صحاح میں مروی ہیں ان سے تو سر کا مسح ایک بار ہی ثابت ہوتا ہے (ارجلکم) لام کی زبر سے عطف ہے جو (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا) 5 ۔ المائدہ :6) پر ماتحت ہے دھونے کے حکم کے۔ ابن عباس یونہی پڑھتے تھے اور یہی فرماتے تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عروہ، حضرت عطاء، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت مجاہد، حضرت ابراہیم، حضرت ضحاک، حضرت سدی، حضرت مقاتل بن حیان، حضرت زہری، حضرت ابراہیم تیمی وغیرہ کا یہی قول اور یہی قرأت ہے، اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ پاؤں دھونے چاہئیں، یہی سلف کا فرمان ہے اور یہیں سے جمہور نے وضو کی ترتیب کے وجوب پر استدلال کیا ہے، صرف ابوحنیفہ اس کے خلاف ہیں، وہ وضو میں ترتیب کو شرط نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص پہلے پیروں کو دھوئے پھر سر کا مسح کرے پھر ہاتھ دھوئے پھر منہ دھوئے جب بھی جائز ہے اس لئے کہ آیت نے ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے۔ واؤ کی دلالت ترتیب پر نہیں ہوتی، اس کے جواب جمہور نے کئی ایک دیئے ہیں، ایک تو یہ کہ " ف " ترتیب پر دلالت کرتی ہے، آیت کے الفاظ میں نماز پڑھنے والے کو منہ دھونے کا حکم لفظ (فاغسلوا) سے ہوتا ہے۔ تو کم از کم منہ کا اول اول دھونا تو لفظوں سے ثابت ہوگیا اب اس کے بعد کے اعضاء میں ترتیب اجماع سے ثابت ہے جس میں اختلاف نظر نہیں آتا۔ پھر جبکہ " ف " جو تعقیب کیلئے ہے اور جو ترتیب کی مقتضی ہے ایک پر داخل ہوچکی تو اس ایک کی ترتیب مانتے ہوئے دوسری کی ترتیب کا انکار کوئی نہیں کرتا بلکہ تو سب کی ترتیب کے قائل ہیں یا کسی ایک کی بھی ترتیب کے قائل نہیں۔ پس یہ آیت ان پر یقینا حجت ہے جو سرے سے ترتیب کے منکر ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا اسے بھی ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے جیسے کہ نحویوں کی ایک جماعت کا اور بعض فقہاء کا مذہب ہے پھر یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ بالفرض لغتاً اس کی دلالت پر ترتیب پر نہ بھی ہوتا ہم شرعاً تو جن چیزوں میں ترتیب ہوسکتی ہے ان میں اس کی دلالت ترتیب پر ہوتی ہے، چناچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت اللہ شریف کا طواف کر کے باب صفا سے نکلے تو آپ آیت (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ۭ وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ) 2 ۔ البقرۃ :158) کی تلاوت کر رہے تھے اور فرمایا میں اسی سے شروع کروں گا جسے اللہ نے پہلے بیان فرمایا، چناچہ صفا سے سعی شروع کی، نسائی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ حکم دینا بھی مروی ہے کہ اس سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا۔ اس کی اسناد بھی صحیح ہے اور اس میں امر ہے پس معلوم ہوا کہ جس کا ذکر پہلے ہو اسے پہلے کرنا اور اس کے بعد اسے جس کا ذکر بعد میں ہو کرنا واجب ہے۔ پس صاف ثابت ہوگیا کہ ایسے مواقع پر شرعاً ترتیب مراد ہوتی ہے۔ واللہ اعلم، تیسری جماعت جواباً کہتی ہے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم اور پیروں کو دھونے کے حکم کے درمیان سر کے مسح کے حکم کو بیان کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ مراد ترتیب کو باقی رکھنا ہے، ورنہ نظم کلام کو یوں الٹ پلٹ نہ کیا جاتا۔ ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ ابو داؤد وغیرہ میں صحیح سند سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھو کر وضو کیا پھر فرمایا یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے نماز کو قبول نہیں کرتا۔ اب دو صورتیں ہیں یا تو اس وضو میں ترتیب تھی یا نہ تھی ؟ اگر کہا جائے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ وضو مرتب تھا یعنی باقاعدہ ایک کے پیچھے ایک عضو دھویا تھا تو معلوم ہوا کہ جس وضو میں تقدیم تاخیر ہو اور صحیح طور پر ترتیب نہ ہو وہ نماز نامقبول لہذا ترتیب واجب و فرض اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس وضو میں ترتیب نہ تھی بلکہ بےترتیب تھا، پیر دھو لئے پھر کلی کرلی پھر مسح کرلیا پھر منہ دھو لیا وغیرہ تو عدم ترتیب واجب ہوجائے گی حالانکہ اس کا قائل امت میں سے ایک بھی نہیں پس ثابت ہوگیا کہ وضو میں ترتیب فرض ہے، آیت کے اس جملے کی ایک قرأت اور بھی ہے یعنی (وارجلکم) لام کے زیر سے اور اسی سے شیعہ نے اپنے اس قول کی دلیل لی ہے کہ پیروں پر مسح کرنا واجب ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عطف سر کے مسح کرنے پر ہے۔ بعض سلف سے بھی کچھ ایسے اقوال مروی ہیں جن سے مسح کے قول کا وہم پڑتا ہے، چناچہ ابن جریر میں ہے کہ موسیٰ بن انس نے حضرت انس سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ حجاج نے اہواز میں خطبہ دیتے ہوئے طہارت اور وضو کے احکام میں کہا کہ منہ ہاتھ دھوؤ اور سر کا مسح کرو اور پیروں کو دھویا کرو عموماً پیروں پر ہی گندگی لگتی ہے۔ پس تلوؤں کو اور پیروں کی پشت کو اور ایڑی کو خوب اچھی طرح دھویا کرو۔ حضرت انس نے جواباً کہا کہ اللہ سچا ہے اور حجاج چھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت ( وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا) 5 ۔ المائدہ :6) اور حضرت انس کی عادت تھی کہ پیروں کا جب مسح کرتے انہیں بالکل بھگو لیا کرتے، آپ ہی سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں پیروں پر مسح کرنے کا حکم ہے، ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت پیروں کا دھونا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ وضو میں دو چیزوں کا دھونا ہے اور دو پر مسح کرنا۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ آیت میں پیروں پر مسح کرنے کا بیان ہے۔ ابن عمر، علقمہ، ابو جعفر، محمد بن علی اور ایک روایت میں حضرت حسن اور جابر بن زید اور ایک روایت میں مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حضرت عکرمہ اپنے پیروں پر مسح کرلیا کرتے تھے شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل کی معرفت مسح کا حکم نازل ہوا ہے، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن چیزوں کے دھونے کا حکم تھا ان پر تو تیمم کے وقت مسح کا حکم رہا اور جن چیزوں پر مسح کا حکم تھا تیمم کے وقت انہیں چھوڑ دیا گیا عامر سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں حضرت جبرائیل پیروں کے دھونے کا حکم لائے ہیں آپ نے فرمایا جبرائیل مسح کے حکم کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔ پس یہ سب آثار بالکل غریب ہیں اور محمول ہیں اس امر پر کہ مراد مسح سے ان بزرگوں کی ہلکا دھونا ہے، کیونکہ سنت سے صاف ثابت ہے کہ پیروں کا دھونا واجب ہے، یاد رہے کہ زیر کی قرأت یا تو مجاورت اور تناسب کلام کی وجہ سے ہے جیسے عرب کا کلام حجر ضب خرب میں اور اللہ کے کلام آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا) 76 ۔ الدہر :21) میں لغت میں عرب میں پاس ہونے کی وجہ سے دونوں لفظوں کو ایک ہی اعراب دے دینا یہ اکثر پایا گیا ہے۔ حضرت امام شافعی نے اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب پیروں پر جرابیں ہوں بعض کہتے ہیں مراد مسح سے ہلکا دھو لینا ہے جیسے کہ بعض روایتوں میں سنت سے ثابت ہے۔ الغرض پیروں کا دھونا فرض ہے جس کے بغیر وضو نہ ہوگا۔ آیت بھی یہی ہے اور احادیث میں بھی یہی ہے جیسے کہ اب ہم انہیں وارد کریں گے، انشاء اللہ تعالیٰ بیہقی میں ہے حضرت علی بن ابو طالب ظہر کی نماز کے بعد بیٹھک میں بیٹھے رہے پھر پانی منگوایا اور ایک چلو سے منہ کا، دونوں ہاتھوں سر کا اور دونوں پیروں کا مسح کیا اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا پھر فرمانے لگے کہ لوگ کھڑے کھڑے پانی پینے کو مکروہ کہتے ہیں اور میں نے جو کیا یہی کرتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بےوضو نہ ہوا ہو (بخاری) شعیوں میں سے جن لوگوں نے پیروں کو مسح اسی طرح قرار دیا جس طرح جرابوں پر مسح کرتے ہیں ان لوگوں نے یقینا غلطی کی اور لوگوں کو گمراہی میں ڈالا۔ اسی طرح وہ لوگ بھی خطا کار ہیں جو مسح اور دھونا دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور جن لوگوں نے امام ابن جریر کی نسبت یہ خیال کیا ہے کہ انہوں نے احادیث کی بنا پر پیروں کے دھونے کو اور آیت قرآنی کی بنا پر پیروں کے مسح کو فرض قرار دیا ہے۔ ان کی تحقیق بھی صحیح نہیں، تفسیر ابن جریر ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ پیروں کو رگڑنا واجب ہے اور اعضاء میں یہ واجب نہیں کیونکہ پیر زمین کی مٹی وغیرہ سے رگڑتے رہتے ہیں تو ان کو دھونا ضروری ہے تاکہ جو کچھ لگا ہو ہٹ جائے لیکن اس رگڑنے کیلئے مسح کا لفظ لائے ہیں اور اسی سے بعض لوگوں کو شبہ ہوگیا ہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مسح اور غسل جمع کردیا ہے حالانکہ دراصل اس کے کچھ معنی ہی نہیں ہوتے مسح تو غسل میں داخل ہے چاہے مقدم ہو چاہے مؤخر ہو پس حقیقتاً امام صاحب کا ارادہ یہی ہے جو میں نے ذکر کیا اور اس کو نہ سمجھ کر اکثر فقہاء نے اسے مشکل جان لیا، میں نے مکرر غورو فکر کیا تو مجھ پر صاف طور سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امام صاحب دونوں قرأتوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں پس زیر کی قرأت یعنی مسح کو تو وہ محمول کرتے ہیں دلک پر یعنی اچھی طرح مل رگڑ کر صاف کرنے پر اور زبر کی قرأت کو غسل پر یعنی دھونے پر دلیل ہے ہی پس وہ دھونے اور ملنے دونوں کو واجب کہتے ہیں تاکہ زیر اور زبر کی دونوں قرأتوں پر ایک ساتھ ہوجائے " اب ان احادیث کو سنئے جن میں پیروں کے دھونے کا اور پیروں کے دھونے کے ضروری ہونے کا ذکر ہے " امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان امیر المومنین حضرت علی بن ابو طالب حضرت ابن عباس حضرت معاویہ حضرت عبداللہ بن زید عاصم حضرت مقداد بن معدی کرب کی روایات پہلے بیان ہوچکی ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کرتے ہوئے اپنے پیروں کو دھویا، ایک بار یا دو بار یا تین بار، عمرو بن شعیب کی حدیث میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا یہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے پیچھے رہ گئے تھے جب آپ آئے تو ہم جلدی جلدی وضو کر رہے تھے کیونکہ عصر کی نماز کا وقت کافی دیر سے ہوچکا تھا ہم نے جلدی جلدی اپنے پیروں پر چھوا چھوئی شروع کردی تو آپ نے بہت بلند آواز سے فرمایا وضو کو کامل اور پورا کرو ایڑیوں کو خرابی سے آگ کے لگنے سے، ایک اور حدیث میں ہے ویل ہے ایڑیوں کیلئے اور تلوں کیلئے آگ سے (بیہقی و حاکم) اور روایت میں ہے ٹخنوں کو ویل ہے آگ سے (مسند امام احمد) ایک شخص کے پیر میں ایک درہم کے برابر جگہ بےدھلی دیکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خرابی ہے ایڑیوں کیلئے آگ سے (مسند) ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھ کر جن کی ایڑیوں پر اچھی طرح پانی نہیں پہنچا تھا اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان ایڑیوں کو آگ سے خرابی ہوگی، مسند احمد میں بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ الفاظ وارد ہیں۔ ابن جریر میں دو مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان الفاظ کو کہنا وارد ہے راوی حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں پھر تو مسجد میں ایک بھی شریف و وضیع ایسا نہ رہا جو اپنی ایڑیوں کو بار بار دھو کر نہ دیکھتا ہو اور روایت میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس کی اڑی یا ٹخنے میں بقدر نیم درہم کے چمڑی خشک رہ گئی تھی تو یہی فرمایا پھر تو یہ حالت تھی کہ اگر ذرا سی جگہ پیر کی کسی خشک رہ جاتی تو وہ پورا وضو پھر سے کرتا، پس ان احادیث سے کھلم کھلا ظاہر ہے کہ پیرو کا دھونا فرض ہے، اگر ان کا مسح فرض ہوتا تو ذرا سی جگہ کے خشک رہ جانے پر اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وعید سے اور وہ بھی جہنم کی آگ کی وعید سے نہ ڈراتے، اس لئے کہ مسح میں ذرا ذرا اسی جگہ پر ہاتھ کا پہنچانا داخل ہی نہیں۔ بلکہ پھر تو پیر کے مسح کی وہی صورت ہوتی ہے جو پیر کے اوپر جراب ہونے کی صورت میں مسح کی صورت ہے۔ یہی چیز امام ابن جریر نے شیعوں کے مقابلہ میں پیش کی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اس کا پیر کسی جگہ سے ناخن کے برابر دھلا نہیں خشک رہ گیا تو آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔ بیہقی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، مسند میں ہے کہ ایک نمازی کو آپ نے نماز میں دیکھا کہ اس کے پیر میں بقدر درہم کے جگہ خشک رہ گئی ہے تو اسے وضو لوٹانے کا حکم کیا۔ حضرت عثمان سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا وضو کا طریقہ جو مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے انگلیوں کے درمیان خلال بھی کیا۔ سنن میں ہے حضرت صبرہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وضو کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وضو کامل اور اچھا کرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح دھو ہاں روزے کی حالت میں ہو تو اور بات ہے، مسند و مسلم وغیرہ میں ہے حضرت عمرو بن عنبسہ کہتے ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے وضو کی بابت خبر دیجئے آپ نے فرمایا جو شخص وضو کا پانی لے کر کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی دیتا ہے اس کے منہ سے نتھنوں سے پانی کے ساتھ ہی خطائیں جھڑ جاتی ہیں جبکہ وہ ناک جھاڑتا ہے پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جیسا کہ اللہ کا حکم ہے تو اس کے منہ کی خطائیں داڑھی اور داڑھی کے بالوں سے پانی کے گرنے کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے کہنیوں سمیت تو اس کے ہاتھوں کو گناہ اس کی پوریوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں، پھر وہ مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی خطائیں اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت حکم الٰہی کے مطابق دھوتا ہے تو انگلیوں سے پانی ٹپکنے کے ساتھ ہی اس کے پیروں کے گناہ بھی دور ہوجاتے ہیں، پھر وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کے لائق جو حمد وثنا ہے اسے بیان کر کے دو رکعت نماز جب ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے وہ تولد ہوا ہو۔ یہ سن کر حضرت ابو امامہ نے حضرت عمرو بن عنبسہ سے کہا خوب غور کیجئے کہ آپ کیا فرما رہے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ نے اسی طرح سنا ہے ؟ کیا یہ سب کچھ ایک ہی مقام میں انسان حاصل کرلیتا ہے ؟ حضرت عمرو نے جواب دیا کہ ابو امامہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں، میری ہڈیاں ضعیف ہوچکی ہیں، میری موت قریب آپہنچی ہے، مجھے کیا فائدہ جو میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ بولوں، ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں، میں نے تو اسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سات بار بلکہ اس سے بھی زیادہ سنا ہے، اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے۔ صحیح مسلم کی دوسری سند والی حدیث میں ہے پھر وہ اپنے دونوں پاؤں کو دھوتا ہے جیسا کہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے۔ پس صاف ثابت ہوا کہ قرآن حکیم کا حکم پیروں کے دھونے کا ہے۔ ابو اسحاق سبیعی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ فی الجنہ سے بواسطہ حضرت حارث روایت میں حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں قدم جوتی میں ہی بھگو لئے اس سے مراد جوتیوں میں ہی ہلکا دھونا ہے اور چپل جوتی پیر میں ہوتے ہوئے پیر دھل سکتا ہے غرض یہ حدیث بھی دھونے کی دلیل ہے البتہ اس سے ان وسواسی اور وہمی لوگوں کی تردید ہے جو حد سے گزر جاتے ہیں، اسی طرح وہ دوسری حدیث ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کے کوڑا ڈالنے کی جگہ پر پیشاب کیا پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کرلیا، لیکن یہی حدیث دوسری سندوں سے مروی ہے اور ان میں سے کہ آپ نے اپنی جرابوں پر مسح کیا اور ان میں مطابقت کی صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جرابیں پیروں میں تھیں اور ان پر نعلین تھے اور ان دونوں پر آپ نے مسح کرلیا۔ یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے، مسند احمد میں اوس ابو اوس سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے دیکھتے ہوئے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا اور نماز کیلئے کھڑے ہوگئے، یہی روایت دوسری سند سے مروی ہے اس میں آپ کا کوڑے پر پیشاب کرنا پھر وضو کرنا اور اس میں نعلین اور دونوں قدموں پر مسح کرنا مذکور ہے، امام ابن جریر اسے بیان کرتے ہیں، پھر فرمایا ہے کہ یہ محمول اس پر ہے کہ اس وقت آپ کا پہلا وضو تھا (یا یہ محمول ہے اس پر کہ نعلین جرابوں کے اوپر تھے۔ مترجم) بھلا کوئی مسلمان یہ کیسے قبول کرسکتا ہے کہ اللہ کے فریضے میں اور پیغمبر کی سنت میں تعارض ہو اللہ کچھ فرمائے اور پیغمبر کچھ اور ہی کریں ؟ پس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمیشہ کے فعل سے وضو میں پیروں کے دھونے کی فرضیت ثابت ہے اور آیت کا صحیح مطلب بھی یہ ہے جس کے کانوں تک یہ دلیلیں پہنچ جائیں اس پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی۔ چونکہ زیر کی قرأت سے پیروں کا دھونا اور زیر کی قرأت کا بھی اسی پر محمول ہونا فرضیت کا قطعی ثبوت ہے اس سے بعض سلف تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اس آیت سے جرابوں کا مسح ہی منسوخ ہے، گو ایک روایت حضرت علی سے بھی ایسی مروی ہے لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں بلکہ خود آپ سے صحت کے ساتھ اس کے خلاف ثابت ہے اور جن کا بھی یہ قول ہے ان کا یہ خیال صحیح نہیں بلکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔ مسند احمد میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کا قول ہے کہ سورة مائدہ کے نازل ہونے کے بعد ہی میں مسلمان ہوا اور اپنے اسلام کے بعد میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جرابوں پر مسح کرتے دیکھا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت جریر نے پیشاب کیا پھر وضو کرتے ہوئے اپنی جرابوں پر مسح کیا ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کرتے ہیں ؟ تو فرمایا یہی کرتے ہوئے میں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے۔ راوی حدیث حضرت ابراہیم فرماتے ہیں لوگوں کو یہ حدیث بہت اچھی لگتی تھی اس لئے کہ حضرت جریر کا اسلام لانا سورة مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا تھا۔ احکام کی بڑی بڑی کتابوں میں تواتر کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول و فعل سے جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔ اب مسح کی مدت ہے یا نہیں ؟ اس کے ذکر کی یہ جگہ نہیں احکام کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، رافضیوں نے اس میں بھی گمراہی اختیار کی ہے۔ خود حضرت علی کی روایت سے صحیح مسلم میں یہ ثابت ہے، لیکن روافض اسے نہیں مانتے، جیسے کہ حضرت علی کی ہی روایت سے بخاری مسلم میں نکاح متعہ کی ممانعت ثابت ہے لیکن تاہم شیعہ اسے مباح قرار دیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ آیہ کریمہ دونوں پیروں کے دھونے پر صاف دلالت کرتی ہے اور یہی امر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا متواتر احادیث سے ثابت ہے لیکن شیعہ جماعت اس کی بھی مخالف ہے۔ فی واقع ان مسائل میں ان کے ہاتھ دلیل سے بالکل خالی ہیں۔ وللہ الحمد۔ اسی طرح ان لوگوں نے آیت کا اور سلف صالحین کا مسح کے بارے میں بھی الٹ مفہوم لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ قدم کی پشت ابھار کعبین ہے پس ان کے نزدیک ہر قدم میں ایک ہی کعب یعنی ٹخنہ ہے اور جمہور کے نزدیک ٹخنے کی وہ ہڈیاں جو پنڈلی اور قدم کے درمیان ابھری ہوئی ہیں اور وہ کعبین ہیں۔ امام شافعی کا فرمان ہے کہ جن کعبین کا یہاں ذکر ہے یہ ٹخنے کی دو ہڈیاں ہیں جو ادھر ادھر قدرے ظاہر دونوں طرف ہیں، ایک ہی قدم میں کعبین ہیں لوگوں کے عرض میں بھی یہی ہے اور حدیث کی دلالت بھی اسی پر ہے۔ بخاری مسلم میں ہے کہ حضرت عثمان نے وضو کرتے ہوئے اپنے داہنے پاؤں کو کعبین سمیت دھویا پھر بائیں کو بھی اسی طرح۔ بخاری میں تعلیقاً بصیغہ جزم اور صحیح ابن خزیمہ میں اور سنن ابی داؤد میں ہے کہ ہماری طرف متوجہ ہو کر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " اپنی صفیں ٹھیک ٹھیک درست کرلو " تین بار یہ فرما کر فرمایا قسم اللہ کی یا تو تم اپنی صفوں کو پوری طرح درست کرو گے یا اللہ تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا۔ حضرت نعمان بن بشیر راوی حدیث فرماتے ہیں پھر تو یہ ہوگیا کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنہ اور گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا ملا لیا کرتا تھا۔ اس روایت سے صاف معلوم ہوگیا کہ کعبین اس ہڈی کا نام نہیں جو قدم کی پشت کی طرف ہے کیونکہ اس کا ملانا دو پاس پاس کے شخصوں میں ممکن نہیں بلکہ وہی دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو پنڈلی کے خاتمے پر ہیں اور یہی مذہب اہلسنت کا ہے۔ ابن ابی حاتم میں یحییٰ بن حارث تیمی سے منقول ہے کہ زید کے جو ساتھی شیعہ قتل کئے گئے تھے انہیں میں نے دیکھا تو ان کا ٹخنہ قدم کی پشت پر پایا انہیں قدرتی سزا تھی جو ان کی موت کے بعد ظاہر کی گئی اور مخالفت حق اور کتمان حق کا بدلہ دیا گیا۔ اس کے بعد تیمم کی صورتیں اور تیمم کا طریقہ بیان ہوا ہے اس کی پوری تفسیر سورة نساء میں گزر چکی ہے لہذا یہاں بیان نہیں کی جاتی۔ آیت تیمم کا شان نزول بھی وہیں بیان کردیا گیا ہے۔ لیکن امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری نے اس آیت کے متعلق خاصتًا ایک حدیث وارد کی ہے اسے سن لیجئے حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین کا بیان ہے کہ میرے گلے کا ہار بیداء میں گرگیا ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری روکی اور میری گود میں سر رکھ کر سو گئے اتنے میں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق میرے پاس تشریف لائے اور مجھ پر بگڑنے لگے کہ تو نے ہار کھو کر لوگوں کو روک دیا اور مجھے کچو کے مارنے لگے۔ جس سے مجھے تکلیف ہوئی لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند میں خلل اندازی نہ ہو، اس خیال سے میں ہلی جلی نہیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب جاگے اور صبح کی نماز کا وقت ہوگیا اور پانی کی تلاش کی گئی تو پانی نہ ملا، اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی۔ حضرت اسید بن حفیر کہنے لگے اے آل ابوبکر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کیلئے تمہیں بابرکت بنادیا ہے تم ان کیلئے سرتاپا برکت ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تم پر حرج ڈالنا نہیں چاہتا اسی لئے اپنے دین کو سہل آسان اور ہلکا کردیا ہے۔ بوجھل سخت اور مشکل نہیں۔ حکم تو اس کا یہ تھا کہ پانی سے وضو کرو لیکن جب میسر نہ ہو یا بیماری ہو تو تمہیں تیمم کرنے کی رخصت عطا فرماتا ہے، باقی احکام احکام کی کتابوں میں ملاحظہ ہوں۔ بلکہ اللہ کی چاہت یہ ہے کہ تمہیں پاک صاف کر دے اور تمہیں پوری پوری نعمتیں عطا فرمائے تاکہ تم اس کی رحمتوں پر اس کی شکر گزاری کرو اس کی توسیع احکام اور رأفت و رحمت آسانی اور رخصت پر اس کا احسان مانو۔ وضو کے بعد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دعا تعلیم فرمائی ہے جو گویا اس آیت کے ماتحت ہے۔ مسند، سنن اور صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ ہم باری باری اونٹوں کو چرایا کرتے تھے میں اپنی باری والی رات عشاء کے وقت چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے لوگوں سے کچھ فرما رہے ہیں میں بھی پہنچ گیا اس وقت میں نے آپ سے یہ سنا کہ جو مسلمان اچھی طرح وضو کر کے دلی توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کرے اس کیلئے جنت واجب ہے۔ میں نے کہا واہ واہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میری یہ بات سن کر ایک صاحب نے جو میرے آگے ہی بیٹھے تھے فرمایا اس سے پہلے جو بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی ہے وہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ میں نے جو غور سے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق تھے آپ مجھ سے فرمانے لگے تم ابھی آئے ہو، تمہارے آنے سے پہلے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو شخص عمدگی اور اچھائی سے وضو کرے پھر کہے دعا (اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ) ۔ اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سے چاہے داخل ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب ایمان و اسلام والا وضو کرنے بیٹھتا ہے اس کے منہ دھوتے ہوئے اس کی آنکھوں کی تمام خطائیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتی ہے ہیں اسی طرح ہاتھوں کے دھونے کے وقت ہاتھوں کی تمام خطائیں اور اسی طرح پیروں کے دھونے کے وقت پیروں کی تمام خطائیں دھل جاتی ہیں وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے۔ ابن جریر میں ہے جو شخص وضو کرتے ہوئے جب اپنے ہاتھ یا بازوؤں کو دھوتا ہے تو ان سے ان کے گناہ دور ہوجاتے ہیں، منہ کو دھوتے وقت منہ کے گناہ الگ ہوجاتے ہیں، سر کا مسح سر کے گناہ جھاڑ دیتا ہے پیر کا دھونا ان کے گناہ دھو دیتا ہے۔ دوسری سند میں سر کے مسح کا ذکر نہیں۔ ابن جریر میں ہے جو شخص اچھی طرح وضو کر کے نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے اس کے کانوں سے آنکوں سے ہاتھوں سے پاؤ سے سب گناہ الگ ہوجاتے ہیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے وضو آدھا ایمان ہے، الحمد للہ کہنے سے نیکی کا پلڑا بھر جاتا ہے۔ قرآن یا تو تیری موافقت میں دلیل ہے یا تیرے خلاف دلیل ہے، ہر شخص صبح ہی صبح اپنے نفس کی فروخت کرتا ہے پس یا تو اپنے تئیں آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کرلیتا ہے اور حدیث میں ہے " مال حرام کا صدقہ اللہ قبول نہیں فرماتا اور بےوضو کی نماز بھی غیر مقبول ہے " (صحیح مسلم) یہ روایت ابو داؤد، طیالسی، مسند احمد، ابو داؤد نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔