Skip to main content

قُلْ يٰۤـاَهْلَ الْـكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِىْ دِيْـنِكُمْ غَيْرَ الْحَـقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَاۤءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۤءِ السَّبِيْلِ

قُلْ
کہہ دیجیے
يَٰٓأَهْلَ
اے اہل
ٱلْكِتَٰبِ
کتاب
لَا
نہ
تَغْلُوا۟
تم غلو کرو
فِى
میں
دِينِكُمْ
اپنے دین میں
غَيْرَ
نا
ٱلْحَقِّ
حق
وَلَا
اور نہ
تَتَّبِعُوٓا۟
تم پیروی کرو
أَهْوَآءَ
خواہشات کی
قَوْمٍ
ایک قوم کی
قَدْ
تحقیق
ضَلُّوا۟
وہ بھٹک گئے
مِن
سے
قَبْلُ
اس سے پہلے
وَأَضَلُّوا۟
اور انہوں نے گمراہ کیا
كَثِيرًا
بہت سوں کو
وَضَلُّوا۟
اور وہ بھٹک گئے
عَن
سے
سَوَآءِ
سیدھے
ٱلسَّبِيلِ
راستے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کہو، اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور اُ ن لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا، اور "سَوَا٫ السّبیل" سے بھٹک گئے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کہو، اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور اُ ن لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا، اور "سَوَا٫ السّبیل" سے بھٹک گئے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ اے کتاب والو! اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہش پر نہ چلو جو پہلے گمراہ ہوچکے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سے بہک گئے

احمد علی Ahmed Ali

کہہ اے اہلِ کتاب تم اپنے دین میں ناحق زیادتی مت کرو اور ان لوگو ں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انہوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سے دور ہو گئے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہہ دیجئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو (١) اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں (٢) اور سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔

٧٧۔١ یعنی اتباع حق میں حد سے تجاور نہ کرو اور جن کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اس میں مبالغہ کر کے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الویت پر فائز مت کرو، جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کے معاملے میں تم نے کیا۔ غلو ہر دور میں شرک اور گمرہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ انسان کو جس سے عقیدت اور محبت ہوتی ہے، وہ اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے۔ وہ امام اور دینی قائد ہے تو اس کو پیغمبر کی طرح معصوم سمجھنا اور پیغمبر کو خدائی صفات سے متصف ماننا عام بات ہے، بد قسمتی سے مسلمان بھی اس غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ انہوں نے بعض ائمہ کی شان میں بھی غلو کیا اور ان کی رائے اور قول، حتٰی کہ ان کی طرف منسوب فتویٰ اور فقہ کو بھی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ترجیح دے دی۔
٧٧۔٢ یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت لگو جو ایک نبی کو اللہ بنا کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہہ دیجیئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راه سے ہٹ گئے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کہیئے! اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو۔ اور ان لوگوں کی خواہشات اور ذاتی خیالات کی پیروی نہ کرو جو پہلے خود گمراہ ہو چکے ہیں۔ اور بہت سوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور راہ راست سے بھٹک گئے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اے اہلِ هکتاب اپنے دین میں ناحق غلو سے کام نہ لو اور اس قوم کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو پہلے سے گمراہ ہوچکی ہے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ بھی کرچکی ہے اور سیدھے راستہ سے بہک چکی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئیے: اے اہلِ کتاب! تم اپنے دین میں ناحق حد سے تجاوز نہ کیا کرو اور نہ ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کیا کرو جو (بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) پہلے ہی گمراہ ہو چکے تھے اور بہت سے (اور) لوگوں کو (بھی) گمراہ کرگئے اور (بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی) سیدھی راہ سے بھٹکے رہے،