Skip to main content

اَ فَلَمْ يَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَاۤءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنٰهَا وَزَ يَّـنّٰهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ

أَفَلَمْ
کیا بھلا نہیں
يَنظُرُوٓا۟
انہوں نے دیکھا
إِلَى
طرف
ٱلسَّمَآءِ
آسمان کی
فَوْقَهُمْ
اپنے اوپر
كَيْفَ
کس طرح
بَنَيْنَٰهَا
بنایا ہم نے اس کو
وَزَيَّنَّٰهَا
اور زینت بخشی ہم نے اس کو
وَمَا
اور نہیں
لَهَا
اس کے لیے
مِن
کوئی
فُرُوجٍ
شگاف

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اچھا، تو کیا اِنہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اچھا، تو کیا اِنہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسے بنایا اور سنوارا اور اس میں کہیں رخنہ نہیں

احمد علی Ahmed Ali

پس کیا انہوں نے غور سے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے کس طرح اسے بنایا اور آراستہ کیا ہے اور اس میں کوئی بھی شگاف نہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا (١) ہے اور زینت دی (٢) ہے اس میں کوئی شگاف نہیں۔ (۳)

٦۔١ یعنی بغیر ستون کے، جن کا اسے کوئی سہارا ہو۔
٦۔٢ یعنی ستاروں سے مزین کیا۔
٦۔۳ اسی طرح کوئی فرق وتفاوت بھی نہیں ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Ǽ۝ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ Ć۝) 67۔ الملک;4-3)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے اور زینت دی ہے اس میں کوئی شگاف نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا انہوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے؟ اور آراستہ کیا ہے جس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ہے کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے اور پھر آراستہ بھی کردیا ہے اور اس میں کہیں شگاف بھی نہیں ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو کیا انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے اور (کیسے) سجایا ہے اور اس میں کوئی شگاف (تک) نہیں ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ کے محیر العقول شاہکار
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں چناچہ سورة تبارک میں فرمایا آیت ( الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ۝) 67 ۔ الملک ;3) ، اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے ؟ پھر بار بار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں پھل سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ (بھیج) کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔ پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لئے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کردیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہوگئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہوگئے یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں ؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چناچہ اور آیت میں ہے آیت ( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40 ۔ غافر ;57) یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے اور آیت میں ہے آیت ( اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46 ۔ الأحقاف ;33) یعنی کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کردیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے ؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے آیت ( وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ۭ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ۭ اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 39؀) 41 ۔ فصلت ;39) ، یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی ؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کردیا وہ مردوں کے جلانے پر بلاشک و شبہ قادر ہے یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔