Skip to main content

يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۤءُ مَوْرًا ۙ

يَوْمَ
جس دن
تَمُورُ
پھٹ جائے گا۔ لرزے گا،
ٱلسَّمَآءُ
آسمان
مَوْرًا
لرزنا۔ ڈگمگانا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگائے گا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگائے گا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جس دن آسمان ہلنا سا ہلنا ہلیں گے

احمد علی Ahmed Ali

جس دن آسمان تھرتھرا کر لرزنے لگے گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا (١)

٩۔١ مور کے معنی ہیں حرکت و اضطراب، قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور ستارے و سیاروں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔ یعنی عذاب اس روز واقع ہوگا جب آسمان تھر تھرائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جس دن آسمان لرزنے لگا کپکپا کر

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جس دن آسمان باقاعدہ چکر کھانے لگیں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جس دن آسمان سخت تھر تھراہٹ کے ساتھ لرزے گا،