Skip to main content

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ

كَذَّبَتْ
جھٹلایا
قَبْلَهُمْ
ان سے پہلے
قَوْمُ
قوم
نُوحٍ
نوح نے
فَكَذَّبُوا۟
تو انہوں نے جھٹلایا
عَبْدَنَا
ہمارے بندے کو
وَقَالُوا۟
اور انہوں نے کہا
مَجْنُونٌ
مجنون ہے
وَٱزْدُجِرَ
اور ڈانٹا گیا۔ خوب دھمکی دیا گیا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جھڑکا گیا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جھڑکا گیا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندہ کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اسے جھڑکا

احمد علی Ahmed Ali

ان سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا تھا پس انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا دیوانہ ہے اور اسے جھڑک دیا گیا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا (١)۔

٩۔١ یعنی قوم نوح نے نوح علیہ السلام کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی گیا تھا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

ان سے پہلے نوحؑ کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور یہ دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ان سے پہلے قومِ نوح(ع) نے جھٹلایا سو انہوں نے ہمارے بندۂ خاص کو جھٹلایا اور ان پر جھوٹا ہو نے کا الزام لگایا اور اسے جھڑکا بھی گیا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ان سے پہلے قوم نوح نے بھی تکذیب کی تھی کہ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ یہ دیوانہ ہے بلکہ اسے جھڑکا بھی گیا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اِن سے پہلے قومِ نوح نے (بھی) جھٹلایا تھا۔ سو انہوں نے ہمارے بندۂ (مُرسَل نُوح علیہ السلام) کی تکذیب کی اور کہا: (یہ) دیوانہ ہے، اور انہیں دھمکیاں دی گئیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

دیرینہ انداز کفر
یعنی اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت ( وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41؀ۙ ) 36 ۔ يس ;41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت ( اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۝ ۙ ) 69 ۔ الحاقة ;11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت ( كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2\0\09) 38 ۔ ص ;29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت ( فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58؀) 44 ۔ الدخان ;58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔