انہیں نہ تو اُس (کے پینے) سے دردِ سر کی شکایت ہوگی اور نہ ہی عقل میں فتور (اور بدمستی) آئے گی،
English Sahih:
No headache will they have therefrom, nor will they be intoxicated –
1 Abul A'ala Maududi
جسے پی کر نہ اُن کا سر چکرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا
2 Ahmed Raza Khan
کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے
3 Ahmed Ali
نہ اس سے ان کو دردِ سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا
4 Ahsanul Bayan
جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فطور آئے (١)
١٩۔١ آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقینا ہوگی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہوگا
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی
6 Muhammad Junagarhi
جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فتور آئے
7 Muhammad Hussain Najafi
جس سے نہ دردِ سر ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
جس سے نہ درد سر پیدا ہوگا اور نہ ہوش و حواس گم ہوں گے
9 Tafsir Jalalayn
اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی
10 Tafsir as-Saadi
﴿لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا﴾ یہ شراب ان کو سردرد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کوسردرد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿وَلَا یُنْزِفُوْنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہوگی نہ ہوش وحواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے،البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ﴾( محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے )پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی )تبدیل نہ ہوا ہوگا،اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہدکی نہریں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کردی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
jiss say naa unn kay sar mein dard hoga , aur naa unn kay hosh uren gay ,