Skip to main content

وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ ۙ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِۗ

وَأَصْحَٰبُ
اور والے
ٱلشِّمَالِ
بائیں ہاتھ
مَآ
کیا ہیں
أَصْحَٰبُ
والے
ٱلشِّمَالِ
، بائیں ہاتھ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے

احمد علی Ahmed Ali

اوربائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں بائیں ہاتھ والے (١)

٤١۔١ اس سے مراد اہل جہنم ہیں، جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں بائیں ہاتھ والے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور بائیں ہاتھ والے اور کیا برے ہیں بائیں ہاتھ والے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور بائیں ہاتھ والے تو ان کا کیا پوچھنا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور بائیں جانب والے، کیا (ہی برے لوگ) ہیں بائیں جانب والے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اصحاب شمال اور عذاب الٰہی
اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت ( اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29؀ۚ ) 77 ۔ المرسلات ;29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو، یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کرلی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد (ولا کریم) کہہ دیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لئے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہیں ملی تھیں ان میں یہ سست ہوگئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی۔ بدکاریوں میں پڑگئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔ (حنث عظیم) سے مراد بقول حضرت ابن عباس کفر شرک ہے، بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے، پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے ؟ انہیں جواب مل رہا ہے کہ تمام اولاد آدم قیامت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہوگی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہوگا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو، جیسے اور جگہ ہے اس دن سب جمع کردیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے انسان دو قسم پر تقسیم کردیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ۔ وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہوگی۔ پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو زقوم کے درخت تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو، ہیم جمع ہے اس کا واحد اہیم ہے مونٹ ہماء ہے ہائم اور ہوتی اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جنت جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہوگا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے ؟ حضرت خالد بن معدان (رض) فرماتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے کہ ان کی مہمانداری جنت الفردوس ہے۔