Skip to main content

يُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْۗ قَالُوْا بَلٰى وَلٰـكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْاَمَانِىُّ حَتّٰى جَاۤءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ

يُنَادُونَهُمْ
وہ پکاریں گے ان کو
أَلَمْ
کیا نہ
نَكُن
تھے ہم
مَّعَكُمْۖ
تمہارے ساتھ
قَالُوا۟
وہ کہیں گے
بَلَىٰ
کیوں نہیں
وَلَٰكِنَّكُمْ
لیکن تم نے
فَتَنتُمْ
فتنے میں ڈالا تم نے
أَنفُسَكُمْ
اپنے نفسوں کو
وَتَرَبَّصْتُمْ
اور موقعہ پرستی کی تم نے
وَٱرْتَبْتُمْ
اور شک میں پڑے رہے تم
وَغَرَّتْكُمُ
اور دھوکے میں ڈالا تم کو
ٱلْأَمَانِىُّ
خواہشات نے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
جَآءَ
آگیا
أَمْرُ
فیصلہ
ٱللَّهِ
اللہ کا
وَغَرَّكُم
اور دھوکے میں ڈالا تم کو
بِٱللَّهِ
اللہ کے بارے میں
ٱلْغَرُورُ
بڑے دھوکے باز نے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ گیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ گیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

منافق مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا

احمد علی Ahmed Ali

وہ انہیں پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں ڈالا اور راہ دیکھتے اور شک کرتے رہے اور تمہیں آرزوؤں نے دھوکہ دیا یہاں تک کہ الله کا حکم آ پہنچا اور تمہیں الله کے بارے میں شیطان نے دھوکہ دیا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ چلا چلا کر ان سے کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (١) وہ کہیں گے ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسا رکھا (٢) تھا اور وہ انتظار میں ہی رہے (٣) اور شک وشبہ کرتے رہے (٤) تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا (۵) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا ( ٦) اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے رکھنے والے نے دھوکے میں رکھا۔(۷)

١٤۔١ یعنی دیوار حائل ہونے پر منافقین مسلمانوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمھارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے اور جہاد وغیرہ میں حصہ نہیں لیتے تھے۔
١٤۔٢ تم نے اپنے دلوں میں کفر اور نفاق چھپا رکھا تھا۔
١٤۔٣ کہ شاید مسلمان کسی گردش کا شکار ہوجائیں
١٤۔٤ دین کے معاملے میں، اسی لیے قرآن کو مانا نہ دلائل ومعجزات کو۔
۱٤۔۵جس میں تمہیں شیطان نے مبتلا کیے رکھا۔
۱٤۔ ٦ یعنی تمہیں موت آگئی، یا مسلمان بالآخر غالب رہے اور تمہاری آرزوں پر پانی پھر گیا۔
۱٤۔۷یعنی اللہ کے حلم اور اس کے قانون امہال کی وجہ سے تمہیں شیطان نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔ لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزوؤں نے تم کو دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آ پہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغاباز دغا دیتا رہا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ چلا چلا کر ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے وه کہیں گے کہ ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسا رکھا تھا اور انتظار میں ہی رہے اور شک و شبہ کرتے رہے اور تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے میں ہی رکھا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ (منافق) اہلِ ایمان کو پکا ریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ وہ کہیں گے ہاں تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنہ (گمراہی) میں ڈالا اور (ہمارے بارے میں گردشوں کا) انتظار کیا (کہ نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے) اور شک و شبہ میں مبتلا رہے اور جھوٹی امیدوں نے تمہیں دھوکہ دیا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور دھوکہ باز (شیطان) نے تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ میں رکھا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور منافقین ایمان والوں سے پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے تو وہ کہیں گے بیشک مگر تم نے اپنے کو بلاؤں میں مبتلا کردیا اور ہمارے لئے مصائب کے منتظر رہے اور تم نے رسالت میں شک کیا اور تمہیں تمناؤں نے دھوکہ میں ڈالے رکھا یہاں تک کہ حکم خدا آگیا اور تمہیں دھوکہ باز شیطان نے دھوکہ دیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ (منافق) اُن (مومنوں) کو پکار کر کہیں گے: کیا ہم (دنیا میں) تمہاری سنگت میں نہ تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! لیکن تم نے اپنے آپ کو (منافقت کے) فتنہ میں مبتلا کر دیا تھا اور تم (ہمارے لئے برائی اور نقصان کے) منتظر رہتے تھے اور تم (نبوّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دینِ اسلام میں) شک کرتے تھے اور باطل امیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا، یہاں تک کہ اللہ کا اَمرِ (موت) آپہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دغا باز (شیطان) دھوکہ دیتا رہا،