Skip to main content

قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۤءِ اللّٰهِۗ حَتّٰۤى اِذَا جَاۤءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا يٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِيْهَا ۙ وَهُمْ يَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْۗ اَلَا سَاۤءَ مَا يَزِرُوْنَ

قَدْ
تحقیق
خَسِرَ
نقصان اٹھایا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
كَذَّبُوا۟
جنہوں نے جھٹلایا
بِلِقَآءِ
ملاقات کو ۭ
ٱللَّهِۖ
اللہ کی
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
جَآءَتْهُمُ
آجائے گی ان کے پاس
ٱلسَّاعَةُ
قیامت
بَغْتَةً
اچانک
قَالُوا۟
وہ کہیں گے
يَٰحَسْرَتَنَا
ہائے افسوس ہم پر
عَلَىٰ
اوپر
مَا
اس کے جو
فَرَّطْنَا
کمی کی ہم نے
فِيهَا
اس کے بارے میں
وَهُمْ
اور وہ
يَحْمِلُونَ
اٹھائے ہوئے ہوں گے
أَوْزَارَهُمْ
اپنے بوجھ
عَلَىٰ
پر
ظُهُورِهِمْۚ
اپنی پیٹھوں
أَلَا
خبردار۔ سنو
سَآءَ
کتنا برا ہے
مَا
جو
يَزِرُونَ
بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نقصان میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے "افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی" اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

نقصان میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے "افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی" اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کا انکار کیا، یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں ہم نے تقصیر کی، اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں ارے کتنا برُا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں

احمد علی Ahmed Ali

وہ لوگ تباہ ہوئے جنہوں نے اپنے رب کی ملاقات کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آ پہنچے گی تو کہیں گے اے افسوس ہم نے اس میں کیسی کوتاہی کی اور وہ اپنے بوجھ اپنے پیٹوں پر اٹھائیں گےخبرداروہ برا بوجھ ہے جسے وہ اٹھائیں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک خسارے میں پڑے وہ لوگ جس نے اللہ سے ملنے کی تکذیب (جھٹلانا) کی، یہاں تک کہ جب وہ معین وقت ان پر دفعتًا آپہنچے گا، کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو اس کے بارے میں ہوئی، اور حالت ان کی یہ ہوگی کہ وہ اپنے بار اپنی پیٹھوں پر لادے ہونگے، خوب سن لو کہ بری ہوگی وہ شے جس کو وہ لادیں گے (١)

٣١۔١ اللہ کی ملاقات کی تکذیب کرنے والے جس خسارے اور نامرادی سے دو چار ہوں گے اپنی کوتاہیوں پر جس طرح نادم ہوں گے اور برے اعمال کا جو بوجھ اپنے اوپر لادے ہوں گے آیت میں اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ فَرَّطْنَا فِیْھَا میں ضمیراَلسَّاعَۃُ کی طرف راجع ہے یعنی قیامت کی تیاری اور تصدیق کے معاملے میں جو کوتاہی ہم سے ہوئی یا اَلصَّفْقَۃُ (سودا) کی طرف راجع ہے جو اگرچہ عبارت میں موجود نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کناں ہے اس لئے کہ نقصان سودے میں ہی ہوتا ہے اور مراد اس سودے سے وہ ہے جو ایمان کے بدلے کفر خرید کر انہوں نے کیا یعنی یہ سودا کر کے ہم نے سخت کوتاہی کی یا حیاۃ کی طرف راجع ہے یعنی ہم نے اپنی زندگی میں برائیوں اور کفر و شرک کا ارتکاب کرکے جو کوتاہیاں کیں۔ (فتح القدیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بےشک خساره میں پڑے وه لوگ جنہوں نے اللہ سے ملنے کی تکذیب کی، یہاں تک کہ جب وه معین وقت ان پر دفعتاً آ پہنچے گا، کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو اس کے بارے میں ہوئی، اور حالت ان کی یہ ہوگی کہ وه اپنے بار اپنی پیٹھوں پر ﻻدے ہوں گے، خوب سن لو کہ بری ہوگی وه چیز جس کو وه ﻻدیں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بے شک ان لوگوں نے گھاٹا اٹھایا ہے جنہوں نے اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ جب اچانک قیامت آجائے گی تو وہ لوگ کہیں گے ہائے افسوس ہم سے اس کے بارے میں کیسی کوتاہی ہوئی؟ اور وہ اپنے (گناہوں کے) بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھائے ہوں گے۔ کیا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائے ہوئے ہیں؟ ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بیشک وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے اللہ کی ملاقات کا انکار کیا یہاں تک کہ جب اچانک قیامت آگئی تو کہنے لگے کہ ہائے افسوس ہم نے قیامت کے بارے میں بہت کوتاہی کی ہے -اس وقت وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پشت پر لادے ہوں گے اور یہ بدترین بوجھ ہوگا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پس ایسے لوگ نقصان میں رہے جنہوں نے اﷲ کی ملاقات کو جھٹلا دیا یہاں تک کہ جب ان کے پاس اچانک قیامت آپہنچے گی (تو) کہیں گے: ہائے افسوس! ہم پر جو ہم نے اس (قیامت پر ایمان لانے) کے بارے میں (تقصیر) کی، اور وہ اپنی پیٹھوں پر اپنے (گناہوں کے) بوجھ لادے ہوئے ہوں گے، سن لو! وہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر !
قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آجانے کے بعد انہیں ہوگا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ فیھا کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے حیاۃ ہو اور ممکن ہے اعمال ہو اور ممکن ہے دار آخرت ہو، یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ آہ ! کیا برا بوجھ ہے ؟ حضرت ابو مرزوق فرماتے ہیں کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بد صورت ہوگا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آرہی ہوگی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گا خواب ! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں ؟ یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بد صورت کریہہ منظر اور تیز بدبو والا ہے تجھ سے زیادہ بد صورت کوئی بھی نہ ہوگا، وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہوجاؤں گا چناچہ وہ اس پر سوار ہوجائے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے، حضرت سدی فرماتے ہیں کہ جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بد صورت سخت بد بودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بد صورت ہے بدبو دار ہے یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے، یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون ؟ یہ کہتا ہے تیرے عمل کا مجسمہ، اب یہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کیلئے عذابوں کے ساتھ ہی ایک عذاب ہوتا ہے جب قیامت کے دن یہ اپنی قبر سے چلے گا تو یہ کہے گا ٹھہر جاؤ دنیا میں تو نے میری سواری لی ہے اب میں تیری سواری لوں گا چناچہ وہ اس پر سوار ہوجاتا ہے اور اسے مارتا پیٹتا ذلت کے ساتھ جانوروں کی طرح ہنکاتا ہوا جہنم میں پہنچاتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں۔ دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے ؟