Skip to main content

وَمَا تَأْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ

وَمَا
اور نہیں
تَأْتِيهِم
آتی ان کے پاس
مِّنْ
سے
ءَايَةٍ
کوئی نشانی
مِّنْ
سے
ءَايَٰتِ
نشانیوں میں (سے)
رَبِّهِمْ
ان کے رب کی
إِلَّا
مگر
كَانُوا۟
وہ ہیں
عَنْهَا
ان سے
مُعْرِضِينَ
اعراض برتنے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی اپنے رب کی نشانیوں سے نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیرلیتے ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے منہ نہ موڑا ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ان کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے نہیں آتی مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ان کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں نہیں آتی مگر وه اس سے اعراض ہی کرتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان کے پاس نہیں آتی مگر یہ کہ وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ان لوگوں کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر یہ کہ یہ اس سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے ان کے پاس کوئی نشانی نہیں آتی مگر (یہ کہ) وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ
کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے ؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں ؟ وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے درپے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت ترو تازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے۔ جب وہ تکبر میں آگئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کردیئے گئے۔ تہس نہس ہوگئے، بھوسی اڑ گئی۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو ، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔