Skip to main content

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوٰارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِىْۤ اِلَى اللّٰهِۗ قَالَ الْحَـوٰرِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّاۤٮِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّاۤٮِٕفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ

يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے ہو
كُونُوٓا۟
ہوجاؤ
أَنصَارَ
مددگار
ٱللَّهِ
اللہ کے
كَمَا
جیسے
قَالَ
کہا تھا
عِيسَى
عیسیٰ
ٱبْنُ
ابن
مَرْيَمَ
مریم نے
لِلْحَوَارِيِّۦنَ
حواریوں سے
مَنْ
کون
أَنصَارِىٓ
میرا مددگار ہوگا
إِلَى
طرف
ٱللَّهِۖ
اللہ کی
قَالَ
کہا
ٱلْحَوَارِيُّونَ
حواریوں نے
نَحْنُ
ہم ہیں
أَنصَارُ
مددگار
ٱللَّهِۖ
اللہ کے
فَـَٔامَنَت
تو ایمان لایا
طَّآئِفَةٌ
ایک گروہ
مِّنۢ
سے
بَنِىٓ
بنی
إِسْرَٰٓءِيلَ
اسرائیل میں سے
وَكَفَرَت
اور انکار کردیا
طَّآئِفَةٌۖ
ایک گروہ نے
فَأَيَّدْنَا
تو تائید کی ہم نے۔ مدد کی ہم نے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کی
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
عَلَىٰ
اوپر
عَدُوِّهِمْ
ان کے دشمنوں کے
فَأَصْبَحُوا۟
تو ہوگئے وہ
ظَٰهِرِينَ
غالب آنے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریمؑ نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا; "کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار؟" اور حواریوں نے جواب دیا تھا; "ہم ہیں اللہ کے مددگار" اُس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریمؑ نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا: "کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار؟" اور حواریوں نے جواب دیا تھا: "ہم ہیں اللہ کے مددگار" اُس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کریں حواری بولے ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے کفر کیا تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو غالب ہوگئے

احمد علی Ahmed Ali

ایمان والو الله کے مددگار ہو جاؤ جیسا کہ ابن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ الله کی راہ میں میرا مددگار کون ہے حواریو ں نے کہا ہم الله کے مددگار ہیں پھر ایک گروہ بنی اسرائیل کا ایمان لایا اور ایک گروہ کافر ہو گیا پھر ہم نے ایمان داروں کو ان کے دشمنوں پر غالب کر دیا پھر تو وہی غالب ہو کر رہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے ایمان والو! تم اللہ تعالٰی کے مددگار بن جاؤ (۱) جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راہ میں مددگار ہیں (۲) پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان لائی اور ایک جماعت نے کفر کیا (۱) تو ہم نے مومنوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وہ غالب آگئے (٤)۔

.١٤۔١ تمام حالتوں میں، اپنے اقوال وافعال کے ذریعے سے بھی اور جان ومال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارے تم فورا ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ علیہ السلام کی پکار پر لبیک کہا۔ ١٤۔۲ یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دین کی دعوت و تبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشرو اشاعت کا حکم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام حج میں فرماتے ' کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لئے کہ قریش مجھے فریضہ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے ' حتٰی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کا وعدہ کیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو وعدے کے مطابق انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے تمام ساتھیوں کی مدد کی حتی کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کا نام ہی انصار رکھ دیا اور اب یہ ان کا علم بن گیا۔ رضی اللہ عنہم وارضاھم۔
١٤۔۳ یہ یہود تھے جنہوں نے نبوت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا انکار بلکہ ان پر اور ان کی ماں پر بہتان تراشی کی بعض کہتے ہیں کہ یہ اختلاف و تفرق اس وقت ہوا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ایک نے کہا عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں اللہ تعالٰی نے ہی زمین پر ظہور فرمایا تھا، اب وہ پھر آسمان پر چلا گیا، یہ فرقہ یعقوبیہ کہلاتا ہے نسطوریہ فرقے نے کہا وہ اب اللہ کے بیٹے تھے، باپ نے بیٹے کو آسمان پر بلا لیا ہے، تیسرے فرقے نے کہا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، یہی فرقہ صحیح تھا۔
١٤۔٤یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ہم نے اسی آخری جماعت کی دوسرے باطل گروہوں کے مقابلے میں مدد کی چنانچہ یہ صحیح عقیدے کی حامل جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی اور یوں ہم نے ان کو دلائل کے لحاظ سے بھی سب کافروں پر غلبہ عطا فرمایا اور قوت وسلطنت کے اعتبار سے بھی۔ اس غلبے کا آخری ظہور اس وقت پھر ہوگا۔ جب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ نزول ہوگاجیسا کہ اس نزول اور غلبے کی صراحت احادیث صحیحہ میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

مومنو! خدا کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ بھلا کون ہیں جو خدا کی طرف (بلانے میں) میرے مددگار ہوں۔ حواریوں نے کہا کہ ہم خدا کے مددگار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ آخر الامر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد دی اور وہ غالب ہوگئے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ۔ جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راه میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راه میں مددگار ہیں، پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان ﻻئی اور ایک جماعت نے کفر کیا تو ہم نے مومنوں کی انکے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وه غالب آ گئے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے ایمان والو! اللہ کے (دین کے) انصار و مددگار بنو جیسا کہ عیسٰی(ع) بن مریم(ع) نے حواریوں سے کہا تھا کہ اللہ کی طرف بلانے میں کون میرا مددگار ہے؟ حواریوں نے (جواب میں) کہا ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا تو جو ایمان لائے تھے ہم نے ان کے دشمن کے مقابلہ میں ان کی تائید کی پس وہ غالب ہو گئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ایمان والو اللہ کے مددگار بن جاؤ جس طرح عیسٰی بن مریم علیھ السّلام نے اپنے حواریین سے کہا تھا کہ اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے تو حواریین نے کہا کہ ہم اللہ کے ناصر ہیں لیکن پھربنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر ہوگیا تو ہم نے صاحبان هایمان کی دشمن کے مقابلہ میں مدد کردی تو وہ غالب آکر رہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار بن جاؤ جیسا کہ عیسٰی ابن مریم (علیہما السلام) نے (اپنے) حواریوں سے کہا تھا: اللہ کی (راہ کی) طرف میرے مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ پس بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کافر ہوگیا، سو ہم نے اُن لوگوں کی جو ایمان لے آئے تھے اُن کے دشمنوں پر مدد فرمائی پس وہ غالب ہوگئے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

عیسیٰ (علیہ السلام) کے 12 صحابہ کی روداد ;۔ اللہ سحبانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر آن اور ہر لحظہ جان مال عزت آبرو قول فعل نقل و حرکت سے دل اور زبان سے اللہ کی اور اس کے رسول کی تمام تر باتوں کی تعمیل میں رہیں، پھر مثال دیتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے تابعداروں کو دیکھو کہ حضرت عیسیٰ کی آواز پر فوراً لبیک پکار اٹھے اور ان کے اس کہنے پر کہ کوئی ہے جو اللہ کی باتوں میں میری امداد کرے انہوں نے بلا غور علی الفور کہہ دیا کہ ہم سب آپ کے ساتھی ہیں اور دین اللہ کی امداد میں آپ کے تابع ہیں، چناچہ روح اللہ علیہ صوالت اللہ نے اسرائیلیوں اور یونانیوں میں انہیں مبلغ بنا کر شام کے شہروں میں بھیجا، حج کے دنوں میں سرور رسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے جگہ دے تاکہ میں اللہ کی رسالت کو پہنچا دوں قریش تو مجھے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں، چناچہ اہل مدینہ کے قبیلے اوس و خزرج کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ابدی بخشی انہوں نے آپ سے بیعت کی آپ کی باتیں قبول کیں، اور مضبوط عہد و پیمان کئے کہ اگر آپ ہمارے ہاں آجائیں تو پھر کسی سرخ و سیاہ کی طاقت نہیں جو آپ کو دکھ پہنچائے ہم آپ کی طرف سے جانیں لڑا دیں گے اور آپ پر کوئی آنچ نہ آنے دیں گے، پھر جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو لے کر ہجرت کر کے ان کے ہاں گئے تو فی الواقع انہوں نے اپنے کہے کو پورا کر دکھایا اور اپنی زبان کی پاسداری کی اسی لئے انصار کے معزز لقب سے ممتاز ہوئے اور یہ لقب گویا ان کا امتیازی نام بن گیا اللہ ان سے خوش ہو اور انہیں بھی راضی کرے آمین ! جبکہ حواریوں کو لے کر آپ دین اللہ کی تبلیغ کے لئے کھڑے ہوئے تو بنی اسرائیل کے کچھ لوگ تو راہ راست پر آگئے اور کچھ لوگ نہ آئے بلکہ آپ کو اور آپ کی والدہ ماجدہ طاہرہ کو بدترین برائی کی طرف منسوب کیا ان یہودیوں پر اللہ کی پھٹکار پڑی اور ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ بن گئے، پھر ماننے والوں میں سے بھی ایک جماعت ماننے میں ہی حد سے گذر گئی اور انہیں ان کے درجہ سے بہت بڑھا دیا، پھر اس گروہ میں بھی کئی گروہ ہوگئے، بعض تو کہنے لگے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں بعض نے کہا تین میں کے تیسرے ہیں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس اور بعض نے تو آپ کو اللہ ہی مان لیا، ان سب کا ذکر سورة نساء میں مفصل ملاحظہ ہو، سچے ایمان والوں کی جناب باری نے اپنے آخر الزماں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے تائید کی ان کے دشمن نصرانیوں پر انہیں غالب کردیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب اللہ کا ارادہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھا لے آپ نہا دھو کر اپنے اصحاب کے پاس آئے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے یہ بارہ صحابہ تھے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے آتے ہی فرمایا تم میں وہ بھی ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ کفر کریں گے اور ایک دو دفعہ نہیں بلکہ بارہ بارہ مرتبہ، پھر فرمایا تم میں سے کون اس بات پر آمادہ ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈالی جائے اور وہ میرے بدلے قتل کیا جائے اور جنت میں میرے درجے میں میرا ساتھی بنے، ایک نوجوان جو ان سب میں کم عمر تھا، اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو پیش کیا، آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ، پھر وہی بات کہی اب کی مرتبہ بھی کم عمر نوجوان صحابی (رض) کھڑے ہوئے، حضرت عیسیٰ نے اب کی مرتبہ بھی انہیں بٹھا دیا، پھر تیسری مرتبہ یہی سوال کیا، اب کی مرتبہ بھی یہی نوجوان کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا بہت بہتر، اسی وقت ان کی شکل و صورت بالکل حضرت عیسیٰ جیسی ہوگئی اور خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس گھر کے ایک روزن سے آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے۔ اب یہودیوں کی فوج آئی اور انہوں نے اس نوجوان کو حضرت عیسیٰ سمجھ کر گرفتار کرلیا اور قتل کردیا اور سولی پر چڑھا دیا اور حضرت عیسیٰ کی پیشین گوئی کے مطابق ان باقی کے گیارہ لوگوں میں سے بعض نے بارہ بارہ مرتبہ کفر کیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ایماندار تھے، پھر بنی اسرائیل کے ماننے والے گروہ کے تین فرقے ہوگئے، ایک فرقے نے تو کہا کہ خود اللہ ہمارے درمیان بصورت مسیح تھا، جب تک چاہا رہا پھر آسمان پر چڑھ گیا، انہیں یعقوبیہ کہا جاتا ہے، ایک فرقے نے کہا ہم میں اللہ کا بیٹا تھا جب تک اللہ نے چاہا اسے ہم میں رکھا اور جب چاہا اپنی طرف چڑھا لیا، انہیں سطوریہ کہا جاتا ہے، تیسری جماعت حق پر قائم رہی ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول حضرت عیسیٰ ہم میں تھے، جب تک اللہ کا ارادہ رہا آپ ہم میں موجود رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا، یہ جماعت مسلمانوں کی ہے۔ پھر ان دونوں کافر جماعتوں کی طاقت بڑھ گئی اور انہوں نے ان مسلمانوں کو مار پیٹ کر قتل و غارت کرنا شروع کیا اور یہ دبے بھی ہوئے اور مغلوب ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا، پس بنی اسرائیل کی وہ مسلمان جماعت آپ پر بھی ایمان لائی اور ان کافر جماعتوں نے آپ سے بھی کفر کیا، ان ایمان والوں کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور انہیں ان کے دشمنوں پر غالب کردیا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غالب آجانا اور دین اسلام کا تمام ادیان کو مغلوب کردینا ہی ان کا غالب آنا اور اپنے دشمنوں پر فتح پانا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن جریر اور سنن نسائی۔ پس یہ امت حق پر قائم رہ کر ہمیشہ تک غالب رہے گی یہاں تک کہ امر اللہ یعنی قیامت آجائے اور یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہو کر مسیح دجال سے لڑائی کریں گے جیسے کہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة صف کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد للہ۔