Skip to main content

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ

فَٱعْتَرَفُوا۟
تو وہ اعتراف کرلیں گے
بِذَنۢبِهِمْ
اپنے گناہوں کا
فَسُحْقًا
تو لعنت ہے۔ دوری ہے
لِّأَصْحَٰبِ
والوں کے لیے
ٱلسَّعِيرِ
دوزخ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اب اپنے گناہ کا اقرار کیا تو پھٹکار ہو دوزخیوں کو،

احمد علی Ahmed Ali

پھر وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے سو دوزخيوں پر پھٹکار ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا (١) اب یہ دوزخی دفع ہوں (دور ہوں) (٢)۔

١١۔١ جس کی بنا پر مستحق عذاب قرار پائے اور وہ ہے کفر اور انبیاء علیہم السلام کی تکذیب۔
١١۔٢ یعنی اب ان کے لئے اللہ اور اس کی رحمت سے دوری ہی دوری ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے۔ سو دوزخیوں کے لئے (رحمت خدا سے) دور ہی ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا۔ اب یہ دوزخی دفع ہوں (دور ہوں)

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس وہ (اس وقت) اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے پس لعنت ہوان دوزخ والوں پر۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو انہوں نے خود اپنے گناہ کا اقرار کرلیا تو اب جہنم ّوالوںکے لئے تو رحمت خدا سے دوری ہی دوری ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پس وہ اپنے گناہ کا اِعتراف کر لیں گے، سو دوزخ والوں کے لئے (رحمتِ اِلٰہی سے) دُوری (مقرر) ہے،