Skip to main content

وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُوْنَ ۚ

وَأَوْحَيْنَآ
اور وحی کی ہم نے
إِلَىٰ
طرف
مُوسَىٰٓ
موسیٰ کی
أَنْ
یہ کہ
أَلْقِ
پھینکو تم
عَصَاكَۖ
اپنا عصا
فَإِذَا
تو یکایک۔ دفعتا
هِىَ
وہ
تَلْقَفُ
نگل رہا تھا
مَا
اس کو جو
يَأْفِكُونَ
وہ گھڑ لائے تھے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم نے موسیٰؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہم نے موسیٰؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا

احمد علی Ahmed Ali

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا اپنا عصا ڈال دے سو وہ اسی وقت نگلنے لگا جو کھیل انہو ں نے بنا رکھا تھا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ہم نے موسیٰ (علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا (١)

١١٧۔١ لیکن یہ جو کچھ بھی تھا ایک تخیل شعبدہ بازی اور جادو تھا جو حقیقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے لاٹھی ڈالتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا اور لاٹھی نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرکے سب کچھ نگل لیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا پھینکو۔ تو یکایک وہ (اژدھا بن کر) ان کے طلسموں (جادو کے جھوٹے سانپوں) کو نگلنے لگا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے موسٰی علیھ السّلامکو اشارہ کیا کہ اب تم بھی اپنا عصا ڈال دو وہ ان کے تمام جادو کے سانپوں کو نگل جائے گا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ (اب) آپ اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیں تو وہ فوراً ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے فریب کاری سے وضع کر رکھی تھیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جادوگر سجدہ ریز ہوگئے
اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جادو نہیں۔ یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کرسکے اور صفائی کردی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ حضرت قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔