Skip to main content

قَالُـوْۤا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۗ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ

They said
قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
"We have been harmed
أُوذِينَا
ہم اذیت دیے گئے
from
مِن
اس سے
before
قَبْلِ
پہلے
[that]
أَن
کہ
you came to us
تَأْتِيَنَا
تو آتا ہمارے پاس
from
وَمِنۢ
اور اس کے
and after
بَعْدِ
بعد
[what]
مَا
جو
you have come to us"
جِئْتَنَاۚ
تو آیا ہمارے پاس
He said
قَالَ
اس نے جواب دیا
"Perhaps
عَسَىٰ
قریب ہے کہ
your Lord
رَبُّكُمْ
رب تمہارا
[that]
أَن
کہ
will destroy
يُهْلِكَ
ہلاک کردے
your enemy
عَدُوَّكُمْ
تمہارے دشمن کو
and make you successors
وَيَسْتَخْلِفَكُمْ
اور خلیفہ بنائے تم کو
in
فِى
میں
the earth
ٱلْأَرْضِ
ز مین
then see
فَيَنظُرَ
پھر وہ دیکھے
how
كَيْفَ
کس طرح
you will do"
تَعْمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اس کی قوم کے لوگوں نے کہا "تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں" اس نے جواب دیا "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"

English Sahih:

They said, "We have been harmed before you came to us and after you have come to us." He said, "Perhaps your Lord will destroy your enemy and grant you succession in the land and see how you will do."

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اس کی قوم کے لوگوں نے کہا "تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں" اس نے جواب دیا "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے اور آپ کے تشریف لانے کے بعد کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو

احمد علی Ahmed Ali

انہوں نے کہا تیرے آنے سےپہلے بھی ہمیں تکلیفیں دی گئیں اور تیرے آنے کے بعد بھی فرمایا تمہارا رب بہت جلد تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور اس کی بجائے تمہیں اس سرزمین کا مالک بنا دے گا پھر دیکھے گاتم کیا کرتے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی (١) اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی (٢) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا (٣)۔

١٢٩۔١ یہ اشارہ ہے ان مظالم کی طرف جو ولادت موسیٰ علیہ السلام سے قبل ان پر ہوتے رہے۔
١٢٩۔٢ جادوگروں کے واقعہ کے بعد ظلم و ستم کا یہ نیا دور جو موسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد شروع ہوا۔
١٢٩۔٣ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، زمین میں تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا پھر تمہاری آزمائش کا نیا دور شروع ہوگا۔ ابھی تو تکلیفوں کے ذریعے سے آزمائے جا رہے ہو، پھر انعام واکرام کی بارش کرکے اور اختیار اور اقتدار سے بہرہ مند کرکے تمہیں آزمایا جائے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ان لوگوں (بنی اسرائیل) نے کہا ہم آپ کے آنے سے پہلے بھی ستائے جاتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ انہوں نے کہا! عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنائے گا (تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا) تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

قوم نے کہا کہ ہم تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی ستائے گئے -موسٰی علیھ السّلامنے جواب دیا کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں اس کا جانشین بنادے گا اور پھر دیکھے گا تمہارا طرز عمل کیسا ہوتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

لوگ کہنے لگے: (اے موسٰی!) ہمیں تو آپ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے بھی اذیتیں پہنچائی گئیں اور آپ کے ہمارے پاس آنے کے بعد بھی (گویا ہم دونوں طرح مارے گئے، ہماری مصیبت کب دور ہو گی؟) موسٰی (علیہ السلام) نے (اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے) فرمایا: قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور (اس کے بعد) زمین (کی سلطنت) میں تمہیں جانشین بنا دے پھر وہ دیکھے کہ تم (اقتدار میں آکر) کیسے عمل کرتے ہو،