Skip to main content

قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَـكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ

قَالَ
کہا
أَغَيْرَ
کیا سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
أَبْغِيكُمْ
میں تلاش کروں تمہارے لیے
إِلَٰهًا
کوئی الہ
وَهُوَ
حالانکہ اس نے
فَضَّلَكُمْ
فضیلت بخشی تم کو
عَلَى
پر
ٱلْعَٰلَمِينَ
جہان والوں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر موسیٰؑ نے کہا "کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر موسیٰؑ نے کہا "کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی

احمد علی Ahmed Ali

کہا کیا الله کے سوا تمہارے لیے اور معبود بنا دوں حالانکہ اس نے تمہیں سارے جہاں پر فضیلت دی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

فرمایا کیا اللہ تعالٰی کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے (١)

١٤٠۔١ کیا جس اللہ نے تم پر اتنے احسانات اور تمہیں جہانوں پر فضیلت بھی عطا کی، اسے چھوڑ کر میں تمہارے لئے پتھر اور لکڑی کے تراشے ہوئے بت تلاش کروں، یعنی یہ ناشکری اور احسان ناشناسی میں کس طرح کر سکتا ہوں؟ اگلی آیات میں اللہ تعالٰی کے مزید احسا نات کا تذکرہ ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں؟ حاﻻنکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کہا: کیا میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی (اور) خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں تمام جہانوں کی قوموں پر فضیلت دی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا میں خدا کے علاوہ تمہارے لئے دوسرا خدا تلاش کروں جب کہ اس نے تمہیں عالمین پر فضیلت دی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: کیا میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں، حالانکہ اسی (اللہ) نے تمہیں سارے جہانوں پر فضیلت بخشی ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ماضی کی یاد دہانی
انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کیلئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کردیا۔ ایسے رب کے سوا اور کوئی لائق عبادت کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔