Skip to main content

الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسٰٮهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۤءَ يَوْمِهِمْ هٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ

ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ٱتَّخَذُوا۟
جنہوں نے بنالیا
دِينَهُمْ
اپنے دین کو
لَهْوًا
شغل
وَلَعِبًا
اور کھیل
وَغَرَّتْهُمُ
اور دھوکے میں ڈالے رکھا ان کو
ٱلْحَيَوٰةُ
زندگی نے
ٱلدُّنْيَاۚ
دنیا کی
فَٱلْيَوْمَ
تو آج
نَنسَىٰهُمْ
ہم بھلادیں گے ان کو
كَمَا
جیسا کہ
نَسُوا۟
وہ بھول گئے تھے
لِقَآءَ
ملاقات کو
يَوْمِهِمْ
اپنے اس دن کی
هَٰذَا
اس
وَمَا
اور جو
كَانُوا۟
تھے وہ
بِـَٔايَٰتِنَا
ہماری آیات کا
يَجْحَدُونَ
انکار کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے،

احمد علی Ahmed Ali

جنہوں نے اپنا دین تماشا اور کھیل بنایا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے سو آج ہم انہیں بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور جیسا وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو و لعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وہ اس دن بھول گئے (١) اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔

٥١۔١ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالٰی اس قسم کے بندے سے پوچھے گا کیا میں نے تمہیں بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ تمہیں عزت اور اکرام سے نہیں نوازا تھا اور کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کر دیئے تھے؟ کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چونگی وصول نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں؟ یا اللہ یہ سب باتیں صحیح ہیں، اللہ تعالٰی اس سے پوچھے گا، کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا؟ وہ کہے گا نہیں، اللہ تعالٰی فرمائے گا ' پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا آج میں بھی تمہیں بھول جاتا ہوں (صحیح مسلم) قرآن کریم کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے وہی ہوتے ہیں جو دنیا کے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں سے چونکہ آخرت کی فکر اور اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ اس لئے وہ دین میں بھی اپنی طرف سے جو چاہتے ہیں اضافہ کر لیتے ہیں احکام اور فرائض پر عمل کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا۔ سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وه اس دن کو بھول گئے اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا لیا تھا اور جنہیں زندگانئ دنیا نے دھوکہ دیا تھا آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے آج کے اس دن کی حاضری کو بھلا دیا تھا۔ اور جیسے وہ ہماری آیتوں کو برابر جھٹلاتے رہے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنالیا تھا اور انہیں زندگانی دنیا نے دھوکہ دے دیا تھا تو آج ہم انہیں اسی طرح بھلادیں گے جس طرح انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلادیا تھا اور ہماری آیات کا دیدہ و دانستہ انکار کررہے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا اور جنہیں دنیوی زندگی نے فریب دے رکھا تھا، آج ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ (ہم سے) اپنے اس دن کی ملاقات کو بھولے ہوئے تھے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،