Skip to main content

وَهُوَ الَّذِىْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهٖ ۗ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاۤءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِۗ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ

وَهُوَ
اور وہ اللہ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
يُرْسِلُ
جو بھیجتا ہے
ٱلرِّيَٰحَ
ہواؤں کو
بُشْرًۢا
خوش خبری بنا کر
بَيْنَ
يَدَىْ
آگے
رَحْمَتِهِۦۖ
اپنی رحمت کے
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَآ
جب
أَقَلَّتْ
اٹھالیتی ہیں رحمت / ہوائیں
سَحَابًا
بادل
ثِقَالًا
بوجھل
سُقْنَٰهُ
ہم بھیج دیتے ہیں اس کو / ہانکتے ہں اس کو
لِبَلَدٍ
زمین کی طرف
مَّيِّتٍ
مردہ (زمین کی طرف)
فَأَنزَلْنَا
پس ہم اتارتے ہیں
بِهِ
ساتھ اس کے
ٱلْمَآءَ
پانی کو
فَأَخْرَجْنَا
پس ہم نکالتے ہیں
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مِن
کے
كُلِّ
ہر طرح کے
ٱلثَّمَرَٰتِۚ
پھلوں میں سے
كَذَٰلِكَ
اسی طرح
نُخْرِجُ
ہم نکالیں گے
ٱلْمَوْتَىٰ
مردوں کو
لَعَلَّكُمْ
تاکہ تم
تَذَكَّرُونَ
تم نصیحت پکڑو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے، اور وہاں مینہ برسا کر (اُسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالت موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے، اور وہاں مینہ برسا کر (اُسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالت موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی یہاں تک کہ جب اٹھا لائیں بھاری بادل ہم نے اسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا پھر اس سے پانی اتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے کہیں تم نصیحت مانو،

احمد علی Ahmed Ali

اور وہی ہے جو مینہ سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بادلو ں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ا س بادل کو مردہ شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم ا س بادل سے پانی اتارتے ہیں پھر اس سے سب طرح کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کر دیتی ہیں (١) یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں (٢) تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں (٣) یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو (٤)۔

٥٧۔١ اپنی الوہیت و ربوبیت کے اثبات میں اللہ تعالٰی مزید دلائل بیان فرما کر پھر اس سے احیاء موتی کا اثبات فرما رہا ہے۔ بشرا بشیر کی جمع ہے، رحمۃ سے مراد یہاں مطر بارش ہے یعنی بارش سے پہلے وہ ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے جو بارش کی نوید ہوتی ہیں۔
١٥٧۔٢ بھاری بادل سے مراد پانی سے بھرے ہوئے بادل ہیں۔
٥٧۔٣ ہر قسم کے پھل، جو رنگوں میں، ذائقوں میں، خوشبوؤں میں اور شکل و صورت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
٥٧۔٤ جس طرح ہم پانی کے ذریعے مردہ زمین روئیدگی پیدا کر دیتے ہیں اور وہ انواع و اقسام کے غلہ اور پھل پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن تمام انسانوں کو، جو مٹی میں مل کر مٹی ہو چکے ہونگے ہم دوبارہ زندہ کریں گے اور پھر ان کا حساب لیں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ وہی (خدا) ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری کے لئے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم انہیں کسی مردہ بستی کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں اور پھر وہاں پانی برسا دیتے ہیں۔ اور پھر ہم اس کے ذریعہ سے طرح طرح کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو (بھی زندہ کرکے) باہر نکالیں گے شاید کہ تم عبرت اور نصیحت حاصل کرو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہ خدا وہ ہے جو ہواؤں کو رحمت کی بشارت بناکر بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب ہوائیں وزنی بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم ان کو مردہ شہروں کو زندہ کرنے کے لئے لے جاتے ہیں اور پھر پانی برسادیتے ہیں اور اس کے ذریعہ مختلف پھل پیدا کردیتے ہیں اور اسی طرح ہم مفِدوں کو زندہ کردیا کرتے ہیں کہ شاید تم عبرت و نصیحت حاصل کرسکو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہی ہے جو اپنی رحمت (یعنی بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ (ہوائیں) بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ان (بادلوں) کو کسی مردہ (یعنی بے آب و گیاہ) شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم اس (بادل) سے پانی برساتے ہیں پھر ہم اس (پانی) کے ذریعے (زمین سے) ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم (روزِ قیامت) مُردوں کو (قبروں سے) نکالیں گے تاکہ تم نصیحت قبول کرو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں
اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کردینے والا بھی وہی ہے۔ پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے (بشرا) کی دوسری قرأت مبشرات بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے جیسے فرمان ہے آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 28؀) 42 ۔ الشوری;28) وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کردیتا ہے وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ ایک اور آیت میں ہے رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت زید بن عمرو بن نفیل (رح) کے شعروں میں ہے میں اس کا مطیع ہوں جس کے اطاعت گذار میٹھے اور صاف پانی کے بھرے ہوئے بادل ہیں اور جس کے تابع فرمان بھاری بوجھل پہاڑوں والی زمین ہے۔ پھر ہم ان بادلوں کو مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں جس میں کوئی سبزہ نہیں خشک اور بنجر ہے جیسے آیت (وایتہ لھم الارض) میں بیان ہوا ہے پھر اس سے پانی برسا کر اسی غیر آباد زمین کو سرسبز بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کردیں گے حالانکہ وہ بوسیدہ ہڈیاں اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل گئے ہوں گے۔ قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔ پھر فرمایا یہ تمہاری نصیحت کے لئے ہے۔ اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی جیسے فرمان ہے آیت (وانبتھا نباتا حسنا) اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین شور زمین وغیرہ اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جس علم و ہدایت کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر بہت زیادہ بارش ہوئی زمین کے ایک صاف عمدہ ٹکڑے تھے ان پر بھی وہ پانی برسا لیکن نہ تو وہاں رکا نہ وہاں کچھ اگا۔ یہی مثال اس کی ہے جس نے دین حق کی سمجھ پیدا کی اور میری بعثت سے اس نے فائدہ اٹھایا خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے سر ہی نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت ہی نہ لی جو میری معرفت بھیجی گئی (مسلم و نسائی)