Skip to main content

كُلُّ نَفْسٍ ۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ ۙ

كُلُّ
ہر
نَفْسٍۭ
نفس
بِمَا
بوجہ اس کے
كَسَبَتْ
جو اس نے کمائی کی
رَهِينَةٌ
رھن میں ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہر متنفس، اپنے کسب کے بدلے رہن ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہر متنفس، اپنے کسب کے بدلے رہن ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،

احمد علی Ahmed Ali

ہر شخص اپنے اعمال کے سبب گروی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے (١)

٣٨۔١رہن گروی کو کہتے ہیں یعنی ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہے، وہ عمل اسے عذاب سے چھڑا لے گا، (اگر نیک ہوگا) یا ہلاک کروا دے گا۔ (اگر برا ہے)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ہر نفس اپنے اعمال میں گرفتار ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

ہر شخص اُن (اَعمال) کے بدلے جو اُس نے کما رکھے ہیں گروی ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہوگا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھ ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہوگئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی، یقین کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں آیت ( وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ 99۝ۧ) 15 ۔ الحجر ;99) یعنی موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے، اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لئے کہ شفاعت وہاں نافع ہوجاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لئے شفاعت کہاں ؟ وہ ہمیشہ کے لئے (ہاویہ) میں گئے۔ پھر فرمایا کیا بات ہے کہ کونسی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے، فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں اسد کہتے ہیں اور حبشی زبان میں (ق سورة ) کہتے ہیں اور نبطی زبان میں رویا۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیدہ علیحدہ کتاب اترے جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے آیت (حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ\012\04 ) 6 ۔ الانعام ;124) یعنی جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے ؟ اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دیئے جائیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں ؟ پھر فرمایا سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کرلے اور نصیحت پکڑ لے، جیسے فرمان ہے آیت ( وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 29؀ ) 81 ۔ التکوير ;29) یعنی تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں۔ پھر فرمایا اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے، مسند احمد میں ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھے سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہوگیا، ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی (رح) اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورة مدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی، فالحمد اللہ