Skip to main content

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا ۙ

إِنَّ
بیشک
لِلْمُتَّقِينَ
متقی لوگوں کے لئے
مَفَازًا
کامیابی ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک ڈر والوں کو کامیابی کی جگہ ہے

احمد علی Ahmed Ali

بے شک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بے شک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بےشک پرہیزگاروں کیلئے کامیابی و کامرانی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بیشک صاحبانِ تقویٰ کے لئے کامیابی کی منزل ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا
نیک لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصدور اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے، حدائق کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورة واقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا، اس حدیث میں ہے کہ جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں ؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی (ابن ابی حاتم) انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس پر نشہ نہ ہوگا کہ بیہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ 23؀) 52 ۔ الطور ;23) اس میں نہ لغو ہوگا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہوگی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، بیحد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں اعطانی فاحسبنی انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں حسبی اللہ یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔