الانفال آية ۱۱
اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَاۤءِ مَاۤءً لِّيُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَۗ
طاہر القادری:
جب اس نے اپنی طرف سے (تمہیں) راحت و سکون (فراہم کرنے) کے لئے تم پر غنودگی طاری فرما دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں (ظاہری و باطنی) طہارت عطا فرما دے اور تم سے شیطان (کے باطل وسوسوں) کی نجاست کو دور کردے اور تمہارے دلوں کو (قوتِ یقین) سے مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے قدم (خوب) جما دے،
English Sahih:
[Remember] when He overwhelmed you with drowsiness [giving] security from Him and sent down upon you from the sky, rain by which to purify you and remove from you the evil [suggestions] of Satan and to make steadfast your hearts and plant firmly thereby your feet.
1 Abul A'ala Maududi
اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا، اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دُور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعہ سے تمہارے قدم جما دے
2 Ahmed Raza Khan
جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلو ں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے
3 Ahmed Ali
جس وقت اس نے تم پر اپنی طرف سے تسکین کے لیے اونگھ ڈال دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس سے تمہیں پاک کر دے اور شیطان کی نجاست تم سے دور کر دے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے قدم جما دے
4 Ahsanul Bayan
اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لئے (١) اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعے سے تم کو پاک کردے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کردے (٢) اور تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے پاؤں جمادے (٣)
١١۔١ جنگ احد کی طرح جنگ بدر میں بھی اللہ تعالٰی نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کردی جس سے ان کے دلوں کے بوجھ ہلکے ہوگئے اور اطمینان و سکون کی ایک خاص کیفیت ان پر طاری ہوگئی۔
١١۔٢ تیسرا انعام یہ کیا کہ بارش نازل فرمادی جس سے ایک تو ریتلی زمین میں نقل و حرکت آسان ہوگئی دوسرے وضو و طہارت میں آسانی ہوگئی، تیسرے اس سے شیطانی وسوسوں کا ازالہ فرما دیا جو اہل ایمان کے دلوں میں ڈال رہا تھا کہ تم اللہ کے نیک بندے ہوتے ہوئے بھی پانی سے دور ہو، دوسرے جنابت کی حالت میں تم لڑوگے تو کیسے اللہ کی رحمت و نصرت تمہیں حاصل ہوگی؟ تیسرے تم پیاسے ہو، جب کہ تمہارے دشمن سیراب ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
١١۔٣یہ چوتھا انعام ہے جو دلوں اور قدموں کو مضبوط کرکے کیا گیا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے
6 Muhammad Junagarhi
اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر دے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے پاؤں جما دے
7 Muhammad Hussain Najafi
اور وہ وقت (بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ) جب اللہ نے تمہیں غنودگی سے ڈھانپ دیا تھا تاکہ اس کی طرف سے تمہیں امن و سکون حاصل ہو۔ اور آسمان سے تم پر پانی برسا رہا تھا۔ تاکہ تمہیں پاک صاف کرے اور تم سے شیطان کی نجاست و ناپاکی دور کرے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے (تمہاری ڈھارس بندھائے) اور تمہارے قدموں کو جمائے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
جس وقت خدا تم پر نیند غالب کررہا تھا جو تمہارے لئے باعث سکون تھی اور آسمان سے پانی نازل کررہا تھا تاکہ تمہیں پاکیزہ بنادے اور تم سے شیطان کی کثافت کو دور کردے اور تمہارے دلوں کو مطمئن بنادے اور تمہارے قدموں کو ثبات عطا کردے
9 Tafsir Jalalayn
جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے۔ اور اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔
آیت نمبر ١١ تا ١٩
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اس خوف سے جو تم کو درپیش تھا غنودگی کی شکل میں تم پر سکون اور بےخوفی طاری کررہا تھا اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا ریا تھا کہ تم اصغر اور حدث اکبر سے پاک کرے اور تم سے اس شیطانی وسوسہ کو دور کرے کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تم (اس طرح) پیاسے اور بےطہارت نہ ہوتے اور مشرک پانی ہر قابض نہ ہوتے اور تاکہ تمہارے قلوب کو یقین و صبر کے ساتھ مضبوط کرے اور تاکہ بارش کے ذریعہ تمہارے قدموں کو جما دے کہ ریت میں نہ دھنسیں، (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارا رب ان فرشتوں سے کہہ رہا تھا جن کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی مدد اور نصرت کے ساتھ میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) انّی، اصل میں بانیّ ہے تم اہل ایمان کو مدد اور بشارت کے ذریعہ ثابت قدم رکھو، میں کافروں کے دل میں ابھی خوف ڈالے دیتا ہوں پس تم ان کی گردنوں پر یعنی سروں پر ضرب لگاؤ اور اس کی پور پور پر چوٹ لگاؤ یعنی دست و پا کے اطراف پر، چناچہ (مسلمان) مرد جب کافر کی گردن پر ضرب لگانے کا قصد کرتا تھا تو اس کی تلوار کافر تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی گردن (تن سے جدا ہوکر) گرجاتی تھی، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف ایک مٹھی خاک نہیں پھینکی مگر یہ کہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ ہر مشرک کی آنکھ میں نہ پہنچا ہو چناچہ مشرکوں کو شکست ہوگئی، یہ عذاب جو ان پر واقع ہوا اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے، اللہ اس کے لئے سخت گیر ہے، اس کے لئے یہ عذاب ہے، سو اے کافر ودنیا ہی میں اس عذاب کا مزا چکھو، اور بالیقین کافروں کے لئے آخرت میں عذاب مقرر ہے اے ایمان والو جب تم کافروں سے دوبدو مقابل ہوجاؤ حال یہ ہے کہ وہ اپنی کثرت کی وجہ سے آہستہ آہستہ سرک رہے ہوں تو بھی ان سے شکست خوردہ ہو کر پیٹھ مت پھیرو، اور جو شخص مقابلہ کے دن ان سے پیٹھ پھیرے گا مگر یہ کہ جنگی چال کے طور پر ہو بایں طور کہ ان کو چال کے طور پر فرار دکھائے حال ہپ لپ وپ پلٹ کر حملہ کا ارادہ رکھتا ہو، یا مسلمانوں کی جماعت سے مدد لینے کے لئے جاملنے کے طور پر وہ اس (وعید) سے مستثنیٰ ہے (اس کے علاوہ) جس نے ایسا کیا تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور اس کی قرار گاہ نہایت بری ہے اور یہ اس صورت کے ساتھ خاص ہے کہ کفار (کی تعداد) مسلمانوں کے مقابلہ میں دوگنا سے زیادہ نہ ہو، (حقیقت یہ ہے) کہ بدر میں تم نے ان کو اپنی قوت سے قتل نہیں کیا لیکن اللہ نے تمہاری مدد کرکے ان کو قتل کیا، اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قوم کی آنکھوں میں آپ نے نہیں پھنکا جبکہ آپ نے کنکریاں پھینکیں اس لئے کہ ایک انسانی مٹھی کنکریاں ایک بڑے لشکر کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتیں، لیکن ان کنکریوں کو ان تک پہنچاکر درحقیقت اللہ نے پھینکا اور اس نے یہ اسلئے کیا تاکہ کافروں کو مغلوب کردے، اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے بہتر صلہ دے اور وہ (مال) غنیمت ہے یقینا اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کا سننے والا ان کے احوال کو جاننے والا ہے اور یہ عطائے صلہ حق ہے، اور اللہ تعالیٰ کافروں کی چالوں کو کمزور کرنے والے ہیں اے کافرو اگر تم فتح کا فیصلہ چاہتے ہو، اسلئے کہ تم میں سے ابو جہل نے کہا تھا اے ہمارے اللہ ہم میں سے جو زیادہ قطع رحمی کرنے والا ہو اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا ہو جس کو ہم نہیں جانتے تو اس کو تو آئندہ کل ہلاک کر دے تو تمہارے پاس فیصلہ آگیا اس کو ہلاک کرکے جو ایسا ہے اور وہ ابوجہل ہے اور وہ ہے جو اس کے ساتھ قتل کیا گیا، نہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین، اور اگر کفر و قتال سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اور اگر تم نبی کے ساتھ جنگ کا اعادہ کرو گے تو ہم تمہارے اوپر اس کی فتح کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمیعت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی ہی زیادہ ہو اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اِنَّ کے کسرہ کے ساتھ استیناف کی صورت میں اور فتحہ کے ساتھ لام کی تقدیر کی صورت میں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اذیُغَشِّیْکُم، یہ اذکر فعل محذوف کا ظرف ہے یا سابق اذ یَعِد کم کا بدل ہے۔
قولہ : اَمَنًا، اَمَنَةً کی تفسیر اَمَنًا سے کرکے اشارہ کردیا کہ اَمَنَةً مصدر ہے یقال اَمِنةً وأمَانَةً ، نہ کہ جمع جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، اور اَمَنَةً یُغَشِّکُمْ کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے سکون کے لئے تم پر غنودگی طاری کررہا تھا۔
قولہ : مِنْہُ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔
قولہ : بہ ای بالمائ . قولہ : ان تَسُوْخَ ای مِن اَنْ رسوخَ ، ای تدخُلَ.
قولہ : لَہ \&.
سوال : مفسرّ علاّم نے لَہ \& کیوں مقدر مانا ؟
جواب : مَنْ مبتداء متضمن بمعنی شرط ہے اور یشاققِ اللہ ورسولَہ \& فان اللہ شدید العقاب، جملہ ہو کر مبتداء کی خبر ہے، اور خبر جب جملہ ہوتی ہے تو ضمیر عائد کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو کہ یہاں نہیں ہے، اسی لئے مفسرّعلاّم نے لَہ \& ضمیر کو مقدر مانا ہے۔
قولہ : العَذَابُ ، ذٰلکم مبتداء العذاب اس کی خبر محذوف، مفسرّ علاّم نے العذابُ محذوف مان کع اسی ترکیب کی طرف اشارہ کیا ہے، اور اسم اشارہ ذالکم، کو مبتداء محذوف کی خبر بھی قرار دیا جاسکتا ہے ای العذب ذالکم، لہٰذا ذالکم فذوقوہُ ، میں انشاء کے خبر واقع ہونے کا اعتراض ختم ہوگیا۔
قولہ : فذوْقُوْہُ ، فاء شرطیہ ہے، ذوقوہُ ، شرطِ محذوف کی جزاء ہے ای ان کان کذب فذوقوہُ.
قولہ : وَاَنَّ الکفرین، اس کا عطف ذلک پر ہے، اور واعلموا مقدر کی وجہ سے منصوب بھی ہوسکتا ہے۔
قولہ : زَحْفًا، (ف) کا مصدر ہے بھیڑ کی وجہ سے آہستہ آہستہ چلنا، بچہ کی طرح سرکنا۔
قولہ : مُتَحَرِّفًَا، متعطفًا، پلٹ کر حملہ کرنا۔ (الی الکرِّ بعد الفرِّ )
قولہ : مُتَحَیِّزًا، (تفعّل) سے اسم فاعل، مڑکر اپنی جماعت کی طرف آنیوالا تاکہ ساتھیوں کی مدد لیکر دوبارہ حملہ کرسکے، اصل مادہ حَوْز ہے۔
قولہ : یَسْتَنْجِدُوْا، اِستنجاد مدد طلب کرنا۔ قولہ : ھِیَ مخصوص بالذم ہے۔
قولہ : فلَمْ تَقْتُلُوْ ھم، فاء جزائیہ یہ شرط محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے، اِن افتخرتم بقتلھم فانتم لم تقتلو ھم .
قولہ : لِیُبلیِ ، ای یعطی اللہ تعالیٰ المؤمنین اعطاء حسنًا .
قولہ : حَق، اس میں اشارہ ہے کہ، ذالکم الابلائ، مبتداء ہے حق خبر محذوف ہے۔
تفسیر وتشریح
اِذْ یُغَشِّیْکُمْ النُعاسَ جیسا کہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ قریشی لشکر نے بدر پہلے پہنچ کر جنگی اعتبار سے بہتر جگہ منتخب کرلی تھی اور پانی کے چشمہ پر قابض ہوگئے غرضیکہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے قریشی لشکر کو فوقیت حاصل تھی تعداد کے اعتبار سے مسلمانوں کی بہ نسبت تین گنے نیز آلات حرب کے اعتبار سے نہایت مضبوط غرضیکہ وہ لوگ ظاہری اسباب کے اعتبار سے مطمئن تھے، ادھر اسلامی لشکر کا یہ حال تھا کہ تعداد کے اعتبار سے دشمن کے مقابلہ میں ایک تہائی سواری کی یہ حالت کہ کل دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے، اور چند زرہیں، موقع کے لحاظ سے بھی کوئی اطمینان بخش جگہ نہ تھی ریگستانی نشیبی علاقہ جس میں انسانوں اور جانروں کا چلنا پھرنا دشوار، گردوغبار کی مصیبت الگ پانی کی قلت، پینے کے لئے پانی ناکافی تھا چہ جائیکہ غسل و طہارت کے لئے۔
حباب بن منذر کا مشورہ : جس مقام پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام فرمایا تھا، حباب بن منذر نے جو کہ اس علاقہ سے واقف تھے اس مقام کو جنگی اعتبار سے نامناسب سمجھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ جو مقام آپنے اختیار فرمایا ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے تو ہمیں کچھ کہنے کا کوئی اختیار نہیں اور اگر محض رائے اور مصلحت کے پیش نظر اختیار فرمایا گیا ہے تو بتائیں آپ نے فرمایا نہیں، یہ کوئی خداوندی نہیں اس میں تغیر و تبدل کیا جاسکتا ہے تب حضرت حباب بن نبذر نے عرض کیا کہ پھر تو یہ بہتر ہے کہ اس مقام سے آگے بڑھکر مکی سرداروں کے لشکر کے قریب ایک پانی کا مقام ہے اس پر قبضہ کرلیا جائے، وہاں ہمیں افراط کے ساتھ پانی مل جائیگا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مشورہ کو قبول فرمالیا اور وہاں جاکر پانی پر قبضہ کیا ایک حوض پانی کے لئے بنا کر اس میں پانی کا ذخیرہ جمع کرلیا۔ (احسن التفاسیر)
اس کام سے مطمئن ہونے کے بعد حضرت سعد بن معاذ کے مشورہ سے آپ کے لئے ایک پہاڑی پر جہاں سے پورا میدان جنگ نظر آتا تھا ایک عریش (چھیر) بنادیا گیا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے یار غار حضرت صدیق اکبر رات بھر مشغول دعاء رہے۔
میدان بدر میں صحابہ پر غنودگی : یہ اس رات کا واقعہ ہے جس کی صبح کو بدر کی لڑائی پیش آئی اسی رات کو باران رحمت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی، اس بارش سے تین فائدے ہوئے ایک یہ کہ مسلمانوں کو پانی کافی مقدار میں مل گیا مسلمانوں کی تکلیف سے نجات ملی دوسرے یہ کہ ریت جم کر چلنے پھرنے کے قابل مشرکین کا لشکر چونکہ نشیب کی طرف تھا اسلئے وہاں کیچڑ اور پھسلن ہوگئی جس کی وجہ سے بارش قریشی لشکر کے لئے زحمت ثابت ہوئی۔
شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست : شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست سے مراد ہر اس اور گھبراہت کی وہ کیفیت تھی جس میں مسلمان ابتدئً مبتلا تھے اور قسم قسم کے حیالات ان کے دلوں میں آرہے تھے، دشمن اپنی تعداد، تیاری نیز جنگی اعتبار سے بہتر مقام پر فائز اور قابض ان سب باتوں کے پیش نظر مسلمانوں کے دلوں میں حیالات اور ساوس کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا اور اس پر طرہ یہ ہوا کہ بعض مسلمانوں کو غسل کی حاجت ہوگئی جس کی وجہ سے فجر کی نماز حالت جنابت میں پڑھنی پڑی اس وقت شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال کر شکوت و شبہات پیدا کردیئے کہ تم سمجھتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے نبی ہیں اور تم اللہ کے محبوب اور دوست ہو حالانکہ تم بےوضو اور جنابت کی حالت میں نماز پڑھ رہے ہو اگر تم حق پر ہوتے تو پھر ان سب پریشانیوں کا کیا سبب ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایسی زور دار بارش عطا فرمائی کہ وادی بہہ پڑی۔ (فتح القدیر شوکانی عن ابن عباس)
ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کا ذکر سابقہ آیت میں گذر چکا ہے اس آیت میں مسلمانوں پر غنودگی طاری کرنے کا ذکر ہے اس غنودگی کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو طبعی خوف و ہراس تھا وہ سب جاتا رہا تعب وتکان ختم ہوگئی جس کی وجہ سے اطمینان اور کامیابی کا پختہ یقین حاصل ہوگیا۔
نکتہ : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور حضرت عنداللہ بن عباس (رض) کا قول ہے کہ جنگ میں نیند اللہ کی طرف سے امن ہے اور نماز میں اونگھنا شیطان کا وسوسہ ہے۔
فائدہ : سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ احد کے میدان میں بھی لشکر اسلام پر غنودگی طاری کردی گئی تھی لیکن وہ غنودگی لڑائی بگڑ جانے کا رنج و غم رفع کرنے کے لئے تھی اور بدر میں لڑائی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لشکر اسلام پر غنودگی طاری کرکے دشمنوں کی تعداد کے زیادہ ہونے کا خوف اور شکست کھا جانے کا اندیشہ نیز شیطانی وسوسے سب جاتے رہے۔
10 Tafsir as-Saadi
اس کی فتح و نصرت اور تمہاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کردی﴿إِذْ يُغَشِّيكُمُ﴾ ” جو تمہیں ڈھانپ رہی تھی۔“ یعنی تمہارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ أَمَنَةً ﴾تمہارے لئے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی، تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمہیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمہاری تطہیر کرے۔﴿ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ﴾ ” اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے۔“ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ﴾” اور جما دے اس کے ذریعے سے تمہارے قدم“ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
11 Mufti Taqi Usmani
yaad kero jab tum per say ghabrahat door kernay kay liye woh apney hukum say tum per ghunoodgi taari ker-raha tha , aur tum per aasman say paani barsa raha tha , takay uss kay zariye tumhen pak keray , tum say shetan ki gandagi door keray , tumharay dilon ki daahrus bandhaye , aur uss kay zariye ( tumharay ) paon achi tarah jama dey .
12 Tafsir Ibn Kathir
تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔
اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پرشوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت ( ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰهُنَا ۭقُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِھِمْ ۚ وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ\015\04 ) 3 ۔ آل عمران :154) ، یعنی پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ حضرت ابو طلحہ (رض) کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آگئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ حضرت علی (رض) کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی حضرت مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاگ رہے تھے آپ ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔ یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہوگئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر کے ساتھ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر حضرت صدیق اکبر سے فرمایا خوش ہو یہ ہیں جبرائیل (علیہ السلام) گرد آلود پھر آیت قرآنی (سیھزم الجمع ویولون الدبر) پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہوگئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہوگئی۔ مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کرلی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہوگیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہوگئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آگئی پانچ سو فرشتے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی ما تحتی میں اور پانچ سو حضرت میکائیل کی ما تحتی میں۔ مشہور یہ ہے کہ آپ جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حضرت حباب بن منذر (رض) نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کرلیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ نے یہی کیا بھی۔ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ نے اس وقت حضرت جبرائیل سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہوگئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہوگیا۔ کیچڑ اور پھسلن ہوگئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہوگیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہوگئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہوگئی تھی ثابت قدمی میسر ہوچکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہوگئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہوگئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کرلو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہوگئے دل مطمئن ہوگئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت (عالیھم ثیاب سندس خضر الخ) ، ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہوجائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہوجائے اور حملے میں استقامت پیدا ہوجائے واللہ اعلم۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔ کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بددلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کردیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو ، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کردو۔ ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے چناچہ اور جگہ ہے آیت (فضرب الرقاب) گردنین مارو۔ حضور فرماتے ہیں میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ امام ابن جرید فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہوسکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا آپ نے پڑھ دیا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے پورا شعر پڑھ دیا۔ آپ کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ کے لائق۔ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ بنان جمع ہے بنانتہ کی۔ عربی شعروں میں بنانہ کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو بنان کہتے ہیں۔ اوزاعی کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کرلو پھر نہ مارنا۔ ابو جہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کرلو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چناچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کردیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے ؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے ؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند وبالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ اے کافرو ! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔