اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (راہِ خدا میں گھر بار اور وطن قربان کر دینے والوں کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی، وہی لوگ حقیقت میں سچے مسلمان ہیں، ان ہی کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے،
English Sahih:
But those who have believed and emigrated and fought in the cause of Allah and those who gave shelter and aided – it is they who are the believers, truly. For them is forgiveness and noble provision.
1 Abul A'ala Maududi
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے
2 Ahmed Raza Khan
اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی
3 Ahmed Ali
اور جو لوگ ایمان لائے اوراپنے گھر چھوڑے اور الله کی راہ میں لڑے اورجن لوگوں نے انہیں جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے
4 Ahsanul Bayan
جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد پہنچائی۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی (١)۔
٧٤۔١ یہ مہاجرین و انصار کے انہی دو گروہوں کا تذکرہ ہے، جو پہلے بھی گزرا ہے۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر ان کی فضیلت کے سلسلے میں ہے۔ جب کہ پہلے ان کا ذکر آپس میں ایک دوسرے کی حمایت و نصرت کی وجہ بیان کرنے کے لئے تھا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے
6 Muhammad Junagarhi
جو لوگ ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور اللہ کی راه میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناه دی اور مدد پہنچائی، یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی
7 Muhammad Hussain Najafi
جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور امداد کی یہی لوگ سچے مؤمن ہیں۔ ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کیا اور ہجرت کی اور راسِ خدا میں جہاد کیا اور پناہ دی اور نصرت کی وہی درحقیقت واقعی مومن ہیں اور ان ہی کے لئے مغفرت اور باعزّت رزق ہے
9 Tafsir Jalalayn
اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے۔ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لئے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ والذین آمنو ........، مہاجر و انصار کے علاوہ یہ تیسرے فریق کا ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمان تو ہوگئے مگر ہجرت نہیں کی، مہاجر اور غیر مہاجر کے مابین مالی وارثت جاری نہ ہوگی، البتہ ہجرت کرنے کے بعد آپس میں مالی وارثت جاری ہوگی ہجرت کا وجود گو بعد فتح مکہ باقی نہیں رہا، تاہم دارلکفر سے ہجرت کرنا، ہمیشہ اولی اور موجب اجر ہے وقد کانت الھجرة فرضًا حین ھاجر النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الی ان فتح النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکة . (حصاص، ماجدی)
10 Tafsir as-Saadi
گزشتہ آیات میں مہاجرین و انصار کے رشتہ موالات کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کی مدح اور ثواب کا ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا : ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا﴾ ” اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی“ یعنی مہاجرین و انصار ﴿ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ﴾ یعنی وہی سچے مومن ہیں کیونکہ انہوں نے ہجرت، نصرت دین، ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق ہے۔ ﴿لَّهُم مَّغْفِرَةٌ﴾ ” ان کے لئے مغفرت۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان کی برائیاں محو کردی جائیں اور ان کی لغزشیں ختم کردی جائیں گی ﴿وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾ ” اور عزت کی روزی“ یعنی کے لئے ان کی طرف سے نعمتوں بھری جنتوں میں خیر کثیر ہے۔ بسا اوقات اس دنیا ہی میں انہیں بہت جلد ثواب عطا کردیا جاتا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل مطمئن ہوتے ہیں۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur jo log emaan ley aaye , aur unhon ney hijrat ki , aur Allah kay raastay mein jihad kiya , woh aur jinhon ney unhen abad kiya , aur unn ki madad ki , woh sabb sahih maani mein momin hain . aesay log maghfirat aur ba-izzat rizq kay mustahiq hain .
12 Tafsir Ibn Kathir
مہاجر اور انصار میں وحدت مومنوں کا دنیوی حکم ذکر فرما کر اب آخرت کا حال بیان فرما رہا ہے ان کے ایمان کی سچائی ظاہر کر رہا ہے جیسے کہ سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے انہیں بخشش ملے گی ان کے گناہ معاف ہوں گے انہیں عزت کی پاک روزی ملے گی جو برکت والی ہمیشگی والی طیب و طاہر ہوگی قسم قسم کی لذیذ عمدہ اور نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ ان کی اتباع کرنے والے ایمان و عمل صالح میں ان کا ساتھ دینے والے آخرت میں بھی درجوں میں ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔ ( وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ\010\00 ) 9 ۔ التوبہ :100) اور ( وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 10ۧ) 59 ۔ الحشر :10) میں ہے۔ متفق علیہ بلکہ متواتر حدیث میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے جو کسی قوم سے محبت رکھے وہ ان میں سے ہی ہے۔ ایک روایت میں ہے اس کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا۔ مسند احمد کی حدیث گذر چکی ہے کہ مہاجر و انصار آپس میں ایک دوسری کے ولی ہیں فتح مکہ کے بعد مسلمان قریشی اور ثقیف کے آزاد شدہ آپس میں ایک ہیں، قیامت تک یہ سب آپس میں ولی ہیں۔ پھر اولو الارحام کا بیان ہوا یہاں ان سے مراد وہی قرابت دار نہیں جو علماء فرائض کے نزدیک اس نام سے یاد کئے جاتے ہیں یعنی جن کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور جو عصبہ بھی ہوں جیسے خالہ ماموں پھوپھی تو اسے نواسیاں بھانجے بھانجیاں وغیرہ۔ بعض کا یہی خیال ہے آیت سے حجت پکڑتے ہیں اور اسے اس بارے میں صراحت والی بتاتے ہیں۔ یہ نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے تمام قرابت داروں کو شامل ہے جیسے کہ ابن عباس مجاہد عکرمہ حسن قتادہ وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ ناسخ ہے آپس کی قسموں پر وارث بننے کی اور بھائی چارے پر وارث بننے کی جو پہلے دستور تھا پس یہ علماء فرائض کے ذوی الارحام کو شامل ہوگی خاص نام کے ساتھ۔ اور جو انہیں وارث نہیں بناتے ان کے پاس کئی دلیلیں ہیں سب سے قوی یہ حدیث ہے کہ اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دلوادیا ہے پس کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بھی حقدار ہوتے تو ان کے بھی حصے مقرر ہوجاتے جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں واللہ اعلم۔