Skip to main content

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ

فَلَآ
پس نہیں
أُقْسِمُ
میں قسم کھاتا ہوں
بِٱلْخُنَّسِ
پیچھے ہٹنے والے کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو قسم ہے ان کی جو الٹے پھریں،

احمد علی Ahmed Ali

پس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تو نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو پلٹ جانے والے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تو میں قَسم کھاتا ہوں ان (آسمانی کرّوں) کی جو (ظاہر ہونے کے بعد) پیچھے ہٹ جاتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ستارے، نیل گائے اور ہرن
حضرت عمرو بن حریث (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سورة کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اس نماز میں میں بھی مقتدیوں میں شامل تھا (مسلم) یہ ستاروں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو دن کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی چھپ جاتے ہیں اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں حضرت علی (رض) ہی فرماتے ہیں اور بھی صحابہ تابعین وغیرہ سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے بعض ائمہ نے فرمایا ہے طلوع کے وقت ستاروں کو خنس کہا جاتا ہے اور اپنی اپنی جگہ پر انہیں جوار کہا جاتا ہے اور چھپ جانے کے وقت انہیں کنس کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے اس سے مراد جنگلی گائے ہے یہ بھی مروی ہے کہ مراد ہرن ہے۔ ابراہیم نے حضرت مجاہد سے اس کے معنی پوچھے تو حضرت مجاہد نے فرمایا کہ ہم نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ستارے ہیں۔ انہوں نے پھر سوال کیا کہ جو تم نے سنا ہو وہ کہو تو فرمایا ہم سنتے ہیں کہ اس سے مراد نیل گائے ہے جبکہ وہ اپنی جگہ چھپ جاتے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا وہ مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں جیسے حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اسفل کو اعلیٰ اور اعلی کو اسفل کا ضامن بنایا امام ابن جریر نے اس میں سے کسی کی تعبین نہیں کی اور فرمایا ہے ممکن ہے تینوں چیزیں مراد ہوں یعنی ستارے نیل گائے اور ہرن۔ عسعس کے معنی ہیں اندھیری والی ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی اور لوگوں کو ڈھانپ لیا اور جانے لگی۔ صبح کی نماز کے وقت حضرت علی ایک مرتبہ نکلے اور فرمانے لگے کہ وتر کے بارے میں پوچھنے والے کہاں ہیں ؟ پھر یہ آیت پڑھی۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ رات جب جانے لگے کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب صبح چمکنے لگے، شاعروں نے عسعس کو ادبر کے معنی میں باندھا ہے میرے نزدیک ٹھیک معنی یہ ہیں کہ قسم ہے رات کی جب وہ آئے اور اندھیرا پھیلائے اور قسم ہے دن کی جب وہ آئے اور روشنی پھیلائے جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۝ ۙ ) 92 ۔ اللیل ;1) اور جگہ ہے آیت ( وَالضُّحٰى ۝ ۙ ) 93 ۔ الضحی ;1) اور جگہ ہے آیت ( فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ۭذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 96؀) 6 ۔ الانعام ;96) اور بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں مطلب سب کا یکساں ہے، ہاں بیشک اس لفظ کے معنی پیچھے ہٹنے کے ہی ہیں۔ علماء اصول نے فرمایا ہے کہ یہ لفظ آگے آنے اور پیچھے جانے کے دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ اس بناء پر دونوں معنی ٹھیک ہوسکتے ہیں واللہ اعلم، اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ طلوع ہو اور روشنی کے ساتھ آئے۔ پھر ان قسموں کے بعد فرمایا ہے کہ یہ قرآن ایک بزرگ، شریف، پاکیزہ رو، خوش منظر فرشتے کا کلام ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا، وہ قوت والے ہیں جیسے کہ اور جگہ ہے آیت ( عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى ۝ ۙ ) 53 ۔ النجم ;5) یعنی سخت مضبوط اور سخت پکڑ اور فعل والا فرشتہ، وہ اللہ عز و جل کے پاس جو عرش والا ہے بلند پایہ اور ذی مرتبہ ہے۔ وہ نور کے ستر پردوں میں جاسکتے ہیں اور انہیں عام اجازت ہے۔ ان کی بات وہاں سنی جاتی ہے برتر فرشتے ان کے فرمانبردار ہیں، آسمانوں میں ان کی سرداری ہے۔ کہ وہ فرشتے ان کے تابع فرمان ہیں۔ وہ اس پیغام رسانی پر مقرر ہیں کہ اللہ کا کلام اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچائیں یہ فرشتے اللہ کے امین ہیں مطلب یہ ہے کہ فرشتوں میں سے جو اس رسالت پر مقرر ہیں وہ بھی پاک صاف ہیں اور انسانوں میں جو رسول مقرر ہیں وہ بھی پاک اور برتر ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرمایا، تمہارے ساتھی یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوانے نہیں، یہ پیغمبر اس فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں بھی دیکھ چکے ہیں جبکہ وہ اپنے چھ سو پروں سمیت ظاہر ہوئے تھے یہ واقعہ بطحا کا ہے اور یہ پہلی مرتبہ کا دیکھنا تھا آسمان کے کھلے کناروں پر یہ دیدار جبرائیل ہوا تھا، اسی کا بیان اس آیت میں ہے آیت ( عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى ۝ ۙ ) 53 ۔ النجم ;5) یعنی انہیں ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے قوی ہے، جو اصلی صورت پر آسمان کے بلند وبالا کناروں پر ظاہر ہوا تھا پھر وہ نزدیک آیا اور بہت قریب آگیا صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم پھر جو وحی اللہ نے اپنے بندے پر نازل کرنی چاہی نازل فرمائی، اس آیت کی تفسیر سورة النجم میں گزر چکی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت معراج سے پہلے اتری ہے اس لیے کہ اس میں صرف پہلی مرتبہ کا دیکھنا ذکر ہوا ہے اور دوبارہ کا دیکھنا اس آیت میں مذکور ہے۔ آیت ( وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۝ ۙ ) 53 ۔ النجم ;13) یعنی انہوں نے اس کو ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جبکہ اس درخت سدرہ کو ایک عجیب و غریب چیز چھپائے ہوئی تھی۔ اس آیت میں دوسری مرتبہ کے دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ سورت واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی تھی۔ بضنینٍ کی دوسری قرأت بظنینٍ بھی مروی ہے۔ یعنی ان پر کوئی تہمت نہیں اور ضاد سے جب پڑھو تو معنی ہوں گے یہ بخیل نہیں ہیں بلکہ ہر شخص کو جو غیب کی باتیں آپ کو اللہ کی طرف سے معلوم کرائی جاتی ہیں یہ سکھا دیا کرتے ہیں یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں، پس آپ نے نہ تو تبلیغ احکام میں کمی کی، نہ تہمت لگی، یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں، نہ شیطان اسے لے سکے نہ اس کے مطلب کی یہ چیز نہ اس کے قابل جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ\021\00 ) 26 ۔ الشعراء ;210) اسے لیکر شیطان اترے نہ انہیں یہ لائق ہے نہ اس کی انہیں طاقت ہے وہ تو اس کے سننے کے بھی محروم اور دور ہے۔ پھر فرمایا تم کہاں جا رہے ہو یعنی قرآن کی حقانیت اس کی صداقت ظاہر ہو چکنے کے بعد بھی تم کیوں اسے جھٹلا رہے ہو ؟ تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں ؟ حضرت ابو بکرصدیق کے پاس جب بنو حنفیہ قبیلے کے لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا مسلمیہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا ہے جسے تم آج تک مانتے رہے اس نے جو کلام گھڑ رکھا ہے ذرا اسے تو سناؤ، جب انہوں نے سنایا تو دیکھا کہ نہایت رکیک الفاظ ہیں بلکہ بکواس محض ہے تو آپ نے فرمایا تمہاری عقلیں کہاں جاتی رہیں ؟ ذرا تو سوچو کہ ایک فضول بکواس کو تم کلام اللہ سے اور اطاعت اللہ سے کہاں بھاگ رہے ہو ؟ پھر فرمایا یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے پند و نصیحت ہے۔ ہر ایک ہدایت کے طالب کو چاہیے کہ اس قرآن کا عامل بن جائے یہی نجات اور ہدایت کا کفیل ہے، اسکے سوا دوسرے کے کلام میں ہدایت نہیں، تمہاری چاہتیں کام نہیں آتیں کہ جو چاہے ہدایت پالے اور جو چاہے گمراہ ہوجائے بلکہ یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے وہ رب العالمین جو چاہے کرتا ہے اسی کی چاہت چلتی ہے، اس سے اگلی آیت کو سن کر ابو جہل نے کہا تھا کہ پھر تو ہدایت و ضلالت ہمارے بس کی بات ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری، سورة تکویر کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔